صفحہ اول

سوشل میڈیا

منگل، 30 جنوری، 2024

روزے کے احکام ومسائل


 روزے کے احکام ومسائل

رمضان المبارک کا روزہ فرض اور دین اسلام کا چوتھا رکن ہے ۔ اس کی فرضیت قرآن وحدیث دونوں سے ثابت ہے ۔ روزے کو عربی میں صوم یا صیام کہتے ہیں ۔ صوم کے لغوی معنی کسی چیز سے رکنا اور کسی امر سے باز رہنے کے ہیں ۔ جبکہ شریعت کی اصطلاح میں صوم یا صیام سے مراد یہ ہے کہ آدمی صبح صادق سے غرب آفتاب تک کھانے پینے اور جنسی خواہشات پوری کرنے سے باز رہے ۔

روزے کا حکم :

۲ھ ؁ میں رمضان کے روزے مسلمانوں پر فرض کئے گئے اس آیت میں یہ حکم موجود ہے : یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام (اے مومنو!تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔)
روزے کی اہمیت وفضیلت :
روزہ تمام آسمانی شریعتوں میں فرض رہا ہے اور ہر امت کے نظام عبادت میں یہ ایک لازمی جز کی حیثیت میں شامل رہاہے۔ جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: کما کتب علی الذ ین من قبلکم (جیساکہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیاگیاتھا۔)
روزے کا مقصد :

 

روزے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی میں اﷲ کا تقویٰ پیدا ہو جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : لعلکم تتقون تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔تقویٰ دراصل اس اخلاقی جوہر کا نام ہے محبت الہی اور خوف سے پیدا ہوتا۔ اﷲ کی ذات پر پختہ یقین اور اس کی صفت رحمت واحسان کے حقیقی شعور سے آدمی میں جذبہ محبت ابھرتا ہے اور اس کی صفت قہروغضب سے اس کا خوف پیدا ہوتاہے ۔ اس جذبۂ محبت وخوف کی قلبی کیفیت کا نام تقویٰ ہے ۔تقویٰ تمام اعمال خیر کا سر چشمہ اور تمام اعمال بد سے محفوظ رہنے کا یقینی ذریعہ ہے ۔ متقی انسان اندرونی جذبے کے تحت نیکی کی طرف لپکتااور برائیوں سے بچتاہے وہ نیکی سے سکون پاتا ہے اور برائیوں سے کڑھتاہے ۔روزہ اسی کیفیت کے پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے روزے کی حالت میں اپنی مرغوب اور حلال چیز کو صرف اﷲ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں چھوڑتا ہے ۔اس کے قہر وغضب سے ڈرتے ہوئے اس کے قریب نہیں جاتا اور جب اس کو افطار کا حکم دیاجاتاہے تو اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے روزہ افطار کرتاہے اپنی خواہش نفس کو قابو میں رکھتاہے اور بندہ نفس کے بجائے بندہ رب ہونے کا اظہار کرتا ہے اور یہی مقصود ’’روزہ‘‘ ہے 

روزہ فرض ہونے کے لئے سات شرطیں ہیں


(
١) مسلمان ہونا

(٢) عاقل ہونا

(٣) بالغ ہونا

(٤) مکلف ہونا

(٥) روزہ رکھنے پرقادر ہونا

(٦) مقیم ہونا

(٧) ان میں کوئي مانع نہ پایا جائے

 

روزے کی پانچ قسمیں ہیں


(
١) فرض

(٢) واجب

(٣) سنت

(٤) مکروہ

(٥) حرام

 

(١) فرض : صرف ماہ رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں ۔

(٢) واجب : نذر اور منت کے روزے اور قضاءاورکفارے کے روزے واجب ہیں ۔

 

