خدا کا سوال؛
بتا کیا کیا تو نے میرے لیے
فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ
اس آیہ کے تناظر میں کہی گئی ایک نظم
جانور پیدا ہوئے تیری وفا کے واسطے
کھیتیاں سرسبز ہیں تیری غذا کے واسطے
چاند سورج اور ستارے ہیں ضیا کے واسطے
سب جہاں تیرے لیے پر تو خدا کے واسطے
کونسی نعمت نہیں ہے ہمارے پاس؟
زندگی، شعور، انسانیت، معاشرت، تہذیب، صحت، تعلیم، والدین، گھر،
روٹی، کپڑا، مکان غرض زندگی کی ہرنعمت سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے۔آسمانوں
اورزمین کو ہمارے لیے اللہ تعالیٰ نے تسخیر کردیا ہے۔کائناتوں کا علم ہمارے سامنے
یوں پھیلادیاگویاہم ہی اس ساری کائنات کے اکیلے وارث ہیں۔
زمامِ لمحہء موجود بس میں رہتی ہے
یہ کائنات میری دسترس میں رہتی ہے
میرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئی
کہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی
حقیقت ہوئی جیسے مجھ پر عیاں
قلم بن گیا ہے خدا کی زباں
صفحہ اول
سوشل میڈیا
منگل، 27 دسمبر، 2022
خدا کا سوال؛ بتا کیا کیا تو نے میرے لیے
بدھ، 30 نومبر، 2022
جلسے جلوس فوائد سےعاری وقتی جوش کےسوا کچھ نہیں۔
جلسے جلوس
فوائد سےعاری وقتی جوش کےسوا کچھ نہیں
(1) چند گھنٹوں کیلئےقوم کا کثیر اموال صرف
(2) آمدورفت میں پیسے اور وقت کا ضیاع
(3) پردہ نشیں ماں بہنوں کو دین کے نام پر گھر سے
باہر
(4) اوباش ناخواندہ شرپسند عناصر کوشرارت کا موقع
(5) اثمھما
اکبر من نفعھما
کے مترادف۔
بالتحقیق ثبوت وشواہد کی روشنی میں میں اس نتیجے پر
پہنچا ہوں کہ مروجہ کانفرنسیں اور جلسے انگریزوں کی دین ہیں ؛ ورنہ انگریزوں کے
ہندوستان آنے سے پہلے مروجہ جلسوں اور کا نفرنسوں کا کوئی تصور نہیں تھا، مساجد
اور خانقاہوں میں علماء کرام وعظ فرماتے تھے، اس سادہ وعظ کا اثر مسلمانوں کے قلب
و دماغ اور اعمال وافعال پر ہفتوں رہتا تھا ۔
لیکن انگریز ھندوستان آئے تو اور چیزوں کے ساتھ وعظ و تقریر میں
بھی دکھاوا اور نمائش آگئی ۔ پھر وعظ مساجد اور خانقاہوں سے نکل کر تقریری محفل
پھرجلسہ واجلاس اور اس کے بعد کانفرنس کی صورت اختیار کر گیا ۔نام کانفرنس رہے یا
جلسہ و اجلاس صورت سب کی ایک ہی رہتی ہے ۔
اخلاص کی تمام تر نور بیزیوں کو بڑے بڑے پوسٹر، اشتھارات اور
القابات لے کر ڈوب جاتے ہیں ۔
مقررین کی دستیابی کے لئے وفد در وفد ملک بھر کے اسفار کئے جاتے
ہیں، تین ماہ پہلے ہی ڈیٹ بک کرائے جاتے ہیں، تاریخیں لینے کے بعد اخراجات کا بل
کنوینر صاحب ادا کرتے ہیں، اور کئی ماہ پہلے سے چندے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے
۔بالآخر وہ وقت بھی آتا ہے،مہمانوں کا ورود ہوتا ہے، متعینہ وقفے میں تقریریں ہوتی
ہیں اور پھر طے شدہ رقومات حاصل کر کے سارے مقررین گھریا کسی دوسری کانفرنس کا
راستہ لیتے ہیں ،خاطر تواضع اچھی ہوئی تو ٹھیک ہے نہیں تو زندگی بھر کے لئے
صلواتیں سنئیے ۔ اور تب منظر یہ ہوتا ہے کہ شامیانے اکھڑ جاتے ہیں ۔منتظمین و رضاکاران
مہینوں اور ہفتوں کے تھکے ماندے کئی دنوں کے لئے بستر پکڑ لیتے
ہیں، کیوں کہ ان کے ذہن میں رہتا ہے کہ اس صدی کا دین کا سب سے بڑا کام انہوں نے
کیا ہے ۔
پورا علاقہ سدھر گیا ہوگا؛ لیکن جب باہر نکلے تو لوگوں کی چہ می
