چاہے کتنا بھی مشکل ہو
کبھی ہمت نہ ہارو
جب میں مشکل سے لڑا تو کچھ ہوا تو نہیں مجھے مگر میں جیت بھی نہ سکا نہ پوچھ کے میری منزل کہاں ہے ابھی تو سفر کا ارادہ کیا ہے نہ ہاروں گا حوصلہ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں نے کسی اور سے نہیں خودسے وعدہ کیا ہے مشکل کی راہ پر جو چلتا ہے وہی دنیا کو بدلتا ہے جس نے اندھیرے سے جنگ جیتی ہے سورج بن کر وہی چمکتا ہے
رکھ حوصلہ وہ منظر بھی آئے گا پیاسے کے پاس خود سمندر چل کے آئے گا
یہ زمین پر بیٹھ کر کیوں آسماں دیکھتا ہے بھروسہ اگر اللہ پر ہے جو آپ کی تقدیر میں لکھا وہی پائےگا
لیکن بھروسہ اگر خود پر ہے اللہ بھی آپ کی تقدیر بدل دے گا
بجھی شمع بھی جل سکتی ہے طوفان سے کشتی نکال سکتی ہے
ہو کے مایوس یوں نہ اپنے ارادہ بدل کیوں کہ تیری قسمت کبھی بھی بدل سکتی ہے
جیت کے خاطر دل میں جنون چاہیے جس میں ابال ہو ایسا خون چاہئے
یہ آسماں بھی آئے گا زمین پر بس ارادہ ہو دم چاہیے۔کوشش کے باوجود بھی ہو جاتی ہے کبھی ہار
ہو کر نیراش تو مت بیٹھ میرے یار
جب میں مشکل سے لڑا تو کچھ ہوا تو نہیں مجھے مگر میں جیت بھی نہ سکا نہ پوچھ کے میری منزل کہاں ہے ابھی تو سفر کا ارادہ کیا ہے نہ ہاروں گا حوصلہ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں نے کسی اور سے نہیں خودسے وعدہ کیا ہے مشکل کی راہ پر جو چلتا ہے وہی دنیا کو بدلتا ہے جس نے اندھیرے سے جنگ جیتی ہے سورج بن کر وہی چمکتا ہے
رکھ حوصلہ وہ منظر بھی آئے گا پیاسے کے پاس خود سمندر چل کے آئے گا
یہ زمین پر بیٹھ کر کیوں آسماں دیکھتا ہے بھروسہ اگر اللہ پر ہے جو آپ کی تقدیر میں لکھا وہی پائےگا
لیکن بھروسہ اگر خود پر ہے اللہ بھی آپ کی تقدیر بدل دے گا
بجھی شمع بھی جل سکتی ہے طوفان سے کشتی نکال سکتی ہے
ہو کے مایوس یوں نہ اپنے ارادہ بدل کیوں کہ تیری قسمت کبھی بھی بدل سکتی ہے
جیت کے خاطر دل میں جنون چاہیے جس میں ابال ہو ایسا خون چاہئے
یہ آسماں بھی آئے گا زمین پر بس ارادہ ہو دم چاہیے۔کوشش کے باوجود بھی ہو جاتی ہے کبھی ہار
ہو کر نیراش تو مت بیٹھ میرے یار
بڑھتے رہنا آگے چاہے جیسا بھی ہو موسم
پالیتی ہےچینٹی بھی منزل گر کر بار بار
میدان میں ہارا ہوا انسان پھر بھی جیت سکتا ہے لیکن دل
سے ہارا ہوا انسان کبھی نہیں جیت سکتاہے
ہیرے کو پرکھنا ہے تو اندھیرا کا انتظار کر
دھوپ میں تو کانچ کے ٹکڑے بھی چمکتے ہیں
باپ کی دولت پر فخر کیا کرنا مزا تو تب ہے جب دولت آپکی
ہواورباپ فخر کرے وعدہ ہے میرا ایسا بھی وقت لاؤں گا ایک دن کہ ملنا پڑے گا ان
کومجھ سے میرا وقت لے کر
چاہے مشکل کتنی بھی بڑی ہوں آج نہیں تو کل حل ضرور نکلے
گا
زمین بنجر نکلے تو کیا اگر ہار نہ مانی جائے تو پانی
ضرور نکلے گا
نگاہوں میں منزل تھی گرے اور گر کر سنبھلتے رہے ہواؤں نے
بہت کوشش کی لیکن چراغ آندھیوں میں جلتے رہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