صفحہ اول

سوشل میڈیا

بدھ، 25 مئی، 2022

عملی سوچ کا فقدان کیوں ہے؟



عملی سوچ کا فقدان کیوں ہے؟
روزمرہ زندگی کے کچھ رویے پریشان کن ہیں۔ جیسے عام سی باتوں کو نہ سمجھنا، گومگو کی کیفیت، شک کرنا، مشاھدے کی کمی اور ذاتی ذمے داری کا فقدان وغیرہ وغیرہ۔ سمجھ کا تعلق حواس خمسہ کی بہتر کارکردگی میں پوشیدہ ہے۔ ہماری پانچ ظاہری حسیں ہیں۔ جیسے باصرہ، سامعہ، لامسہ، ذائقہ، شامہ وغیرہ۔ باصرہ کا کام دیکھنا یے، سامعہ کا سننا، لامسہ کا چھو نے کے وسیلے کا اندازہ کرنا، ذائقہ کا چکھ کر، شامہ کا سونگھ کر فریضہ سرانجام دینا یے۔ جبکہ باطنی حواس خمسہ میں واہمہ، مصورہ، متخیلہ، حافظہ اور حس مشترکہ وغیرہ آجاتے ہیں۔ چھٹی حس کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے جو جو غیرمعمولی خیال کی قوت تصور کی جاتی ہے۔
ادراک/ سمجھ کے دو حوالے ہیں، یعنی عام سمجھ اور غیر معمولی سمجھ۔ عام سمجھ یا کامن سینس عملی سوچ کا مجموعہ یے جبکہ غیرمعمولی احساس کا تعلق باطنی حواس خمسہ یے۔ یعنی ایک ظاھری آنکھ ہے جو ماحول کا مشاہدہ کرتی ہے اور دوسری باطن کی آنکھ، جس کے ذریعے غیر محسوس رویوں کا ادراک کیا جاتا یے۔ جسے وجدانی صلاحیت کہتے ہیں۔ وجدانی کیفیت کا تعلق حواس خمسہ کی فعال کارکردگی سے ہے۔ وجدانی صلاحیت انسان کی صحیح رخ پر راہنمائی کرنے کے ساتھ، اسے ممکنہ خطرے سے آگاہ رکھتی ہے۔
عام سمجھ عملی طور پر پرکھنے کی صلاحیت یا فیصلے کی قوت ہے، جس کے ذریعے روز مرہ کے معاملات کو سمجھداری کے ساتھ برتا جاتا یے۔ یہ سمجھ، حسیاتی فعالیت اور مشاھدے کی دین ہے۔ سوچ کی کاملیت کے بعد وجدانی صلاحیت اجاگر ہوتی ہے۔ جبکہ ذہنی مغالطے یا ابہام، روزمرہ کے معاملات میں بگاڑ پیدا کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر غلط فھمی، خوش فھمی، واہمے، پرفریب خیال، شک و بے یقینی وغیرہ عام سمجھ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ منفی رویے انسان کی زندگی میں بے

اتوار، 15 مئی، 2022

لمحہ موجود میں زندہ رہنا سیکھیے


 

لمحہ موجود میں زندہ رہنا سیکھیے
وقت ماضی، حال اور مستقبل میں منقسم ہے۔ ماضی ایک تجربہ ہے، جس سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ گزرا ہوا وقت دوبارہ پلٹ کر نہیں آتا۔ لیکن وہ یادوں کی صورت ذہن کے گوشے میں محفوظ رہتا ہے۔ ہم جس وقت چاہیں ماضی کے کسی بھی لمحے کو دوبارہ اپنے ذہن میں زندہ کر دیتے ہیں۔ حال وقت کی ایک اہم کڑی ہے۔ جو لمحے کا سچ ہے۔ جو سامنے ہے وہ حقیقت ہے۔ مستقبل کا پودا ہی حال میں پنپتا ہے۔ گویا کہ حال ماضی اور مستقبل سے کسی صورت علیحدہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن حال کی اپنی الگ اہمیت ہے۔ حال کے لمحہ موجود میں زندگی رواں رہتی ہے۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ ہم حال میں رہتے ہوئے بھی غیر موجود رہتے ہیں۔ کبھی ہم ماضی کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے ہیں تو کبھی مستقبل کی منصوبہ بندی میں حال کو بھول جاتے ہیں۔
درحقیقت ہمارے خوف، پریشانیاں اور مسائل زیادہ تر ذہن کی پیداوار ہوتے ہیں جن کی بنیاد ماضی فراہم کرتا ہے۔ زیادہ تر سوچ قیاس آرائی پر مبنی ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم۔ رویوں غیر حقیقی انداز سے تشریح کرتے ہیں۔ کسی بھی واقعے یا عمل کا جائزہ غیر جانبدار ہو کے نہیں لیا جاتا بلکہ اس معاملے کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے دن پر فریب خیال اور قیاس آرائی پر مبنی سوچ کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ذہن منتشر اور خیال مبہم ہو تو وقت کے گزرنے کا اندازہ نہیں ہوتا۔ جیسے آج کل کہا جاتا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان حال میں موجود نہیں ہے بلکہ وہ اپنی ذات سے بھی کوسوں دور کھڑا ہے۔
حال میں موجود رہنے والوں کا وقت اچھا اور مزے سے گزرتا ہے۔ پرفریب خیال کی دو قسمیں ہیں۔
1۔ iIlusion (واہمے ) جو حقائق کے بگاڑ کی صورت ہے۔ جو شخصی انتشار پیدا کرتا ہے اور وقت کو غیر منظم کر دیتا ہے۔ جیسے سراب کو پانی سمجھنا وغیرہ۔ واہمہ ایک پرفریب خیال ہے، جس کی اصل ہیئت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ 2۔ پرفریب خیال کی دوسری قسم Delusion (مغالطے ) کی ہے۔ یہ بھی گمان کی ایک قسم ہے لیکن اس کی نوعیت مختلف ہے جیسے اندھیرے میں درخت کو بھوت سمجھ لینا۔ یا رسی کو سانپ دکھائی دینا۔ یہ غلط تصور ہے جو چیزوں کی اصلی شناخت کے برعکس قائم کیا جاتا ہے۔

