صفحہ اول

سوشل میڈیا

جمعہ، 17 دسمبر، 2021

حمد باری تعالیٰ

حمد باری تعالیٰ

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

سورج کے اجالوں سے ، فضاوں سے ، خلاء سے 

چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیاء سے 

جنگل کی خموشی سے ، پہاڑوں کی انا سے 

پُر ہَول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے 

بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے 

مٹی کے خزانوں سے ، اناجوں سے ، غذا سے 

برسات سے ، طوفان سے ، پانی سے ، ہوا سے 

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

گلشن کی بہاروں سے ، تو کلیوں کی حیاء سے 

معصوم سی روتی ہوئی شبنم کی ادا سے 

لہراتی ہوئی بادِ سحر ، بادِ صبا سے 

ہر رنگ کے ، ہر شان کے ، پھولوں کی قبا سے

چڑیوں کے چہکنے سے ، تو بلبل کی نوا سے

موتی کی نزاکت سے ، تو ہیرے کی جلا سے 

ہر شے کے جھلکتے ہوئے فن اور کلا سے 


ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

دنیا کے حوادث سے ، وفاؤں سے ، جفا سے

رنج و غم و آلام سے ، دردوں سے ، دوا سے 

خوشیوں سے ، تبسم سے ، مریضوں کی شفا سے

بچوں کی شرارت سے ، تو ماؤں کی دعا سے

نیکی سے ، عبادات سے ، لغزش سے ، خطا سے

خود اپنے ہی سینے کے دھڑکنے کی صدا سے

وحدت تیری ہر گام پہ دیتی ہے دلاسے

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

ابلیس کے فتنوں سے ، تو آدم کی خطا سے 

اوصافِ براہیم سے ، یوسف کی حیا سے 

اور حضرتِ ایوب کی تسلیم و رضا سے

عیسی کی مسیحائی سے ، موسی کی عصا سے 

نمرود کے ، فرعون کے انجامِ فنا سے

کعبہ کے تقدس سے ، تو مرویٰ و صفا سے

تورات سے ، انجیل سے ، قرآں کی صدا سے

یسین سے ، طٰہٰ سے ، مزمل سے ، نبا سے 

ایک نور جو نکلا تھا کبھی غارِ حرا سے 

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے


حمد باری تعالیٰ

الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں

سراپا فقر ہوں عجز و ندامت ساتھ لایا ہوں

بھکاری وہ کہ جس کے پاس جھولی ہے نہ پیالہ ہے

بھکاری وہ جسے حرص و ہوس نے مار ڈالا ہے

متاع دین و دانش، نفس کے ہاتھوں سے لٹوا کر

سکون قلب کی دولت، ہوس کی بھینٹ چڑھوا کر

لٹا کر ساری پونجی غفلت و عصیاں کی دلدل میں

سہارا لینے آیا ہوں تیرے کعبے کے آنچل میں

گناہوں کی لپٹ سے کائنات قلب افسردہ

ارادے مضمحل ، ہمت شکستہ، حوصلے مردہ

کہاں سے لاؤں طاقت دل کی سچی ترجمانی کی

کہ کس جنجال میں گزری ہیں گھڑیاں زندگانی کی

خلاصہ یہ کہ بس جل بھن کے اپنی روح سیاہی سے

سراپا فقر بن کر اپنی حالت کی تباہی سے

تیرے دربار میں لایا ہوں اپنی اب زبوں حالی

تیری چوکھٹ کے لائق ہر عمل سے ہاتھ ہے خالی

یہ تیرا گھر ہے، تیرےاہل کا دربار ہے مولا

سراپا نور ہے، اک محبت انوار ہے مولا

تیری چوکھٹ کے جو آداب ہیں، میں ان سے خالی ہوں