(٣) مسنون : محرم کی 9اور10تاریخ کے دوروزے ۔

یوم عرفہ یعنی ذی الحجہ کی 9تاریخ کا روزہ۔

ایام بیض یعنی ہر اسلامی مہینے کی 13,14,15تاریخ کے روزے ۔یہ روزے سنت غیر مؤکدہ ہیں ان کے رکھنے میں بڑا اجر وثواب اور نہ رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ۔

 

نفل : فرض، واجب اور سنت روزوں کے ماسوا تمام روزے مستحب ہیں جن کے رکھنے میں اجرو ثواب ہے اور نہ رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔لیکن بعض متعین نفلی روزے ایسے ہیں جن کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہےاوران کےرکھنے میں بڑااجروثواب ہے ۔

ماہ شوال کے 6روزے۔

پیر اور جمعرات کا روزہ۔

ذی الحجہ کے ابتدائی عشرے کے 8روزے۔

 

(٤) مکروہ : صرف ہفتہ اور اتوار کا روزہ ۔

صرف یوم عاشورہ کا روزہ ۔

صوم وصال یعنی درمیان میں ناغہ کئے بغیر مسلسل روزے رکھنا۔

 

مسئلہ : صرف جمعہ کو اس کی فضیلت سمجھتے ہوئے روزہ رکھنا مکروہ ہے لیکن اگر کسی شخص کو صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے کا موقع ملتاہو تو پھر مکروہ نہیں ہے 

 

(٥) حرام :  سال میں پانچ دن ایسے ہیں جس میں روزہ رکھنا حرام ہے:

یکم شوال یعنی عیدالفطر کے دن کا روزہ ۔

ماہ ذی الحجہ کی۱۰،۱۱،۱۲،۱۳ تاریخوں کے چار روزے۔

علاوہ ازیں حدیث میں رمضان سے ایک دو روز قبل (استقبال رمضان) روزہ رکھنے کو منع کیاگیاہے ۔

 

روزے کے فرائض:

 

روزے میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک تین باتوں سے رکا رہنا فرض ہے ۔

(١) کھانے سے

(٢) پینے سے

(٣) نفسانی خواہشات سے

 

روزے کے سنن اور مستحبات :

 

(١) سحری کھانا سنت ہے اگرچہ وہ چند گھونٹ پانی ہی کیوں نہ ہو۔

(٢) سحری میں کھجور کھانا مستقل سنت ہے ۔

(٣) سحری اخیر وقت یعنی صبح صادق سے ذرا پہلے کھانا سنت ہے ۔

(٤) افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے جب غروب آفتاب کا یقین ہوجائے تو پھر دیر کرنا ہرگز صحیح نہیں ۔

کھجور ، چھوارہ اگر مہیا ہوں تو ان سے افطار کرنا مستحب ہے ۔ پانی سے بھی مستحب ہے۔ روزے کی نیت رات ہی سے کرلینا مستحب ہے ۔

غیبت، چغلی، شورہنگامہ ، لڑائی جھگڑا، سخت کلامی اور غصہ وغیرہ سے روزے میں بچنے کااہتمام کرنا مسنون ہے۔ مومن کو یوں بھی ان چیزوں سے بچنا چاہئے۔لیکن روزے میں اور زیادہ شعور کے ساتھ ان سے بچے رہنے کا اہتمام کرنا مسنون ہے ۔

 

روزہ توڑنے والی چیزیں:

 

(1)جماع

(2)کھانا - پینا 

(3)شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا 

(4)جان بوجھ کر قے کرنا 

(5)حیض و نفاس کے خون کا جاری ہونا 

(6) کان اور ناک میں دوا ڈالنا 

(7) کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا 

(8) ایسی چیز نگل جانا جو عادةً کھائی نہیں جاتی، جیسے لکڑی یا لوہے کا ٹکڑا، کچے گیہوں یا چاول کا دانہ وغیرہ 

(9) لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا حلق میں پہنچانا، بیڑی، سگریٹ، حقہ پینا 

(10) بھول کر کھاپی لیا اور یہ خیال کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہوگا پھر قصداً کھاپی لیا 

