اللہ کے محبوب ﷺسے پیار کیوں نہ کیاجائے۔
عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ
النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ
أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِه وَوَلَدِه وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ.متَّفَقٌ عَلَيْهِ
محبت دو وجہوں سے کی جاتی ہے
(١) جمال
(٢)کمال
تو پہلےمیرے نبی کا جمال دیکھو۔
قَالَتْ : اٌم مَعْبَدٍ الخزائيه رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا
’’رَأَیْتُ رَجُلاً :
ظَاہِرَ الْوَضَاءۃِ ،
اَبْلَجَ الْوَجْہِ،
حُاسْنَ الْخَلْقِ
لَمْ تَعِبْہُ ثَجْلَۃٌ
وَ لَمْ تُزْرِیْہِ صَعْلَۃٌ
وَسِیْمٌ قَسِیْمٌ
فِیْ عَیْنَیْہِ دَعْجٌ
وَ فِیْ اَشْفَارِہٖ وَطْفٌ
وَ فِیْ صَوْتِہٖ صَہْلٌ
وَفِیْ لِحْیَتِہٖ کَثَاثَۃٌ
وَ فِیْ عُنُقِہٖ سَطْعٌ
وَسِیْمٌ قَسِیْمٌ
اكحل احور ازَجٌ اَقْرَنُ
وَ اِنْ تَکَلَّمَ عَلاَہُ الْبَہَاء
اِنْ صَمَتَ فَعَلَاه الْوَقَارُ
وکَأَنَّ مَنْطِقَہٗ خَرَزَاتُ نَظْمٍ
یَنحَدَّرْنَ۔
اللہ کیا انداز گفتگو ہے الفاظ کا رزم اور آواز میں میوزک دیکھو
ام معبد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
’’میں نے ایک آدمی دیکھا،
روشن اور کشادہ چہرے والا ،
خوش اخلاق،
متوازن پیٹ،
سر بال بہ تمام و کمال ،
مجسم حسن و جمال،
چمکدار آنکھیں،
گھنی پلکیں،
رعب دار آواز،
لمبی گردن،
گھنی داڑھی،
باریک اور پیوستہ ابرو،
خاموش پُروقار،
گفتگو لؤ لؤئے لالہ،
دور سے دیکھیں تو خوب صورت اور بارونق،
قریب سے دیکھیں تو اور بھی حسین،
شریں کلام
جچے تلے الفاظ
گفتگو گویا موتیوں کی لڑی،
میانہ قد،
نہ طویل القامت کہ اچھا نہ لگے ،
تشریح
ام معبد کہتی ہے ابو معبد ایک شخص آیا تھا مجھے یوں لگا جیسے
چودھویں کا چاند کپڑے پہن کر زمین پر اتر آیا ہوں سبحان اللہ کیا کہنا انتہائی
خوبصورت انتہائی حسین و جمیل پیٹ نکلوا نہیں کہ بدصورت ہو جائے اتنا خوبصورت تھا
کہ سر سے پاؤں تک حسن اسکا کا غلام تھا خوبصورتی اس کی باندی تھی جدھر سے دیکھتی
تھی مجھے حسن ہی حسن نظر آتا تھا جب اس کے چہرے پر دیکھتی تو میری آنکھ نہیں بھرتی
میرا جی چاہتا تھا کہ میں دیکھتی جاؤں دیکھتی جاؤں دیکھتی جاؤں میرا دل نہیں بھرتا
کون ہے وسیم وسیم اس کو کہتے ہیں جس کو دیکھنے سے دل نہ بھرے قسیم جدھر سے دیکھو
حسن ہی حسن ہو اسے کہتے ہیں قسیم اس کی آنکھیں بڑی موٹی احور، ادعج،اشکل، انجل،
ابرج ،احدب ،


