صفحہ اول

سوشل میڈیا

ہفتہ، 25 نومبر، 2023

جلسوں کے موسم بہار

جلسوں کے موسم بہار

جلسوں کے موسم بہار کی آمد ہوچکی ہے ،اکتوبر سے  مارچ اپریل تک یہ سیزن مکمل شباب پر رہے گا، چمنستانِ وعظ کے بیلا، چمیلی، گلاب، گیندا وکنول اور لالہ زار خطابت کے  یاسمین، جوہی  و رات رانی اور  نرگس و نسترن سبھی اسی پرکیف  موسم  میں کھلتے ہیں۔
اس موسم سدا بہار کی خوبی یہ ہے کہ دسمبر و جنوری کی برفیلی راتوں میں بھی اس کے پھول کھملاتے نہیں ہیں۔بلکہ جو رات جس قدر خنک اور سرد ہوتی ہے اس  رات کا جلسہ اسی قدر گرم اور کامیاب ہوتا ہے۔زمستانی ہوا کی  شدت کی وجہ  سو میٹر کی دوری پر واقع مسجد پہنچنے میں جن نوجوانوں کے پیر کانپنے لگتے ہیں جلسوں کی لذت اسی زمستانی ہوا کی تیزی میں بھی اسی نوجوان کو بیس کلومیٹر دور جلسہ گاہ تک بہ آسانی بہا لے جاتی ہے۔اسے کہتے ہیں جلسوں کا موسم بہار اور اس کی طاقت ۔ 
یہ کہانی ایک سال کی نہیں ہے  بلکہ ہرسال کے یہی کہانی ہے،جلسہ کی منتظمہ کمیٹی ،پیشہ ور مقررین،اور پریس والے، تینوں اس موسم بہار کے لائف ٹائم ممبر اور مالی ہیں ۔ان بزرگوں کی دعا اور اخلاص کا نتیجہ ہے کہ یہ  موسم کبھی خزاں رسیدہ نہیں ہوتا ہے۔ ہمیشہ حسین،خوشگوار ،پرکیف ،رنگارنگ اور جواں رہتا ہے ۔

شیخ الاسلام ،محدث زمانہ۔امام التفسیر ،فقیہہ دوراں،رئیس المناظرین،سلطان المقررین، فصیح اللسان ،بلیغ البیان،ترجمان اہل سنت ،قاطع شرک وبدعت ،نقیب ملت، خطیب بے بدل ،بلبل ہندوستان جیسے ماہرین کی رہائی لگتا ہے ہر سال صرف اسی موسم بہار میں ہوتی ہے ،فیس بک ،واٹس ایپ،انسٹاگرام سے لے کر شہر کے در و دیوار اور گاؤں کے گلی کوچے تک ان قیمتی ہستیوں کے اشتہارات پر نظر پڑنے سے چاروں طرف گویا اسلامستان نظر آتا ہے۔پوری پوری رات جلسوں کے برقی قمقموں سے اس قدر جگمگاتی ہے کہ شب دیجور پر فتح پانے گمان پیدا ہونے لگتا ہے۔