گوئیاں : فلان صاحب فلاں
پر کیچڑ اچھال رہے ہیں فلاں شخص فلاں پر، فلاں کی تقریر اچھی
رہی فلاں کی نہیں ۔عمل کیا کریں گے؟ اور علماء کو ہی سدھارنے میں لگ جاتے ہیں ۔
اس کے بعد جلسہ کے اخراجات کا حساب دیا تو ٹھیک ہے ورنہ منتظمین
جلسہ کی خیر نہیں، بیچاره تہمت و اتھام میں پورے طور سے گھر جاتا ہے ۔
جمعہ، 25 نومبر، 2022
جو کام کہ انسان کا کردار کرے ہے
جو
کام کہ انسان کا کردار کرے ہے
جس قوم کے پاس قرآن جیسی واضح ہدایت، محمدﷺ جیسے ہادی اور صحابہ
کرامؓ اور اولیائے کرام ؒ جیسی آئیڈیل ہستیاں موجود ہوں وہ اس قدر بے عملی اور بے
راہ روی کا شکار کیسے ہو سکتی ہے؟یہ سوال مجھے اکثر پریشان کرتاہے۔ ہمارے ہاں
کتابوں کی کوئی کمی نہیں۔ ہر زبان میں اچھی سے اچھی کتابوں کے تراجم بھی موجود
ہیں۔ جو لوگ بہت زیادہ لکھنا پڑھنا نہیں بھی جانتے وہ جمعہ کے خطبات، محفلِ میلاد
اور مذہبی جلسہ جلوس سے اتنا کچھ تو سن ہی لیتے ہیں کہ بسا اوقات فتویٰ وغیرہ بھی
دینے لگ جاتے ہیں۔ پھر آج کل ملٹی میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا نے تو رہی سہی
کسر بھی پوری کر دی ہے۔ انگلیوں کی ذرا سی جنبش پر دنیا کے بڑے سے بڑے مقرر ہماری
سماعتوں کو پاکیزگی بخشنے کے لیے ہمہ وقت حاضر ہیں۔ واٹس ایپ پر صبح صبح سلام و
دعا کے ساتھ قرآنی آیات، احادیث مبارکہ، اقوال زریں اور قلب و روح کو پاکیزگی عطا
کرننے والے میسجز پابندی کے ساتھ مل جایا کرتے ہیں۔ اخلاقی علوم کا ٹھاٹھیں مارتا
سمندر ہمارے ارد گرد موجود ہے لیکن دوسری طرف عمل کے میدان میں اندھیرا ہی اندھیرا
ہے۔ ہمیں ایسے لوگ شاید ہی کہیں ملیں جن کے پاس بیٹھ کر قلب و نظر کو سکون حاصل
ہو۔ بے چین دل کو قرار میسر ہو۔ جن کا قول و فعل تضاد سے پاک ہو۔ جن کی گفتگو
سماعتوں سے ہوتی ہوئی روح میں اتر جائے۔ جنہیں ہم اپنا آئیڈیل بنا سکیں۔
ایک زمانہ تھا کہ جب نگاہِ مردِ مومن سے تقدیریں بدل جایا کرتی
تھیں۔ اُس وقت نہ تو علم کے اتنے ذرائع تھے اور نہ اس قدر مذہبی جلسے جلوس کی
فراوانی۔ کتابوں کی جگہ مومنین کی صورت میں قرآن و احادیث کی جیتی جاگتی اور چلتی
پھرتی تصویریں ہر جگہ موجود تھیں۔ خانقاہوں کی صورت میں تربیت کے ایسے ادارے موجود
تھے جہاں داخل ہونے کے بعد انسان کی زندگی کا واحد مقصد رضائے خداوندی اور خدمت
خلق ہو جایا کرتا تھا۔ مدارس میں بھی علم کے ساتھ ساتھ تربیت پر خاص توجہ دی جاتی
تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ آج مدارس اور خانقاہیں موجود نہیں ہیں، مدارس اور خانقاہیں
گنتی کے اعتبار سے پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ بلاشبہ ان کی خدمات سے بھی انکار نہیں
کیا جا سکتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مدارس، خانقاہیں اور دینی و ملی ادارے بھی
جدید دور کی مادیت سے متاثر ہوئے ہیں۔ تعلیمی اعتبار سے جہاں ان اداروں میں بہتری
آئی ہے وہیں اخلاقی اعتبار سے گراوٹ بھی آئی ہے
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے نمناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ
ہمارے دین میں علم اور عمل کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے۔