(11) یہ سمجھ کر کہ ابھی رات باقی ہے، صبح صادق کے بعد سحری کھالی 

(12) دن باقی تھا مگر غلطی سے یہ سمجھ کر کہ آفتاب غروب ہوگیا ہے، روزہ افطار کرلیا تو ان تمام صورتوں میں روزہ ٹوٹ گیا

 

روزے کے متفرق مسائل :

 

عورتوں کوایام ماہواری اور نفاس کے علاوہ جو خون آئے وہ استحاضہ کہلاتا ہے اس صورت میں نماز اور روزہ معاف نہیں ہے لہٰذا استحاضہ کے دوران نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا لازم ہے ۔

امتحان یا کسی مشقت والے کام کی وجہ سے رمضان کا روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے ۔

دوسرے کی طرف سے روزہ نماز ادا نہیں ہوسکتا۔

عرب ممالک سے آنے والے ہندوستان میں رمضان کے روزے رکھتے رہیں گے ۔ تیس سے زائد روزے نفل شمار ہوں گے جبکہ ہندوستان سے عرب ممالک جانے والے وہاں کے 

مطابق عید کریں گے اور جو روزہ رہ گیا وہ بعد میں اس کی قضاء کریں ۔

جمعۃ الوداع کےروزےکی اپنی کوئی فضیلت نہیں ہے ۔

 

نیت مسائل :

 

دل کے ارادے کو نیت کہتے ہیں، چاہے زبان سے کچھ کہا جائے یا نہ کہا جائے ، سحری میں اٹھنا اورسحری کرنا بھی نیت میں شمار ہوتاہے ۔

روزے کے لئے نیت شرط ہے ۔ نیت عربی میں ضروری نہیں، اپنی زبان میں بھی کرسکتے ہیں ۔ عربی میں نیت کےالفاظ یہ ہیں(بصوم غدٍ نویت من شہررمضان)

(میں رمضان کے کل کے روزے کی نیت کرتاہوں )

روزہ خواہ فرض ہو یا نفل، قضاء ہو یا نذر نیت کے بغیر صحیح نہیں ہے ۔ بغیر نیت کے تمام دنکچھ کھائے پئے بغیر گزار دینا روزہ نہیں کہلائے گا۔

ماہ رمضان میں صرف رمضان کا روزہ شمار ہوتاہے اگرچہ نیت کسی اور روزے کی کی ہو۔

رمضان کے ہر روزے کی علیحدہ نیت ضروری ہے ۔ سارےمہینےکےروزوں کی ایک مرتبہ نیت کافی نہیں ہے ۔

صبح صادق سے قبل کسی روزے کی نیت کرلی تو جب تک صبح صادق نہ ہوجائے کھانا پینا جائز ہے ۔

رمضان کے روزے میں اگر رات کو نیت کرکے توڑدی اور دن کو کھاپی لیا تو صرف قضاءلازم ہوگااور اگر دن میں نیت توڑ کر کھاپی لیا تو کفارہ بھی لازم آئے گا اور اگر غیر رمضان میں رات کو نیت توڑ دی تو قضاء ہے نہ کفارہ اور اگر دن میں نیت ختم کرکے کھاپی لیا تو صرف قضاء لازم ہوگا۔ جن روزوں میں ان کا وقت متعین ہے اس میں بلاعذرنیت توڑنا جائز نہیں اور غیر معین میں توڑنا بغیر عذر کے بھی جائز ہے ۔


سحری کا وقت:

 

روزے دار کو رات کے آخری حصے میں صبح صادق سے پہلے پہلے سحری کھانا مسنون ہے اور باعث برکت وثواب ہے ۔ نصف شب کے بعد جس وقت بھی سحری کرلے سنت ادا ہوجائے گی ۔

اگر مؤذن نے صبح کی آذان وقت سے پہلے دے دی تو سحری کی ممانعت نہیں جب تک صبح صادق نہ ہوجائے سحری کرسکتے ہیں ۔