اتوار، 19 نومبر، 2023

اسرائیل دہشت گرد درندہ ہے۔

اسرائیل دہشت گرد درندہ ہے۔
اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہےوہاں انسان نہیں درندے بستے ہیں جو کتے اور خنزیر سے بدتر ہے جن میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔
یہ وہی شیطان کی اولاد ہے جن کو ہٹلر نے نشان عبرت کے لیے چھوڑا تھا یہ وہی احسان فراموش قوم ہے جو جرمنی سے نکالے جانے کے بعد در در کی ٹھوکریں کھاتاہوا مارا مارا پھر رہا تھا تو فلسطینیوں نے ان پر ترس کھا کر اپنے وطن میں پناہ دی تھی اور آج وہی اسرائیلی کتوں نے فلسطینیوں سے زمین چھین لی اور ان پر زمین کو تنگ کر دیا ان سے آزادیاں چھین لی اور جب برسوں سے ستائے ہوئے مظلوم فلسطینیوں  نے اپنے وجود کی بقا اپنی زمین کی ازادی اور حقوق کی ازادی کے لیے آواز اٹھائی اقدام کیا تو انسانی دشمنو اور ایوان باطل میں کھلبلی مچ گئی کفر میں کہرام برپاہو گیا شیطانوں میں قیامت آ گئی اور دہشت گردوں نے اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے والوں کو دہشت گرد قرار دیکر غزہ پٹی پر وہ قہر ڈھایاکہ انسانیت شرما گئی زمین پھٹ پڑی آسمان رو پڑا گلی کونچے سے چیخ و پکار، آہو بکا کی آواز آرہی ہے اور حقوق انسانی کی بات کرنے والے مر گئے حقوق نسواں پر زاغ الاپنے والوں کی منہ بند ہے۔


کہاں ہو مغرب میں انسانی حقوق کی بات کرنے والو ،

 کہاں ہو مشرق وسطیٰ میں انسانیت کا دم بھرنے والو ،

 کہاں ہو اسرائیل اور امریکہ کے اشاروں پر کٹ پتلی کی طرح ناچنے والے اقوام متحدہ ،

کہاں ہو اسلام اور مسلمانوں کے دم بھرنے والے 57 اسلامی ممالک کی او ائی سی،

کہاں ہو ایٹمی طاقت کا نمائش کرنے والے پاکستانیو،

کہاں ہو سپر پاور امریکہ اور نیٹو فوج کو دانتوں تلے چنے چبوانے والے طالبانو،

 کہاں ہو ایٹم بم اور میزائلوں کا ذخیرہ رکھنے والے ایرانیو،

 کہاں ہو پاور اور شکتی کا پردشن کرنے والے ترکیو،

 کہاں ہو عرب ممالک کے ضمیر فروشو،

تم مر چکے ہو یا تمہارے ضمیر مر چکے ہیں،

آؤ غزہ پٹی میں دیکھو اسرائیلی دہشت گرد اور امریکی درندوں نے انسانیت کاکتنا ننگا ناچ کیاہے،حماس، حزب اللہ، حوثی سے جنگ لڑنے کے بجائے وہاں کے عام شہری معصوم بے گناہ انسانوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام کررہا ہےجنگی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عام شہری کے عمارتوں اسپتالوں اور اسکولوں اور پناہ گزینوں پر بمباری کر رہا ہے کھانا پانی بجلی اور زندگی کے تمام سہولیات کو بند کر کے انسانوں کو بھوک ،پیاس سے تڑپ تڑپ کر مرنے پر مجبور کردیا ہے۔
اسرائیل اور امریکا درحقیقت آتنگ واد ،دہشتگرد، فسادی،غاصب، درندہ، خونی، قاتل ہے۔
جو انسان اور  مانوتاکے لیے کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے جن کے محض خاتمے سے ہی دنیا کے اندر امن و آشتی آ سکتی ہے
اس لیے اے دنیا والو !
اے مانوتا اور انسانیت کا دم بھرنے والو !
آنکھیں کھولو مظلوم فلسطینیوں کو دیکھو،
ان کے آہ و بکا کو سنو،
ان کو ان کی زمین واپس کراؤ،
ظالم و جابر اسرائیلی درندوں کے پنجوں سے انہیں آزاد کراؤ!
بہت ہو گیا مذہب کو چھوڑ کر مانو تا کے پلیٹ فورم پر آجاؤ غزہ کے معصوم بچے اور بے گناہ عورتیں تمہیں اواز دے رہی ہیں جاؤ انسانیت کو بچا لو۔