ایک طرف علم کو فرائض میں شامل کر کے اسے ہر مسلمان کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے
وہیں حصولِ علم کے بعد عمل کی ذرا سی کوتاہی پر سخت وعیدیں بھی سنائی گئی ہیں۔ بعض
احادیث میں بہت واضح طور پر ایسے عالموں کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے جو محض نام
و نمود کے لیے علم حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح قرآن و احادیث میں متعدد جگہ قول و فعل
کے تضاد سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ سورۃ الصف میں بہت واضح طور پر فرمایا گیا کہ
: يا ايها الذين امنوا لما تقولون ما لا تفعلون. ’’ائے ایمان والو! وہ بات کیوں
کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ اللہ کے نزدیک بڑی ناپسند بات ہے کہ جو کہو اس کو کرو نہیں۔
‘‘(آیت ۳۔۲(
مسند احمد کی ایک روایت ہے جسے اسامہ بن زیدؓ نے روایت کیا ہے
وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :معراج کی
رات میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے
تھے۔میں نے پوچھاائے جبرئیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟اس نے کہا ! یہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی امت کے وہ خطبا ہیں جو اپنے کہے پر عمل نہیں کرتے تھے۔ اور ایک روایت میں
ہے کہ وہ اللہ کی کتاب پڑھتے تھے، مگر اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔ اسامہ بن زید رضی
اللہ عنہ نے ہی ایک اور حدیث بیان کی ہے جسے امام مسلم نے صحیح مسلم میں درج کیا
ہے۔اس حدیث کو پڑھنے کے بعد روح کانپ اٹھتی ہے۔ اسامہ بن زیدؓ کہتے ہیں کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا
جائے گا اور اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جس سے اس کے پیٹ کی آنتیں نکل آئیں گی
وہ آنتوں کو لے کر اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا چکی کو لے کر گھومتا ہے۔ دوزخ والے
اس کے پاس اکٹھے ہو کر کہیں گے، اے فلاں ! تجھے کیا ہوا؟ (یعنی آج تو کس حالت میں
ہے؟) کیا تو لوگوں کو نیکی کا حکم نہیں دیتا اور برائی سے نہیں روکتا تھا؟ وہ کہے
گا : ہاں میں لوگوں تو نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود اس نیکی پر عمل نہیں کرتا
تھا اور لوگوں کو برائی سے منع کرتا تھا لیکن میں خود برائی میں مبتلا تھا۔
انسان کی فطرت ہے کہ وہ علم سے کہیں زیادہ عمل سے متاثر ہوتا
ہے۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم تو خیر اسوۂ حسنہ ہیں۔ صحابہ کرامؓ اور اولیائے
عظام ؒ نے عملی اعتبار سے اسلام کی ایسی شبیہ پیش کی کہ جہاں جہاں ان کے قدم مبارک
پڑتے گئے ہدایت کی شمعیں روشن ہوتی رہیں۔ اپنے وقت کی بڑی بڑی طاقتیں ان کے سامنے
سرنگوں ہو گئیں۔ عزت و وقار کی سربلندیوں نے ان کے قدموں کے بوسے لیے۔ کسی انگریز
دانشور کا قول ہے:knowledge will give you power but character respect۔
ہمارے اسلاف کے پاس علم کا پاور بھی تھا اور کردار کی عظمت بھی۔ یہی سبب ہے کہ ان
کے دل روئی سے زیادہ نرم ہونے کے باوجود باطل طاقتوں کے سامنے فولاد بن جاتے تھے۔
ایک طرف خلق خدا کے لیے وہ انتہائی نرم خو تھے تو دوسری طرف حق گوئی و بے باکی
ایسی کہ بادشاہان وقت کے سامنے بھی علمِ صداقت بلند کرنا ان کاایمانی شیوہ تھا۔