سحری میں جہاں تک ہوسکے دیر کرکے کھانا مسنون ہے لیکن اتنی دیر نہ کرے کہ صبح ہونے لگے اور روزہ میں شبہ پڑجائے ۔

صبح صادق کے بعد کھنا پینا درست نہیں خواہ آزان ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔

صبح صادق کے بعد کسی نے کھاپی لیا تو روزہ نہیں ہوگا۔

 

جن چیزوں سے روزہ نہ ٹوٹتاہے نہ مکروہ ہوتاہے :

 

(١) مسواک کرنا

(٢) کان میں پانی ڈالنا یا بلا ارادہ چلے جانا 

(٣) آنکھ میں دوا یا سرمہ لگانا اگرچہ اس کا اثر حلق میں محسوس ہو۔ 

(٤) دانتوں سے خون نکلے اور حلق میں نہ جائے

(٥) سوتے میں احتلام ہوجانا ۔ 

(٦) خودبخود قے آجانا 

(٧) حلق میں بلا اختیار دھواں گردو غبار یا مکھی چلے جانا 

(٨) کسی قسم کا ٹیکہ یا انجکشن لگوانا البتہ طاقت کا انجکشن لگوانا مناسب نہیں 

(٩) گرمی یا پیاس کی وجہ سے غسل کرنا یا کپڑا لپیٹنا ۔ 

(١٠) بدن پر تیل ملنا ۔

(١١) ناک کوروزے کی حالت میں اتنی زور سے سڑک لیا کہ حلق میں چلی گئی

(١٢) بلغم یا تھوک کے نگلنے سے۔ 

(١٣) دانتوں میں گوشت کا ریشہ اٹکا ہواتھا وہ کھالیااگرچنے کی مقدارسے کم تھا۔

(١٤) کھارے پانی سے وضو کرنا۔

(١٥) خود بخود الٹی ہوجائے تو اگرچنے کی مقدار تک اس کو نہ نگلا ہو تو روزہ نہیں ٹوٹتا

(١٦) قصداً قے کرنا مگر مقدار منہ بھرکرنہ ہو۔ 

(١٦) حالت جنابت میں روزہ شروع ہو۔

(١٧) پھول سونگھنے سے ۔ 

(١٨) بھول کر کھانے پینے سے ۔

(١٩) بچے کو دودھ پلانے سے۔

(٢٠) بے ہوش ہوجانے سے۔

(٢١) ضرورت کے وقت اپنے منہ سے چبا کر چھوٹے بچے کو کوئی چیز کھلانا جائز ہے اور بلاضرورت مکروہ ہے ۔

 

جن چیزوں سے روزہ مکروہ ہوجاتاہے :

 

(١) ٹوتھ پیسٹ ، منجن یا کوئلہ سے دانت صاف کرنا بشرطیکہ یہ چیزیں حلق میں بالکل نہ جائیں ۔

(٢) منہ میں تھوک جمع کرکے قصداً نگل لینا ۔

(٣) ایسا کام یا محنت کرنا جس سے اس قدر کمزوری کا اندیشہ ہو کہ طاقت نہ رہے ۔

(٤) بلاضرورت کوئی چیز چبا کر یا نمک وغیرہ چکھ کر تھوک دینا ۔

(٥) کلی کرنے یا ناک میں پانی ڈالنے میں ضرورت سے زیادہ اہتمام کرنا۔

(٦) غیبت ، گالی گلوچ ، شوروہنگامہ کرنا کسی کو ستانا اور جبروزیادتی کرنا ۔

 

جن چیزوں سےروزہ ٹوٹ جاتاہےاورصرف قضاواجب ہوتی ہے :

 

(١) جان بوجھ کر منہ بھر کرقے کرنا۔

(٢) رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کرلی۔

(٣) بھول کر کھاپی لیا اور یہ سمجھ کرکہ اب تو (٤)روزہ ٹوٹ گیا ہے پھر قصداً کھاپی لینا ۔