حسبنا الله ونعم الوكيل نعم المولى ونعم النصير 

پیر، 17 جولائی، 2023

Speech on independence day

السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين محمد وآله وأصحابه أجمعين ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين. أمابعد
معزز اساتذہ اکرام، نوجوان دوستوں اور ہم وطن ساتھیوں!
جب گلستاں کوخوں کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے یہ اہلِ چمن،
یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں
آج ملک بھر میں 76/واں یومِ آزادی independence day منایاجارہا ہے۔ ہم سب اِس سے واقف ہیں کہ کس طرح ہندوستان انگریزوں کے ظلم و ستم، جابرانہ پالیسیوں اور غلامی کی زنجیروں سے ۱۵/اگست
1947ء کو آزاد ہوا۔ آزادی کے متوالوں نے بلند حوصلوں کے ساتھ کیسی کیسی قربانیاں پیش کیں۔ مجاہدینِ آزادی کی سخت جدوجہد کے بعد ہمیں آزادی جیسی نعمتِ عظمیٰ حاصل ہوئی_
دوستوں! لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان آج بھی صحیح معنوں میں آزادی کا منتظر ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ ملک میں غریب، مزدور، خواتین، دلِت اور مسلمان محفوظ نہیں ہیں آئے دن ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔کہیں تو دلتوں کو اچھوت سمجھ کر پیٹا جا رہا ہے کہیں مسلمانوں کو گائے کے نام پر مارا جا رہا ہے گویاانسان کی جان سے زیادہ اہمیت جانور کی ہوگئی ہے۔
آج ہم آزادی کے بعد 76/سال کا سفر طے کر چکے ہیں لیکن آج اِس ملک کی تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے مسلمانوں کے اثار کو مٹایا جا رہا ہے اور آزادی کے حقیقی ثمرات سے ہندوستانی عوام محروم دکھائی دے رہی ہے_
جدوجہد آزادی کے معماروں نے ہندوستان کو جس راہ پر گامزن کرنے کا خواب دیکھا تھا، اُس راہ سے ہندوستان نے خود کو الگ کر لیا ہے اور اب عالمی طاقتوں کا آلہ کار بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اب بھی تشنہ جواب ہے کہ کیا واقعی آزاد ملک کا خواب پورا ہوا ہے؟ آزاد ہندوستان کا خواب اُسی وقت پورا ہوگا جب پورا ہندوستان ترقی کرے گا۔ پسماندہ افراد کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔دبے کچلے مجروح اور پچھڑے ہوئے لوگوں کو ‘مین اِسٹریم’ میں لایا جائے گا۔ ہم اکثر اپنے ماضی کی حصولیابیوں پر اِنتہائی مسرت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن اُن کامیابیوں پر مطمئن ہوجانا غلط ہوگا۔
دوستوں! آزادی کا مطلب ہر شخص کوکھلی فضا میں سانس لینے کا حق ہے۔ہر ایک کو اپنے اپنے مذہب و ملت پر چلنے کا کلی اختیار، آزادی ایک بیش بہا نعمت، قدرت کا بیحد انمول تحفہ اور زندگی جینے کا اصل احساس ہے۔ اِس کے برعکس غلامی و عبودیت ایک فطری برائی، کربناک اذیت اور خوفناک زنجیر ہے۔ اِس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ جس طرح معاشرے میں شخصی آزادی نہایت اہم ہے اُس سے کہیں زیادہ اجتماعی آزادی کی اہمیت و ضرورت ہے۔ یا یوں کہئے کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اِس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز نہیں اور اِس کی حفاظت ہماری اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔
جشن آزادی کی تقریب میں شریک ہم وطن ساتھیوں!
یومِ آزادی ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب الوطنی کے جذبہ سے بھرپور ایک خاص دن ہے۔ برطانوی تسلط سے آزادی ہندوستان کی عوام نے طویل جدوجہد کے بعد حاصل کی تھی۔ پندرہ اگست ملک کے یومِ آزادی کے طور پر ہی نہیں بلکہ اِسی اجتماعی جذبے کو یاد کرنے کیلئے منایا جاتا ہے۔ ہندوستان کے سَوا سَو کروڑ عوام کو سوچنا چاہئے کہ جشنِ آزادی محض ایک رسم کا نام نہیں ہے بلکہ آزادی کے بعد سے اب تک ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا، اپنی قومی پیش رفت، ترقی و بہبود کی رفتار، آزادی کے ممکنہ ثمرات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ملک کی سالمیت کی بقاء کے سلسلے میں اپنی کاوشوں کے محاسبہ کا نام ہے۔ یومِ آزادی دراصل خود احتسابی کا دِن ہے۔ آج ہم یہ عہد کریں کہ جس طرح ہم سب نے مِل کر ملک کی آزادی حاصل کی ہے اُسی حوصلہ و جذبہ سے