آج ہمارا اسلام دو حصوں میں منقسم نظر آتا ہے۔ ایک اسلام مسجد و
منبر اور کتب و رسائل میں مقید ہے تو دوسرا کوچہ و بازار جلسہ جلوس میں۔ ان دونوں
اسلام میں اتنا فرق ہے کہ اسلام کی اصل شبیہ کردار کے روپ میں بہت کم نظر آتی ہے۔
وہ لوگ لائق تکریم اور قابلِ تقلید ہیں جو اس دورِ پر آشوب میں اپنے قول و فعل کے محافظ
ہیں۔ جن کا کردار آئینے کی طرح صاف و شفاف ہے۔ جو اپنے قول و فعل سے اسلام کی سچی
تصویر پیش کرتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور روحانی
تربیت کا بھی ماحول بنایا جائے۔ یہ کام مدارس اور خانقاہیں اب بھی بہتر طور پر کر
سکتی ہیں۔ انفرادی سطح پر بھی ہر گھر میں اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔
بچوں کے سامنے قول و فعل کے تضاد سے حتی الوسع بچنے کی کوشش کی جائے۔ بڑی بڑی
باتیں اور دعووں سے گریز کیا جائے۔ غیر مسلم دوستوں کے سامنے کوئی ایسی بات نہ کہی
جائے جس سے اسلام کی شبیہ خراب ہو۔ دروس قرآن و احادیث کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت
کی بھی نشستیں آراستہ کی جائیں اور علم کے ساتھ ساتھ اپنے عمل کے ذریعہ بھی اسلام
کی تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش کی جائے۔ کیوں کہ
تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے ممکن
جو کام کہ انسان کا کردار کرے ہے
اتوار، 16 اکتوبر، 2022
اللہ کے محبوب ﷺسے پیار کیوں نہ کیاجائے
اللہ کے محبوب ﷺسے پیار کیوں نہ کیاجائے۔
عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ
النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ
أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِه وَوَلَدِه وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ.متَّفَقٌ عَلَيْهِ
محبت دو وجہوں سے کی جاتی ہے
(١) جمال
(٢)کمال
تو پہلےمیرے نبی کا جمال دیکھو۔
قَالَتْ : اٌم مَعْبَدٍ الخزائيه رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا
’’رَأَیْتُ رَجُلاً :
ظَاہِرَ الْوَضَاءۃِ ،
اَبْلَجَ الْوَجْہِ،
حُاسْنَ الْخَلْقِ
لَمْ تَعِبْہُ ثَجْلَۃٌ
وَ لَمْ تُزْرِیْہِ صَعْلَۃٌ
وَسِیْمٌ قَسِیْمٌ
فِیْ عَیْنَیْہِ دَعْجٌ
وَ فِیْ اَشْفَارِہٖ وَطْفٌ
وَ فِیْ صَوْتِہٖ صَہْلٌ
وَفِیْ لِحْیَتِہٖ کَثَاثَۃٌ
وَ فِیْ عُنُقِہٖ سَطْعٌ
وَسِیْمٌ قَسِیْمٌ
اكحل احور ازَجٌ اَقْرَنُ
وَ اِنْ تَکَلَّمَ عَلاَہُ الْبَہَاء
اِنْ صَمَتَ فَعَلَاه الْوَقَارُ
وکَأَنَّ مَنْطِقَہٗ خَرَزَاتُ نَظْمٍ
یَنحَدَّرْنَ۔
اللہ کیا انداز گفتگو ہے الفاظ کا رزم اور آواز میں میوزک دیکھو
ام معبد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
’’میں نے ایک آدمی دیکھا،
روشن اور کشادہ چہرے والا ،
خوش اخلاق،
متوازن پیٹ،
سر بال بہ تمام و کمال ،
مجسم حسن و جمال،
چمکدار آنکھیں،
گھنی پلکیں،
رعب دار آواز،
لمبی گردن،
گھنی داڑھی،
باریک اور پیوستہ ابرو،
خاموش پُروقار،
گفتگو لؤ لؤئے لالہ،
دور سے دیکھیں تو خوب صورت اور بارونق،
قریب سے دیکھیں تو اور بھی حسین،
شریں کلام
جچے تلے الفاظ
گفتگو گویا موتیوں کی لڑی،
میانہ قد،
نہ طویل القامت کہ اچھا نہ لگے ،
تشریح
