صفحہ اول

سوشل میڈیا

ہفتہ، 25 جون، 2022

قربانی کے فضائل و مسائل۔


 قربانی کے فضائل و مسائل۔

عن زید بن ارقم، رضی اللہ عنہ قال قال اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،یا رسول اللہ ما ھذہ الاضاحی قال سنۃ ابیکم إبراهيم قالوا فما لنا فیھا یا رسول اللہ، قال بکل شعرۃ حسنۃ قالوا : فالصوف یا رسول اللہ؟ قال :بکل شعرۃ من الصوف حسنۃ ، رواہ احمد وابن ماجہ،مرقات المفاتيح ج /٣ص/ ٥٧٨- ٥٧٧
ایک موقعہ پر محبوب کبریا سے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا
اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کیا چیز ہے؟
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، تمہارے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، پھر صحابہ کرام نے استفسار کیا، اے اللہ کے پاک رسول! اس میں ہمارے لئے کیا ہے؟
آپ نے جوابا ارشاد فرمایا، اس کے ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ہے، انھوں نے عرض کیا، بھیڑ اور دنبے میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے.؟
آپ نے ارشاد فرمایا :اون کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔
حدیث شریف کے اس ٹکڑے ،،سنۃ ابیکم إبراهيم ،، میں دو باتیں قابل لحاظ ہیں، اول سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو باپ کہا گیا، وہ اسلئے کہ ہمارے ممدوح نبی آخر الزماں کو ان سے نسبا تعلق ہے اور آپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور شریعۃ بھی تعلق ہے اسلئے کہ بہت سی چیزوں میں ہماری شریعت ملت ابراہیمی سے ہم آہنگ ہے ، اور اس میں شبہ نہیں کہ ہر نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے، اس طرح بالواسطہ حضرت خلیل اللہ امت محمدیہ کے باپ ہیں۔
اسلوب ترغیب
اس موقع پر بدون ابیکم کے سنۃ إبراهيم بھی کہا جا سکتا تھا، لیکن نبی الانبیاء محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ،، ابیکم،، کا اضافہ فرمایا ، اس سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ تو تمہارے آباء اجداد کا طریقہ رہا ہے یہ کوئی باہر کی چیز نہیں ہے، اور اس میں شبہ نہیں کہ انسان فطری طور پر اپنے آباء اجداد کی رسوم ورواج پر پوری پابندی کے ساتھ عمل کرتا ہے، بلکہ آسانی سے اسے چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے، دیکھئے کفار مکہ کس قدر مضبوطی کے ساتھ اپنے آبائی رسوم پر گامزن تھے، کہ حق کے واضح ہو چکنے کے بعد بھی وہ اپنے آبائی دین سے دست کش نہ ہو سکے،