صفحہ اول

سوشل میڈیا

جمعرات، 19 جنوری، 2023

یوم جمہوریہ ہند





یوم جمہوریہ ہند

جمہوریت کا لفظ جمہور سے بنا ہے جو اکثر کا معنی دیتا ہے اور جمہوریت سے اکثریتی رائے مراد لی جاتی ہے جمہوری حکومت میں بھی کہیں نہ کہیں یہ معنی پنہاں ہیں یعنی اس کی تشکیل میں بھی اکثریتی رائے کا اعتبار کیا جاتا ہے،

جمہوریت کو انگریزی زبان میں Democracy کہا جاتا ہے جو یونانی زبان کے دو الفاظ سے مل کر بنا ہے جس کے معنی عوام اور طاقت کے ہیں اس لحاظ سے جمہوریت ایک ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں اقتدار عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ان کے منشاء کے مطابق حکومت فرائض انجام دیتی ہے

ماہرین نے جمہوریت کی مختلف انداز میں تعریفیں کی ہیں چند مشہور تعریفیں مندرجہ ذیل ہیں

سیلے seeley نے جمہوریت کی تعریف کچھ یوں کی ہے:

جمہوریت ایک ایسی طرز حکومت ہے جس میں ہر ایک شریک ہوتا ہے

لارڈ برائسس کے خیال میں:

جمہوریت وہ طرز حکومت ہے جس میں اختیارات ایک فرد واحد یا افراد کے ایک مخصوص طبقہ یا طبقات کی بجائے معاشرے کے تمام افراد کو بحیثیت مجموعی حاصل ہوتا ہے

ابرہم لنکن نے جمہوریت کی تعریف یوں کی ہے:

جمہوریت عوام کی حکومت عوام کے زریعے اور عوام کی خاطر

واضح رہے کہ سب سے جامع تعریف ابرہم لنکن ہی مانی جاتی ہے،

جمہوریت کا نظام لچکدار ہوتا ہے نا پسندیدہ عناصر کو انتخابات کے ذریعے مسترد کیا جاسکتا ہے افکار و خیالات کی مکمل آزادی کے باعث عوام اپنے جزبات کااظہارکرسکتے ہیں حکومت رائے عامہ کو نظرانداز نہیں کرتی اگرحکومت عوام کے مشوروں اور ان کی منشاء کو نظر انداز کردے تو آئندہ انتخاب میں عوام ایسی حکومت کو پر امن طور پر اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیل کرسکتے ہیں اس طرح عوام کو حکومت تبدیل کرنے کیلئے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا پڑتااور ملک انقلابات سے محفوظ رہتا ہے

26 جنوری یوم جمہوریہ بھارت کی ایک قومی تعطیل کا دن ہے جسے ملک بھر میں بڑے ہی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے بھارت کی سرکاری تعطیلات تین ہے ایک یوم جمہوریہ دیگر دو تعطیلات یوم آزادی بھارت اور گاندھی جینتی ہے،

 مکمل تحریر

بدھ، 11 جنوری، 2023

دینی خدمت گزاروں کے معاش کا مسئلہ

از قلم مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ اس سلسلہ میں چند نکات عرض کئے جاتے ہیں:
)
۱( نوجوان فضلاء کو سوچ سمجھ کر دینی خدمت کے میدان میں قدم رکھنا چاہئے، ان کے سامنے اپنے معاصرین اور بزرگوں کے تجربات ہیں، اگر وہ اس کو برداشت کر سکتے ہیں، تب تو دینی خدمت کے راستہ میں آئیں، نہیں تو معاش کے لئے کوئی اور راستہ اختیار کر لیں اور حسب سہولت اپنے علم وعمل کے ذریعہ لوگوں کو فائدہ پہنچائیں، دینی خدمت کی حیثیت ان کے لئے ایک ضمنی کام کی ہو، اصل کام کی نہ ہو، اپنی مرضی سے اس راہ میں آنا اور پھر دوسروں سے شکوہ سنج ہونا کوئی معقول بات نہیں ہے، اور اس سے طبقۂ علماء کا وقار مجروح ہوتا ہے۔
)
۲( دینی خدمت کرتے ہوئے الگ سے کوئی چھوٹی موٹی تجارت یا صنعت کو اختیار کرلیں، اس سے ان شاء اللہ معاشی تنگ حالی کا تدارک ہو سکتا ہے، سلف صالحین کے یہاں اس کی ڈھیر ساری مثالیں موجود ہیں، امام قدوریؒ جیسے فقیہ ہانڈی بنانے کا کام کرتے تھے، امام ابو بکر جصاصؒ کو تو چونے کا کام کرنے کی وجہ سے ہی جصّاص کہا جاتا ہے، زیّات کا معنی تیل نکالنے والے یا فروخت کرنے والے کے ہیں، اسی نسبت سے امام زیات معروف ہیں، جو بڑے عالم تھے، امام ابو حنیفہؒ ریشمی کپڑوں کے تاجر تھے، اس سے اوپر جائیں تو حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کا شمار بڑے تاجروں میں تھا، حضرت عمرؓ بھی تجارت کرتے تھے ، اس سے اور اوپر جائیں تو بہت سے انبیاء کے بارے میں بھی منقول ہے کہ وہ صنعت وحرفت سے فائدہ اٹھاتے تھے، حضرت آدم علیہ السلام زراعت کرتے تھے، حضرت ادریس علیہ السلام خیاطی کرتے تھے، حضرت داؤد علیہ السلام زِرہیں بنایا کرتے تھے اور مویشی پالن کا کام ارشاد نبوی کے مطابق تقریباََ تمام ہی انبیاء کرام نے کیا ہے، آپ علیہ السلام نے ہنر جاننے والے مسلمان کی تعریف فرمائی ہے: ان اللہ یحب المؤمن المحترف(الترغیب والترہیب، حدیث نمبر: ۲۳۳۵، بحوالہ طبرانی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طاقت ور مومن کمزور مومن سے بہتر ہے: المؤمن القوي خیر من المؤمن الضعیف(مسلم، حدیث نمبر: ۲۶۶۴)   مکمل تحریر