ام معبد کہتی ہے ابو معبد ایک شخص آیا تھا مجھے یوں لگا جیسے
چودھویں کا چاند کپڑے پہن کر زمین پر اتر آیا ہوں سبحان اللہ کیا کہنا انتہائی
خوبصورت انتہائی حسین و جمیل پیٹ نکلوا نہیں کہ بدصورت ہو جائے اتنا خوبصورت تھا
کہ سر سے پاؤں تک حسن اسکا کا غلام تھا خوبصورتی اس کی باندی تھی جدھر سے دیکھتی
تھی مجھے حسن ہی حسن نظر آتا تھا جب اس کے چہرے پر دیکھتی تو میری آنکھ نہیں بھرتی
میرا جی چاہتا تھا کہ میں دیکھتی جاؤں دیکھتی جاؤں دیکھتی جاؤں میرا دل نہیں بھرتا
کون ہے وسیم وسیم اس کو کہتے ہیں جس کو دیکھنے سے دل نہ بھرے قسیم جدھر سے دیکھو
حسن ہی حسن ہو اسے کہتے ہیں قسیم اس کی آنکھیں بڑی موٹی احور، ادعج،اشکل، انجل،
ابرج ،احدب ،
اتوار، 9 اکتوبر، 2022
ٹوٹے دل کی صدا۔
ٹوٹے دل کی صدا۔
اے اللہ ! میں بے بس
ہوں
لاچار ہوں کوئی تدبیر
کام نہیں آتی
یہ تو نے مجھے کن لوگوں
کے حوالے کردیا
ایسے دشمنوں کے
جو مجھ پر ظلم و ستم
ڈھاتے ہیں
اگر تم مجھ سے ناراض
نہیں
تو مجھے کوئی پروا
نہیں
میں تجھے مناتا رہوں
گا
یہاں تک کہ تو راضی
ہوجائے
ایک ایک لفظ درد میں
دبا ہوا
ایک ایک جملہ کرب و الم
کی تصویر
دس سال سے
ہاں مسلسل سال سے
وہ غم پی رہا تھا
وہ درد سہہ رہا
تھا
اس مدت کا ایک ایک لمحہ
اس کی دل شکستگی کا گواہ ہے
اس دہ سالہ دور کا ایک
ایک منٹ اس کے آنسوؤں کا شاہد ہے
اس کا دل۔۔۔۔
نازک سا دل
آہ ! کتنی
مرتبہ توڑا گیا تھا
اس دس سالوں میں کتنی مرتبہ وہ راتوں کو رویا تھا کتنی مرتبہ اس کی آنکھوں سے اشک باری ہوئی تھی کتنی مرتبہ اس کا دل ریزہ ریزہ ہوا تھا مگر آج ۔۔۔۔۔۔۔
جمعہ، 7 اکتوبر، 2022
رشتے دار
رشتے
دار
(پڑوسی، گلی محلہ، پڑھائی کھیل کود کے ساتھی)
ذلیل کرتے ہیں برداشت نہیں ہوتا.
وہ ہمت سے زیادہ امتحان لیتے ہیں.
ان کی باتوں کی اذیت کروٹیں بدلنے پر مجبور کرتی ہے.
ان کی زبان کا زخم گھائل کرتا ہے.
وہ انتہا کی پستی کا مظاہرہ کرتے ہیں.
آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ
یہ کبھی منزل پر نہیں پہنچ پائیں گے.
یعنی دوسرے لفظوں میں کہتے ہیں:
ہم نے بچے بیاہ لیے، بچوں کی شادیاں کردیں ہم کامیاب ہیں۔ اور آپ
ناکام ہیں.
کہتے ہیں کہ ہم نے بڑے تیر مار لیے تم ابھی پیچھے ہو.
کیا آپ کو لگتا ہے یہ صرف آپ کو ہی کہتے ہیں.
کیا آپ کو لگتا ہے یہ اذیت صرف آپ ہی سہہ رہے ہیں.
نہیں جی۔
آپ غلط ہیں!
آپ سے پہلے بلکہ
چودہ سو سال پہلے یہ اذیت،
یہ تکلیف یہ مشکلات)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو
بھی برداشت کرنا پڑی تھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ایک سگا چچا تھا،
جو حسن و جمال میں اس قدر خوبصورت تھا کہ اسے ابو لھب یعنی *شعلوں کا
باپ کہتے تھے۔
یعنی اس کا حسن شعلے مارتا تھا۔
یہ خوبصورت چہرے والوں کی کہانی ہے،
اکثر
خوبصورت چہروں کے منہ میں بد لحاظ زبان اور سینے میں بغض سے بھرا دل
ہوتا ہے۔
ابو لھب کے پاس بھی بد لحاظ زبان تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
کے لیے دل چیر دینے والے الفاظ کہتی تھی۔
ایک باپ اپنے مردہ بیٹے کا وجود گود میں لیے بیٹھا ہے،
اسے اپنے دوستوں،چاہنے والوں اور رشتے داروں کے دلاسے، تسلی کی سب سے
زیادہ ضرورت اسی وقت ہے۔
ہفتہ، 27 اگست، 2022
کبھی خوشی’ کبھی غم