(٥) نزلہ میں وکس(Vicks)اور دوسری ایسی دوا (٦)سونگھنا جس کی تیزی دماغ تک پہنچتی ہو۔

(٧) سحری میں پان کھایا مگر منہ صاف نہ کیاپان کے اجزاء صبح صادق کے بعد تھوک کے ساتھ نگل لئے تو روزہ فاسد ہوگیا۔ البتہ منہ اچھی طرح صاف کرلیاتھا صرف سرخی باقی تھی تو روزہ برقرار رہے گا۔

(٨) قبل از غروب غلطی سے یہ سمجھ کر سورج غروب ہوگیا روزہ افطار کرلیا۔

کلی کرتے وقت یا ناک میں پانی ڈالتے وقت اگر بلا (٩)ارادہ حلق میں پانی چلاگیا اور روزہ بھی یاد تھا تو روزہ ٹوٹ گیا اگر روزہ یاد نہیں تھا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

(١٠) بیوی کو چھونے اس کا بوسہ لینے سے انزال ہوجائے ۔

(١١) لوبان ، اگر بتی عودوغیرہ کا دھواں قصداً ناک وحلق میں پہنچانا۔

(١٢) روزے کی حالت میں عورت کو ایام آگئے یا نفاس شروع ہوجائے ۔ 

(١٣) دانت یا داڑھ سے خون نکلایا دوائی اس میں لگائی تھی وہ حلق میں چلاگیا۔

(١٤) پان، سگریٹ ، نسوار ، حقہ کےاستعمال کرنے سے۔اگر اس کو نافع نہ سمجھتاہو۔

(١٥) کوئی ایسی چیز کھالے جو نہ دوا ہوا اور نہ غذا۔ مثلاً لوہے یا لکڑی کا ٹکڑایا کنکر وغیرہ ۔

 

جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا اور کفارہ دونو ں لازم ہوتے ہیں بشرطیہ کہ رمضان کا ادا روزہ ہو:

 

(١) روزہ رکھ کر قصداً کھا ،پی لینا یا کوئی دوائی قصدًاکھا لینا ۔

(٢) قصداً ہم بستری کرلینا اگر چہ مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کی ہو۔

(٣) قصداً حقہ ، بیڑی یا سگریٹ پی لینا ۔

 

روزہ کا کفارہ :

 

رمضان المبارک کا روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دومہینے چاند کے حساب سے لگاتار روزے رکھے یہ دو مہینے ایسے ہوں گے جن کے درمیان رمضان وعیدین اور ایام تشریق نہ آئیں ۔ اگر روزے رکھنے کی طاقت نہ ہوتو 60مسکینوں کو صبح وشام پیٹ بھرکر کھانا کھلا دے اگر یہ مشکل ہوتو احتیاطاً دو کلو خالص گندم یا آٹا یا اس کی قیمت 60مسکینوں میں سے ہر ایک کو دے دیں۔ کفارہ صرف اسی وقت آتاہے جب رمضان کا روزہ رمضان ہی کے مہینے میں جان بوجھ کر توڑ دیا جائے اور اگر رمضان کے مہینے کے علاوہ اور دنوں کا روزہ ہو یا رمضان کے قضاء کا روزہ ہی کیوں نہ ہو اس کو توڑدیا جائے تو صرف قضاء واجب ہوگی کفارہ نہیں ہوگا۔ اور یہ روزہ ایسی چیز کے استعمال سے توڑا گیا ہو جس کی جانب طبیعت راغب ہو، پیٹ کی طلب پوری کی جائے اگرچہ وہ بہت ہی کم مقدار میں ہوحتیٰ کہ ایک تل کے برابر ہی کیوں نہ ہو، دوم یہ کہ اس مقصود خواہش نفسانی کو پورا کرنا ہو۔