پیر، 9 مئی، 2022

آنسو کی قیمت


 

آنسو کی قیمت
کسی کو اسکی ذات اور لباس کی وجہ سے حقیر نہ جا نو کیونکہ تمہیں دینے والا اور اسے دینے والا ایک ہی اللہ ہے وہ اسے عطا بھی کر سکتا ہے اور آپ سے لے بھی سکتا ہے۔ کسی کا ظرف دیکھنا ہو تو اسے عزت دو۔ فطرت دیکھنا ہو تو اسے آزادی دو۔ نیت دیکھنی ہو تو اسے قرض دو خصلت دیکھنی ہو تو اس کے ساتھ کھانا کھا ؤ۔ صبر دیکھنا ہو تو اس پر تنقید کر کے دیکھ لو۔ خلوص دیکھنا ہو تو اس سے مشورہ کر لو۔ تم کسی کے ساتھ بھلائی کرو تمہیں اس کا بدلہ برائی کی صورت میں ملے تو سمجھ لو کہ تمہاری نیکی قبول ہو گئی۔ جو بہت اچھا لگے اسے بہت کم ملا کر و۔
جو انتہا سے زیادہ اچھا لگے اسے صرف دیکھا کرو اور جو دل میں سما جا اسے صرف یاد کیا کرو کیونکہ جو آپ کے جتنا قریب ہو تا ہے دنیا اسے اتنا ہی دور کر دیتی ہے۔ جب تمہارے پاس رزق تمہاری ضروریات سے زیادہ ہو تو فوراً سمجھ جا نا کہ یہ کسی کا حق ہے جو تمہارے پاس اس کی امانت ہے۔ تنگدستی میں سخاوت کر نا غصے میں سچ بو لنا اور طاقت کے ہو تے ہوئے معاف کر نا افضل ترین نیکیوں میں سے ہیں۔ ساری دنیا کے سارے لوگ تجھے اپنے فائدے کے لیے چاہتے ہیں صرف تیرا اللہ ہی تجھے تیرے فائدے کے لیے چاہتا ہے۔ دکھ میں کبھی پچھتاوے کے آنسو نہ بہاؤ کیونکہ تم
وہ خوش نصیب ہو جسے اللہ نے آزما ئش کے قابل سمجھا۔ ہمیشہ اخلاق سے بات کر و کیونکہ انسا ن پر سب سے زیادہ مصیبتیں اس کی اپنی زبان کی وجہ سے آ تی ہیں۔ آنسو کا ہر قطرہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ مہنگا ہے لیکن کوئی اس کی قیمت اس وقت تک نہیں جان سکتا جب تک وہ اس کی اپنی آنکھ سے نہ نکلے حضرت علی سے کسی نے پو چھا کہ آپ کی تلوار تو بہت تیز ہے مگر آپ کی سواری سست ہے کیا ہی اچھا ہو اگر آپ کی سواری بھی تیز رکھ لیں حضرت علی ؓ نے فر ما یا تیز سواری کی ضرورت دو قسم کے لوگوں کو ہو تی ہے ایک وہ جو میدان سے ڈر کے فرار ہو نا چاہتے ہیں

اتوار، 8 مئی، 2022

اکیلے جینا سیکھو دنیا کسی کی نہیں ہےدوست۔


 