کبھی
خوشی’ کبھی غم
کبھی خوشی کبھی
غم کے پیام آتے ہیں
کسی کے عشق میں کیا کیا مقام آتے ہیں
ہمارے پینے کا انداز بھی نرالا ہے
ہمارے واسطے آنکھوں سے جام آتے ہیں
جسے بھلائے ہوئے ایک عمر بیت گئی
اسی کے آج بھی مجھ کو سلام آتے ہیں
کسی کی یاد کے لمحے ہمارے دل کی طرف
عبادتوں کے لئے صبح و شام آتے ہیں
اندھیرا چھایا تو سائے نے ساتھ چھوڑ دیا
سنا ہے وقت پہ اپنے ہی کام آتے ہیں
جو رنگ ابھرتے ہیں الفت کی داستاں میں نظرؔ
فقط انہیں کے مثالوں میں نام آتے ہیں۔
انسانی سوچ کی وسعت اور بلند پروازی’ تخیل کی کوئی حد نہیں ہے۔
بے شک انسان ایک حد کے اندر تقریباً ہر کام کر سکتا ہے لیکن وہ اس دنیا میں کچھ
بھی کرلے دو چیزیں ایسی ہیں جن سے وہ اس دنیا میں چھٹکارا پانہیں سکتا اور وہ ہے
خوشی اور غم۔ اگر آپ بھی غور کریں تو آپ کو بھی محسوس ہوگا کہ آپ جتنے مرضی اچھے
حالات میں ہوں، جتنی بھی کامیاب زندگی گزار رہے ہوں لیکن کسی نہ کسی چیز کا غم آپ
پر ہر وقت حاوی رہتا ہے۔ خوشی اور غم انسانی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں، انسان اگر یہ
چاہے کہ اس کی زندگی میں ہمیشہ خوشی رہے اور غم کا کوئی واسطہ نہ رہے تو ایسا ہونا
ناممکن ہے کیونکہ خوشی کیساتھ غم کا ہونا بھی انسان کی زندگی کیلئے ناگزیر ہوتا
ہے۔ قدرت کے کھیل بھی نرالے ہیں، اگر خوشبو دینے کیلئے پھول اُگائے ہیں تو چبھنے
کیلئے کانٹے بھی پروان چڑھائے ہیں۔ اگر ہم چاہیں کہ باغ میں پھول ہی پھول ہوں اور
کانٹوں کا وجود ہی نہ ہو تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ دراصل دکھ سکھ کے پیمانے ہر
آدمی کے اپنے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی اپنے ڈھنگ سے جیتا ہے، اپنے ڈھنگ سے
خوشی حاصل کرتا ہے اور اپنے دکھوں سے دوچار ہوتا ہے۔ آپ لاکھ جتن کریں، کڑھتے
رہیں، اپنے احساسات دوسروں پر لاد نہیں سکتے۔ ”انسانی زندگی کے سمندر کا جوش اور
ولولہ حالات کی موجوں کے اُتار چڑھاؤ سے وجود میں آتا ہے۔ کبھی بہار ہے تو کبھی
خزاںِ، کبھی وصل ہے تو کبھی جدائی، کبھی صحت ہے تو کبھی بیماری حالات کبھی ایک
جیسے نہیں رہتے، اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
سکوت محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
منگل، 23 اگست، 2022
جو بدل جائے وہ یار کیسا
جو بدل جائے وہ یار کیسا
کچھ لوگ جیون میں اتنا دکھ دیکھ لیتے ہیں کہ
انہیں دکھ ہونا ہی بند ہو جاتا ہے
زندگی ایک ایسے شخص سے ضرور ملواتی ہے جو ہماری اچھی
خاصی زندگی کا ستیا ناس کر دیتا ہے
چبھتا تو مجھے بھی بہت کچھ تیر کی طرح پھر بھی میں
خاموش ہوں اپنی تقدیر کی طرح
جو بدل جائے وہ یار کیسا
جو چھوڑ جائےوہ ساتھ کیسا
لوگ کہتے ہیں مجھے پھر سے پیار ہو جائے گا
لیکن جو پھرسے ہو جائے وہ پیار کیسا
اس انسان کو کوئی نہیں بدل سکتا جس انسان کو خود کی
ہی غلطی نظر نہ آتی ہو
دنیا میں سمے بتانے والے تو بہت ہیں لیکن سمے پر کام
آنے والے بہت کم ہے
اکثر وہی لوگ ہمارے جذبات کا مذاق بناتے ہیں جنہیں
ہم سب سے زیادہ اپنا مان کےبیٹھ جاتے ہیں
اگرنئے رشتے نہ بنے تو ملال مت کرنا لیکن پرانے ٹوٹ
نہ جائے بس اتنا خیال رکھنا
دنیا کی سب سے سستی چیز مشورہ ہے
ایک مانگوتو لوگ ہزار دیتے ہیں
