صفحہ اول

سوشل میڈیا

پیر، 21 مارچ، 2022

اے مسلماں! آخرتو غفلت میں رہے گا کب تک۔

اے مسلماں!  آخرتو غفلت میں رہے گا کب تک۔

 

ابھی نئی دہلی سے خبر آئی کہ وہاں سولہ مسجدوں میں بغیر وجہ بتائے نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا گیا__ حجاب کو غیر ضروری قرار دے دیا گیا___ تین طلاق کا حال معلوم ہی ہے___ ہندوستان کی ایک ریاست میں درجہ چھ سے بارہ تک اسکولوں میں بھگوت گیتا کو شامل نصاب کردیا گیا___ دیگر ریاستوں میں کیا ہوگا اندازہ لگانا مشکل نہیں ____ آخر ان تمام کاروائیوں سے ہم کیا سمجھیں؟ کیا حالات نارمل ہیں؟ کیا سب کچھ چنگا ہے؟ کیا ہندوستان میں بسنے والی مسلمان نام کی کوئی قوم بھی ہے جو اک امتیازی شان کی حامل ہے؟ جس کے لئے حکومت کے بہت سے فیصلے موت کے مترادف ہوتے ہیں؟
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا
قوم و ملت کہاں کھوگئی؟ کہاں ہیں رہبران قوم؟ کہاں ہیں دانشور ؟ کہاں ہیں علماء کرام؟؟ کوئی ریاست کے اعلی عہدیدار دار سے مل کر اپنی بات تو رکھتا؟ اپنا موقف ان کے سامنے پیش کرتا؟ کوئی متحدہ جماعت ملک کے اعلی حکمرانوں سے ملاقات تو کرتی، اپنا مدعا تو ان کے سامنے رکھتی، اپنی الجھنیں تو بیان کرتی؟ ظاہر ہے دوریاں  غلط فہمیوں کو بھی تو جنم دیتی ہیں۔
آخر ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل کیا ہے؟ ان نازک حالات میں ان کا لائحہ عمل کیا ہو؟ کون بتائے؟ کون سمجھائے؟ سب کی زبانوں پر تالے، عقلیں گم، دماغ ماؤف۔ یا اللہ۔۔۔
ملت کے ایک طبقے کو تو شاید احساس بھی نہ ہو کہ زمانہ کس قیامت کی چال چل گیا ہے افسوس ، دوسرا طبقہ جسے کچھ حالات کی سنگینی کا احساس ہے اس کی مثال بھی شتر مرغ کی طرح ہے جو گردن کو ریت میں دبائے بیٹھا ہے کہ طوفان آکر اس کے سر سے گزر جائے گا لیکن اسے یہ نہیں پتا کہ اب کے طوفان آیا تو اس کے سمیت سب کچھ بہاکر لے جائے گا۔
کچھ لوگ یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ ان کی دعائیں اور اوراد و وظائف ہی وہ کام کردیں گے جن کے لئے قرن اول کے مسلمانوں کو بھی اپنے مصلوں کو تہہ کرکے میدان عمل میں نکلنا پڑتا تھا۔جن کے لئے خود پیمبر اور اصحاب پیمبر کو بھی منصوبے بنانے پڑتے تھے، مشورے کرنے پڑتے تھے، جدوجہد کرنی پڑتی تھی، عملی کوشش کرنی پڑتی تھی۔
قوم و ملت کے رہنماؤں سے کوئی بدگمانی نہیں ہے بلکہ ان سے حد سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں کہ ضرور خدائے بزرگ و برتر ان کے دلوں کو خیر کے لئے کھول دے گا اور وہ ملت کی ڈانواں ڈول نیا کو بمشیت ایزدی ساحل مراد سے ہم کنار کرسکیں گے ان شاءاللہ، وما ذلك على الله بعزيز.

محمد رافع ندوی
20 مارچ 
2022

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