اکیلے جینا سیکھو دنیا کسی کی نہیں ہےدوست۔
اکیلے رہنا ،اکیلے لڑنا ،اکیلے جینا سیکھو دنیا کسی کی نہیں ہے ۔منافقت کی ہمدردی دشمن کی تلوار سے زیادہ خطرناک ہے۔ہر شخص سچا دوست تلاش کرتا ہے مگر خود سچا دوست بننے کی کوشش کوئی نہیں کرتا۔میں نے غلطی کی اس پاک رب نے پردہ ڈالا میں نے سجدہ کیا اس پاک رب نے تھام لیا۔دوسروں کے ساتھ زیادہ تو وہ نیک سلوک کرتے ہیں جو خود بھی مشکل وقت گزار چکے ہیں۔سب سے اچھی زندگی وہ بسر کرتے ہیں جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے پیارے رب کے سوا کسی اور پر بھروسہ نہیں کرتے۔یاد رکھو برائی ہنستی ہوئی آتی ہے اور نیکی روتی ہوئی جاتی ہے ۔اخلاق وہ چیز ہے جس کی کوئی قیمت نہیں دینی پڑتی ہاں مگراس سے ہر انسان خریدا جاسکتا ہے۔بد دعا صرف اخلاق نہیں ہوتے جس کو دکھ د و اس کی آہ بھی بددعا بن جاتی ہے،اور اللہ پاک بہت انصاف کرنے والا ہے۔بانٹنے سے خوشیاں اس طرح بڑھتی ہیں جس طرح زمین میں بویا ہوا بیج پوری فصل بن جاتا ہے۔کبھی کبھی شکایت کرنے سے بہترہے کہ انسان خاموش رہے کیونکہ جب فرق نہیں پڑتا تو شکایت بھی کیسی؟کسی کے ساتھ غلط کر کے اپنی باری کا انتظار ضرور کرنا۔زندگی کبھی کسی کو مفت میں کچھ نہیں سیکھاتی جب کوئی کہتا ہے مجھے زندگی نے یہ سکھایا تو یقین کریں
اس نے اس کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہوگی۔تین چیزیں یاد رکھو :موت ، احسان ،نصیحت۔جواللہ پاک کے دیئے ہوئے رزق کو کافی سمجھے وہ زندگی میں کبھی کسی کا محتاج نہیں ہوتا۔بدزبانی بدکلامی اور فحش گوئی سے آپ نہ صرف اپنا وقار تباہ کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کی بھی توہین کرتے ہیں جنہوں نے آپ کی تربیت کی ۔اللہ پاک آپ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے بنائے ہیں جن میں سے اُس نے ننانوے حصے اپنے پاس رکھ لئے اور ایک حصہ زمین پر نازل کیا۔ ساری مخلوق جو ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے یہ اُسی ایک حصے کی وجہ سے ہے، یہاں تک کہ گھوڑا جو اپنے بچے کے اُوپر سے اپنا پاؤں اُٹھاتا ہے کہ کہیں اُسے تکلیف نہ پہنچے وہ بھی اسی ایک حصے کے باعث ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

ہفتہ، 7 مئی، 2022

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“


 

زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہو تا ہے جس کی کوئی بات جو آپ کو بری نہیں لگتی جس پر کبھی آپ کو غصہ نہیں آ تا، جس سے کبھی آپ ناراض نہیں ہو تے، ناراض ہو نا چاہے تو بھی نہیں ہو سکتے! لقمان حکیم سے پو چھا گیا: کہ کیا کوئی چیز یا لمحہ موت سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہو تا ہے تو حکیم لقمان نے فر ما یا: ہاں جب کوئی شریف انسان کسی مجبوری میں کسی کم ظرف انسان کے آ گے، دست سوال دراز کر ے ! زندگی میں اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو ایک چھوٹا سا اصول اپنا لیجئے۔ آپ کبھی اداس نہیں ہو گے
جو کھو یا اس کا غم نہیں جو پا یا وہ کسی سے کم نہیں،جو نہیں وہ اک خواب ہے جو ہے وہ لا جواب ہے۔دوسروں کے پردے رکھنا سیکھو ان کے عیبوں پر نظر مت رکھو۔ کیونکہ گندگی پر ہمیشہ مکھی ہی بیٹھتی ہے، تتلی نہیں لہٰذا فساد پھیلانے والے مت بنو دوسروں کے گھر اندھے بن کر جاؤ اور بہرے بن کر نکلو! وقت ہمیشہ رک جا تا ہے تحریروں میں تصویروں میں لوگ نکل جا تے ہیں آ گے اپنی اپنی تقدیروں میں! بہترین دنوں کے لیے برے دنوں سے لڑنا پڑتا ہے! ہر بات کو یاد رکھنا اپنے دماغ کا سکون خراب کر نا اور اسے کباڑ خانہ بنا نا ہو تا ہے
اور انسان چلتی پھرتی لاش بن جا تا ہے زندگی کے کچھ مقا مات پر لا پرواہ رہنا سکھئیے۔کیونکہ جس طرح ہر بات کہنے والی نہیں ہو تی بالکل اسی طرح ہر بات سننے والی بھی نہیں ہو تی ! اچھا انسان ریاضی کے صفر کی مانند ہو تا ہے جس کی اپنی کوئی قیمت نہیں ہو تی پر جس کے ساتھ جڑ جا ئے اس کی قیمت دس گنا بڑھا دیتا ہے۔ جس کسی بات کو جواب نہ ملے تو سمجھ جاؤ جواب دے دیا گیاہے ! جب کوئی آزمائش شروع ہو تی ہے تو اس وقت تک ختم نہیں ہو تی ہے جب تک اس سبق کو سیکھا نہ جا ئے جو اس میں پو شیدہ ہے !