اورسب سے مہنگی چیز مدد ہے ہزاروں سے مانگو تو کوئی
ایک کرتا ہے
سامان باندھ لیا ہے میں نے اب بتاؤ کہاں رہتے ہیں وہ
لوگ جو کہیں کے نہیں رہتے ہزاروں سے بات نہیں کرنی مجھے
مجھے تو ہزار بات صرف تجھ سے ہی کرنی ہے
اگر ہم چاہتے تو انہیں کب کا منا لیتے لیکن وہ روٹھی
نہیں ہے بدل گئے ہیں اگر زندگی میں کچھ برا ہو رہا ہوتوتھوڑا صبر رکھناکیونکہ
روکرپھر سے ہنسنے کا مزہ کچھ اور ہوتا ہے
اگر دنیا میں سب ساتھ چھوڑ دے تو گھبرانا نہیں یار
کیوں کہ اس دنیا میں جسکا کوئی نہیں ہوتا اس کا اوپر
والاضرور ہوتاہے
اتوار، 21 اگست، 2022
غریبوں سے محبت کیجیئے
غریبوں سے محبت کیجیئے
غریبوں کی زندگی بڑی سادہ ہوتی ہے
وہ کسی کا دل نہیں دُکھاتے
دین کے لیے ان کے جذبات بڑے نیک ہوتے ہیں
وہ دین سے قریب ہوتے ہیں
وہ نیک دل ہوتے ہیں
وہ بڑے ملنسار ہوتے ہیں
اُن سے اظہارِ ہمدردی کر کے دیکھیں؛
وہ فِدا ہو جائیں گے
اُن سے دو میٹھے بول آزمائیں، وہ سِپر ڈال دیں گے
وہ فِدا ہو جائیں گے
ہم نے آزمایا ہے
مشاہدہ کیا ہے
اُن کے خلوص کا بارہا تجربہ کیا
وہ بڑے خوددار ہوتے ہیں
دین کی اشاعت میں بھی وقت دینے میں زیادہ غریب ہی
ملیں گے
محنت کشوں کا یہ طبقہ ہر جگہ سرگرمِ عمل دکھائی دے گا
بس! زباں نرم کیجیے؛ حسنِ سلوک کیجیے؛ پھر دیکھیے کہ
کیسے اُن کا خلوص اُبھر آتا ہے
بِچھے جاتے ہیں
خلوص کا مظاہرہ کرتے ہیں
اہلِ حق کی افرادی قوت یہی غریب طبقہ ہے
یہی طبقہ جاں فروشی میں سب سے آگے آگے رہتا ہے
اسلامی تحریکوں کی تاریخ کھنگال ڈالیں اسلام کی
سربلندی میں،
ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ میں تجزیہ کریں فرقہ پرستوں
کے مقابل دین کے لیے ہمہ وقت سرفروشی کو یہی طبقہ آگے آگے رہتا ہے
وقت نے آزمایا ہے
یہ جان ہتھیلیوں پر لیے چلے آتے ہیں
دین داری ان کی فطرت ہے
انھیں رسول اللہ ﷺ نے نوازا
دوستو!۔
’’دُنیا میں امیروں اور
کھاتے پیتوں کی پوچھ ہے غریبوں اور مسکینوں کو کوئی نہیں پوچھتا
مگر آپ (ﷺ)کے دربار میں غریبوں کی پوچھ تاچھ کرنا
تھا مسکینوں کی رسائی تھی
جن کو ساری دُنیا نے دُھتکارا، اور دُھتکار رہی ہے،
وہ اس دربار میں نظر آئیں گے
اللہ اکبر! بجھے بجھے چہرے نظر آئے تھے اور چمکتے
دَمکتے جا رہے ہیں
ہاں! اس دربار میں غریبوں کی بڑی رسائی تھی
وہ غریب
جن کے وسیلوں سے امیروں کو نعمتیں ملتی ہیں
جن کی آہیں عرشِ معلیٰ تک جا پہنچتی ہیں
جن کے آنسو سیلاب بن کر اُمڈ پڑتے ہیں
خدارا غریبوں کا ہاتھ تھامیئے۔
ہاں! اُن کے دل جوئی کیجیے
اُن کی کیفیات کا جائزہ لیجیے
ان سے حال دل پوچھ لیجئے۔
ان کی خبر گیری کیجئے
ان کی آہوں کو سنیئے
مشکل حالات میں ان کا ساتھ دیجیے
ان کی مالی امداد کیجیے
انکی آنسؤوں کو پوچھیئے
اور یاد رکھیئے
غریبوں ،مسکینوں ،مجبوروں، محتاجوں بےکسوں ،
بےسہاروں، تنگ دستوں اور تہی دامنوں پر مال و دولت خرچ کرنے سے کبھی گھٹتی نہیں
بلکہ اس میں اور اضافہ ہوتا ہے۔ساتھ ہی آقائے دو جہاں کی دعاؤں کا مستحق بھی۔
اللهم اعط منفقا خلفا واعط ممسكا تلفا.....
اتوار، 14 اگست، 2022
15 اگست اردو تقریر
15 اگست اردو تقریر
السلام عليكم
ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
معزز اساتذہ اکرام، نوجوان دوستوں اور ہم وطن ساتھیوں!
