صفحہ اول

سوشل میڈیا

بدھ، 22 دسمبر، 2021

چاہے کتنا بھی مشکل ہو کبھی ہمت نہ ہارو

چاہے کتنا بھی مشکل ہو کبھی ہمت نہ ہارو
جب میں مشکل سے لڑا تو کچھ ہوا تو نہیں مجھے مگر میں جیت بھی نہ سکا نہ پوچھ کے میری منزل کہاں ہے ابھی تو سفر کا ارادہ کیا ہے نہ ہاروں گا حوصلہ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں نے کسی اور سے نہیں خودسے وعدہ کیا ہے مشکل کی راہ پر جو چلتا ہے وہی دنیا کو بدلتا ہے جس نے اندھیرے سے جنگ جیتی ہے سورج بن کر وہی چمکتا ہے
رکھ حوصلہ وہ منظر بھی آئے گا پیاسے کے پاس خود سمندر چل کے آئے گا
یہ زمین پر بیٹھ کر کیوں آسماں دیکھتا ہے بھروسہ اگر اللہ پر ہے جو آپ کی تقدیر میں لکھا وہی پائےگا
لیکن بھروسہ اگر خود پر ہے اللہ بھی آپ کی تقدیر بدل دے گا
بجھی شمع بھی جل سکتی ہے طوفان سے کشتی نکال سکتی ہے
ہو کے مایوس یوں نہ اپنے ارادہ بدل کیوں کہ تیری قسمت کبھی بھی بدل سکتی ہے
جیت کے خاطر دل میں جنون چاہیے جس میں ابال ہو ایسا خون چاہئے
یہ آسماں بھی آئے گا زمین پر بس ارادہ ہو دم چاہیے۔کوشش کے باوجود بھی ہو جاتی ہے کبھی ہار
ہو کر نیراش تو مت بیٹھ میرے یار

بڑھتے رہنا آگے چاہے جیسا بھی ہو موسم
پالیتی ہےچینٹی بھی منزل گر کر بار بار
میدان میں ہارا ہوا انسان پھر بھی جیت سکتا ہے لیکن دل سے ہارا ہوا انسان کبھی نہیں جیت سکتاہے
ہیرے کو پرکھنا ہے تو اندھیرا کا انتظار کر
دھوپ میں تو کانچ کے ٹکڑے بھی چمکتے ہیں
باپ کی دولت پر فخر کیا کرنا مزا تو تب ہے جب دولت آپکی ہواورباپ فخر کرے وعدہ ہے میرا ایسا بھی وقت لاؤں گا ایک دن کہ ملنا پڑے گا ان کومجھ سے میرا وقت لے کر
چاہے مشکل کتنی بھی بڑی ہوں آج نہیں تو کل حل ضرور نکلے گا
زمین بنجر نکلے تو کیا اگر ہار نہ مانی جائے تو پانی ضرور نکلے گا
نگاہوں میں منزل تھی گرے اور گر کر سنبھلتے رہے ہواؤں نے بہت کوشش کی لیکن چراغ آندھیوں میں جلتے رہے۔

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