نہیں جس کوسلیقہ مانگنے کا وہ سوالی ہوں

زباں غرق ندامت دل کی ناقص ترجمانی پر

خدایا رحم میری اس زبان بے زبانی پر

یہ آنکھیں خشک ہیں، یا رب انہیں رونا نہیں آتا

سلگتے داغ ہیں دل میں، جنہیں دھونا نہیں آتا

الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں

سراپا فقر ہوں، عجز و ندامت ساتھ لایا ہوں

حمد باری تعالیٰ

کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

عطا کر تو شان کریمی کا صدقہ عطا کر تو شان رحیمی کا صدقہ

نہ مانگوں گا تجھ سے تو مانگوں گا کس سے

تیرا ہوں میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

جو مفلس ہیں انکو تو دولت عطا کر جو بیمار ہیں انکو صحت عطا کر

مریضوں کی خاطر شفاء مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

میری جو بہن بھی کنواری ہے میرے مولا اسے نیک رشتہ عطا کر دے

مولا میں صدقہ زھرا عطا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

جو نادار ہیں کچھ نہیں جن کے پلے

 انھیں بھی دیکھا دے حرم کے تو جلوے

 حضوری بس کی دعا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

وطن کے دھڑکتے شرارے بجھادے اسے پھر اخوت کا گلشن بنادے

میں امن و امان کی ردا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

الہی تجھے واسطہ پنجتن کا وہ شاد گلچہ دلوں کے چمن کا

الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں

الہی میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں

دعا مانگی ہے

رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے

اور اک چیز بڑی بیش بہا مانگی ہے

اور وہ چیز نہ دولت، نہ مکاں ہے، نہ محل

تاج مانگا ہے، نہ د ستار و قبا مانگی ہے

نہ تو قدموں کے تلے فرشِ گہر مانگا ہے

اور نہ سر پر کلہِ بالِ ہما مانگی ہے

نہ شریک سفر و زاد سفر مانگا ہے

نہ صدائے جرس و بانگِ درا مانگی ہے

نہ سکندر كی طرح فتح کا پرچم مانگا

اور نہ مانندِ خضر عمرِ بقا مانگی ہے

نہ کوئی عہدہ، نہ کرسی، نہ لقب مانگا ہے

نہ کسی خدمتِ قومی کی جزا مانگی ہے

نہ تو مہمانِ خصوصی کا شرف مانگا ہے

اور نہ محفل میں کہیں صدر کی جا مانگی ہے

مے کدہ مانگا، نہ ساقی، نہ گلستاں، نہ بہار

جام و ساغر نہ مئے ہوشرُبا مانگی ہے

نہ تو منظر کوئی شاداب و حسیں مانگا ہے

نہ صحت بخش کوئی آب و ہوا مانگی ہے

محفلِ عیش نہ سامانِ طرب مانگا ہے

چاندنی رات نہ گھنگور گھٹا مانگی ہے

بانسری مانگی، نہ طاؤس، نہ بربط، نہ رباب

نہ کوئی مطربۂ شیریں نوا مانگی ہے

 

چین کی نیند، نہ آرام کا پہلو مانگا

بختِ بیدار، نہ تقدیرِ رسا مانگی ہے

نہ تو اشکوں کی فراوانی سے مانگی ہے نجات

اور نہ اپنے مرَض دل کی شفا مانگی ہے

نہ غزل کے لئے آہنگ نیا مانگا ہے

نہ ترنم کی نئی طرزِ ادا مانگی ہے

سن کے حیران ہوئے جاتے ہیں اربابِ چمن

آخرش! کون سی پاگل نے دعا مانگی ہے

آ! ترے کان میں کہہ دوں اے نسیم سحری!