آج ملک بھر میں 76/واں یومِ آزادی منایاجارہا ہے۔ ہم سب اِس سے واقف ہیں کہ کس طرح
ہندوستان انگریزوں کے ظلم و ستم، جابرانہ پالیسیوں اور غلامی کی زنجیروں سے ۱۵/اگست 1947ء کو آزاد ہوا۔
آزادی کے متوالوں نے بلند حوصلوں کے ساتھ کیسی کیسی قربانیاں پیش کیں۔ مجاہدینِ
آزادی کی سخت جدوجہد کے بعد ہمیں آزادی جیسی نعمتِ عظمیٰ حاصل ہوئی_
دوستوں! لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان آج بھی صحیح معنوں میں
آزادی کا منتظر ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ ملک میں غریب، مزدور، خواتین، دلِت اور
مسلمان محفوظ نہیں ہیں مگر ہاں گائے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ انسان کی جان سے زیادہ
اہمیت جانور کی ہوگئی ہے۔
آج ہم آزادی کے بعد 76/سال کا سفر طئے کر چکے ہیں لیکن آج اِس ملک کی تاریخ کو مسخ کیا
جارہا ہے اور آزادی کے حقیقی ثمرات سے ہندوستان کی عوام محروم دکھائی دیتی ہے_
جدوجہد آزادی کے معماروں نے ہندوستان کو جس راہ پر گامزن کرنے
کا خواب دیکھا تھا، اُس راہ سے ہندوستان نے خود کو الگ کر لیا ہے اور اب عالمی
طاقتوں کا آلہ کار بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اب بھی تشنہ جواب ہے کہ کیا
واقعی آزاد ملک کا خواب پورا ہوا ہے؟ آزاد ہندوستان کا خواب اُسی وقت پورا ہوگا جب
پورا ہندوستان ترقی کرے گا۔ پسماندہ افراد کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔
مجروح اور پچھڑے ہوئے لوگوں کو 'مین اِسٹریم' میں لایا جائے گا۔ ہم اکثر اپنے ماضی
کی حصولیابیوں پر اِنتہائی مسرت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن اُن کامیابیوں پر مطمئن ہوجانا
غلط ہوگا۔
ہفتہ، 13 اگست، 2022
زندگی سے متعلق اہم باتیں ۔
زندگی سے متعلق اہم باتیں ۔
زندگی میں سادگی اپناؤ جتنی سادہ تمہاری زندگی ہوگی
اتنی پریشانی کم ہوگی لامحدود تمنائیں محدود زندگی کو اجیرن بنا دیتی ہے
زندگی میں مشکل وقت نہ آئے تو اپنوں میں چھپے ہوئے
غیر اور غیروں میں چھپے ہوئے اپنے کیسے نظر آتے۔
ہماری زندگی کبھی مشکل نہیں ہوتی ہم اس کو مشکل خود
بنا لیتے ہیں کبھی کسی کو حد سے زیادہ توجہ دے کر کبھی بے جا امیدیں لگا کر کبھی
آیسوں کی مجبوریاں بھلا کر۔
میں نے زندگی میں ایک بات سیکھی ہے انسان کو کوئی
چیز نہیں ہرا سکتی جب تک وہ خود ہار نہ مان لے۔
زندگی دو دن کی طرح ہے ہے ایک دن تمہارے حق میں اور
دوسرا دن تمہارے مخالف۔
جس دن تمہارے حق میں ہو اس دن غرور مت کرنا اور جس
دن تمہارے مخالف ہو اس دن صبر کرنا۔
زندگی کسی کی بھی آسان نہیں ہوتی زندگی کو آسان
بنایا جاتا ہے پیار سے خلوص سے اپنایت سے اور سب سے بڑھ کر برداشت سے۔
زندگی ہمیشہ اس طرح بسر کرو کہ دیکھنے والے تمہارے
درد پرافسوس کے بجائے تمہارے صبر پر رشک کریں۔
زندگی میں اچھے لوگوں کو تلاش مت کرو خود اچھے بن
جاؤ شاید کسی کی تلاش پوری ہوجائے۔
وقت سب کو ملتا ہے زندگی بدلنے کے لیے لیکن زندگی
دوبارہ نہیں ملتی وقت کو بدلنے کے لیے۔
زندگی کی مشکلات گھاس کی طرح ہوتی ہے اگر ان پر توجہ
نہ دی جائے تو بڑھتی چلی جاتی ہے خوبصورت زندگی خود بخود نہیں بن جاتی اس کی تعمیر
روزانہ دعاؤں سے ہوتی ہے
زندگی ہمیں بہت خوبصورت دوست دیتی ہے لیکن اچھے دوست
ہمیں خوبصورت زندگی دیتے ہیں
اپنی زندگی میں ہر کسی کو اہمیت دو جو اچھا ہوگا وہ
خوشی دے گا اور اور جو برا ہوگا وہ سبق دےگا اپنی زندگی ایسے جیو کہ اللہ کو پسند
آ جاؤں دنیا والوں کی سوچ تو روزانہ بدلتی ہے۔








%20(2)%20copy.jpg)