اتوار، 8 جنوری، 2023

26 جنوری تاریخ کے آئینے میں
 
26جنوری 1950 کو اپنا ملک ہندوستان جمہوری ہوا, یعنی اپنے ملک میں اپنے لوگوں پر اپنا قانون لاگو ہوا, آزاد ہندوستان کا اپنا دستور (قانون) بنانے کیلئے ڈاکٹر بهیم راؤ امبیڈکر کی صدارت میں 29 اگست 1947 کو سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی, جسکو ملک کا موجوده دستور مرتب کرنے میں 2 سال 11ماه اور 18دن لگے تھے , دستورساز اسمبلی کے مختلف اجلاس میں اس نئے دستور کی ہراک شق پر کهلی بحث ہوئ , پھر 26 نومبر 1949کو اسے قبول کرلیاگیا, اور 24 جنوری 1950 کوایک مختصراجلاس میں تمام ارکان نے نئے دستور پردستخط کردیا,البتہ مولانا حسرت موہانی نے مخالفت کرتے ہوئے دستورکے ڈرافٹ پر ایک نوٹ لکھا کہ "یہ دستور برطانوی دستورکاہی اجراء اورتوسیع ہے جس سے آزاد ہندوستانیوں اور آزا دہند کا مقصد پورا نہیں ہوتا "بہرحال 26 جنوری 1950 کو اس نئےقانون کولاگو کرکےملک بھر میں پہلا "یوم جمہوریہ" منایاگیا, اس طرح ہرسال 26 جنوری " یوم جمہوریہ " کے دن کے طور پر پورے ملک میں جوش وخروش کےساتھ منایاجاتاہے, اور 15 اگست 1947 کی طرح یہ تاریخ بهی ملک کا قومی اور یادگاری دن بن گئ ہے ,26 جنوری کو جشن کےطورکیوں مناتے ہیں, تو آئیے تاریخ کے اوراق کا مشاہدہ کرتےچلیں, جشن کایہ دن ہندوستانیوں کو یونہی نہیں ملا,اس کیلئےبڑی سے بڑی قربانیاں دینی پڑی, لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کرنے پڑےہیں , تب جاکر 26 جنوری کو جشن منانےکا یہ زریں موقع ہندوستانیوں کو نصیب ہواہے , انگریزوں کا پہلا قافلہ 1601 میں دور جہانگیری میں ہی ہندوستان آیاتها ,اس حساب سے ہندوستان سے انگریزوں کا انخلاء 1947 میں 346 سال بعد ہوا, اس دوران ظلم وبربریت کی ایک طویل داستان لکھی گئ تھی مکمل تحریر

اتوار، 1 جنوری، 2023

چھ کلمے اردو٬ عربی٬ انگلش٬ اور ہندی ترجمے کے ساتھ

 

چھ کلمے اردو٬ عربی٬ انگلش٬ اور ہندی ترجمے کے ساتھ

  ۱-   اَوّل کلمہ طیّب

لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ.
اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔‘‘
(1)There is none worthy of worship except Allah and Muhammad is the Messenger of Allah.
() भगवान को छोड़कर कोई और पूजा का योग्य नहीं है, मुहम्मद (शांति और अल्लाह के आशीर्वाद उस पर हो) अल्लाह के दूत हैं।
 
۲ دوسرا کلمہ شہادت
اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ ﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ.
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘
(2)I bear witness that (there is) none worthy of worship except Allah; One is He, no partner hath He, and I bear witness that Muhammad [P.B.U.H.] is His Servant and Messenger.
()मैं यह गवाही देता हूं कि भगवान को छोड़कर कोई और पूजा का योग्य नहीं है, वह अकेला है, उसके पास कोई साझेदारी नहीं है और मैं यह गवाही देता हूं कि मुहम्मद (शांति और अल्लाह के आशीर्वाद उस पर हो) ईश्वर के दूत और उसके मेसेंजर हैं।
۳   تیسرا کلمہ تمجید
سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ وَﷲُ اَکْبَرُ ط وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِيِ الْعَظِيْمِ.
’’اللہ پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کی توفیق نہیں مگر اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے جو بہت بلند عظمت والا ہے۔‘‘


مکمل تحریر<<<