سب سے پیاری مجھے کیا چیز ہے؟ کیا مانگی ہے

وہ سراپائے ستم، جس کا میں دیوانہ ہوں

اس کی زلفوں کے لئے بوئے وفا مانگی ہے

(ڈاکٹر کلیم عاجزؔ)

دل بدل دے

میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے

ہوا و حرص والا دل بدل دے

الٰہی فضل فرما ،دل بدل دے

بدل دے دل کی دنیا ،دل بدل دے

گناہ گاری میں کب تک عمر کاٹوں؟؟

بدل دے میرا رستہ، دل بدل دے

ہٹا لوں آنکھ اپنی ماسواسے

جیوں میں تیری خاطر، دل بدل دے

کروں قربان اپنی ساری خوشیاں

تو اپنا غم عطا کر، دل بدل دے

سہل فرما مسلسل یاد اپنی

الٰہی رحم فرما،دل بدل دے

پڑا ہوں تیرے در پر دل شکستہ

رہوں کیوںدل شکستہ، دل بدل دے

تیرا ہو جاؤں اتنی آرزو ہے

بس اتنی ہے تمنا ،دل بدل دے

میری فریاد سن لے میرے مولا

بنا لے اپنا بندہ ،دل بدل دے

دلِ مغموم کو مسرور کر دے

دلِ بے نور کو پر نور کر دے

میرا ظاہر سنور جائے الٰہی

میرے باطن کی ظلمت دور کر دے

حمد

بُطونِ سنگ میں کیڑوں کو پالتا ہے تُوہی

صدف میں گوہرِ نایاب ڈھالتا ہے تُوہی

دلوں سے رنج و الم کو نکالتا ہے تُوہی 

نفَس نفَس میں مَسرّت بھی ڈالتا ہے تُوہی 

وہ جنّ و انس و مَلک ہوں کہ ہوں چرند و پرند 

تمام نوعِ خلائق کو پالتا ہے تُوہی 

بغیر لغزشِ پا تو ڈبو بھی سکتا ہے 

پھسلنے والوں کو بے شک سنبھالتا ہے تُوہی

تُو ہی تو مُردہ زمینوں کو زندہ کرتا ہے

گُلوں کے جسم میں خوشبوئیں ڈالتا ہے تُوہی

ترے ذبیح کی نازک سی ایڑیوں کے طفیل

سلگتے صحرا سے زم زم نکالتا ہے تُوہی

نجات دیتا ہے بندوں کو ہر مصیبت سے

شکم سے مچھلی کے زندہ نکالتا ہے تُوہی 

جو لوحِ ذہنِ مُشاہدؔ میں بھی نہیں یارب 

وہ حرفِ تازہ قلم سے نکالتا ہے تُوہی

حمد

زمین تیری زماں تیرا ہے امرکن فکاں تیرا

تو خلاق جہاں یارب ہے مخلوق آسماں تیرا

شجر تیرے ثمر تیرے ہے اور آب رواں تیرا

فلک پر ضوفشاں وہ کارواں کہکشاں تیرا

تو متاع گل خنداں گلوں میں بوئے گل تیری

طیوران چمن تیرے نظام گلستاں تیرا

بہر گوشئہ بہر جانب تجلی عام ہے تیری

بہر سو ہیں تیرے جلوے ہر ایک شئی میں نشان تیرا

ہیں اوصاف وثنا تیرے لب خار بیاباں پر

وحوش دشت کی یارب زباں پر ہے بیاں تیرا

درخشاں کوکب وشمس وقمر ہیں نور سے تیرے

اجالا ظلمتوں میں ہر طرف ہے ضوفشاں تیرا

تو پوشیدہ میں ہے ظاہر تو ظاہر میں ہے پوشیدہ

حقیقت یہ ہے کہ بے شک عیاں تیر ا نہاں تیرا

ثنا خواں صرف گلشن میں عنا دل ہی نہیں تیرے

گلوں میں خار بھی پایا گیا تسبیح خواں تیرا

حوادث موج وطوفان وبھنور گرداب ہیں تیرے

تیری رحمت میری کشتی ہے بحر بے کراں تیرا

قلم میں ہے نہ وہ قوت زباں میں ہے نہ وہ طاقت

بیاں ہو وصف کیسے اے مکین لا مکاں تیرا

بوقت مرگ راغب ہے یہ تجھ سے التجا یارب

میسر دید آقا نام ہو وزد زباں تیرا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