جمعہ، 7 جولائی، 2023

कल्कि अवतार


कल्कि अवतार

भारत में प्रकाशित पुस्तक "कल्कि अवतार" ने पूरी दुनिया में तहलका मचा दिया है। इस पुस्तक में कहा गया है कि हिंदुओं की धार्मिक पुस्तकों में वर्णित "कल्कि अवतार" अंतिम पैगंबर मुहम्मद, शांति उन पर हो, अब्दुल्ला के पुत्र हैं।
यदि इस पुस्तक का लेखक मुस्लिम होता तो अब तक जेल में होता और पुस्तक पर प्रतिबंध लगा दिया गया होता, लेकिन इसके लेखक "पंडित वेद प्रकाश" एक ब्राह्मण हिंदू हैं। और वह इलाहाबाद विश्वविद्यालय से संबद्ध हैं। वह संस्कृत भाषा के विशेषज्ञ और प्रसिद्ध शोध विद्वान हैं।
पंडित वेद प्रकाश ने कल्कि अवतार पर अपना शोध देश के आठ प्रसिद्ध और प्रसिद्ध शोध पंडितों के सामने प्रस्तुत किया, जो अपने क्षेत्र में प्रामाणिक माने जाते हैं। इन पंडितों ने पुस्तक के गहन अध्ययन और शोध के बाद यह स्वीकार किया है कि पुस्तक में प्रस्तुत अंश प्रामाणिक और सही हैं।
ब्राह्मण पंडित वेद प्रकाश ने अपने शोध को "कल्कि अवतार" नाम दिया जिसका अर्थ है ब्रह्मांड का नेता। हिंदुओं की महत्वपूर्ण धार्मिक पुस्तकों में वास्तव में एक महान नेता का उल्लेख किया गया है। जिसे "कल्कि अवतार" कहा जाता है, इसलिए पंडित वेद प्रकाश ने गहन शोध के बाद दावा किया है कि यह कल्कि अवतार पैगंबर मुहम्मद को संदर्भित करता है, जिनका जन्म मक्का में हुआ था। इसलिए, वे कहते हैं कि सभी हिंदुओं को, चाहे वे कहीं भी हों, कल्कि के दूसरे अवतार की प्रतीक्षा करने की आवश्यकता नहीं है, बल्कि इसके लिए उन्हें केवल इस्लाम स्वीकार करना होगा और अल्लाह के अंतिम दूत के नक्शेकदम पर चलना होगा, शांति और आशीर्वाद हो उस पर है, जो अपना मिशन पूरा करने के बाद बहुत पहले ही इस दुनिया से चला गया है।
अपने दावे के प्रमाण में पंडित वेद प्रकाश ने हिंदुओं के पवित्र धार्मिक ग्रंथ "वेद" से निम्नलिखित अंश प्रस्तुत किये हैं।

1.
यह "वेद" पुस्तक में लिखा है।
((
कल्कि अवतार भगवान का आखिरी अवतार होगा, जो पूरी दुनिया को रास्ता दिखाएगा।))
इन शब्दों को उद्धृत करने के बाद पंडित वेद प्रकाश लिखते हैं कि इस भविष्यवाणी का प्रयोग केवल पैगम्बर मुहम्मद के मामले में ही सत्य हो सकता है।

2.वेदों
की भविष्यवाणी के अनुसार ((कल्कि अवतार का जन्म एक द्वीप में होगा))
और ये अरब क्षेत्र है, जिसे जजीरा अल-अरब कहा जाता है.

3.