کسی نے رمضان میں روزہ کی نیت ہی نہیں کی اس لئے کھاپی رہا ہے ۔ اس پر کفارہ واجب نہیں کفارہ جب ہی ہے کہ نیت کرکے روزہ توڑدے ۔

ازدواجی تعلق کے علاوہ کسی اور سبب سے کفارہ واجب ہوا ہو اور ابھی کفارہ نہیں دیا تھا کہ دوسرا واجب ہوجائے تو ان دونوں کے لئے ایک ہی کفارہ کافی ہے اگرچہ دونوں کفارے دو رمضانوں کے ہو ۔ البتہ ازدواجی تعلق کے سبب سے جتنے روزے فاسد ہوئے ہوں تو اگر وہ ایک ہی رمضان کے روزے ہیں تو ایک ہی کفارہ کافی ہے اور اگر دو رمضان کے ہیں تو ہر ایک رمضان کا کفارہ الگ الگ دینا ہوگا اگر چہ پہلا کفارہ نہ ادا کیاہو۔

کفارہ میں اوّلا ساٹھ روزے رکھنا واجب ہے اگر ساٹھ روزے رکھنے کی استطاعت نہیں ہے تو پھر مسکینوں کو صبح وشام کھانا کھلایا جائے گا۔

روزے رکھنے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ اوّل قضاء روزے رکھے جائیں پھر کفارے کے روزے رکھے جائیں اگر کسی نے پہلے کفارے کے روزے رکھے پھر قضاء روزےرکھتاہے تو یہ بھی جائز ہے ۔

کفارے کے روزے مسلسل رکھنا واجب ہے درمیان میں ناغہ نہ ہونے پائے کفارے کے روزوں کے درمیان رمضان آگیا یا عیدالاضحی وایام تشریق آگئے یا بیمار ہوگیا یا بچے کی ولادت ہوگئی تو ان تمام صورتوں میں ازسرنوکفارے کے روزے رکھنا واجب ہے ۔البتہ ایام ماہواری آجائیں تو ان دنوں میں روزہ نہ رکھے اس کی وجہ سے تسلسل نہیں ٹوٹے 

گا یہ معاف ہے ۔ ایام ماہواری کے بعد بقیہ روزے مکمل کرلے۔

اگر کفارے کے روزے قمری مہینے کی پہلی تاریخ سے شروع کئے تو چاند کے حساب سے دو ماہ پورے کرے خواہ ساٹھ دن ہوں یا انسٹھ دن ہوں یا اٹھاون دن اور اگر قمری مہینے کے درمیان سے شروع کئے گئے تو اس مہینے کو پورا کرکے اگلے پورے ماہ کے روزہ رکھنا اور پھر تیسرے مہینے میں اتنے روزے رکھنا چاہئے کہ پہلے مہینے کے دن ملا کر پورے تیس 

ہوجائیں ۔

اگر روزے کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے کفارہ میں کھانا کھلائے تو اس میں ساٹھ روز ایسے محتاجوں کو کھلانا واجب ہے ۔ جوکفارہ دینے والے کے اپنے خاندان کے لوگ نہ ہوں اور خاندان سے مراد یہ ہے کہ جس کا نفقہ اس پر واجب ہے ۔ مثلاً والدین ، دادا ،بیٹے ، پوتے اور بیوی وغیرہ

کھانا کھلانے کی صورت میں تسلسل کی ضرورت نہیں متفرق ایام میں کھلانے سے بھی کفارہ ادا ہوجاتاہے ۔

کھانا ان مسکینوں کو کھلایا جائے جو خالی پیٹ یعنی بھوکے ہوں ار اتنا کھلایا جائے کہ بھوکے نہ رہیں شکم سیر ہوکر کھائیں ۔

ساٹھ محتاجوں کو دو وقت پیٹ بھر کھلانا واجب ہے اس طرح چاۂے تو انہیں ایک ہی دن دو وقت یعنی صبح وشام کھلادے چاہے دو دن صبح کے وقت یا دو دن شام کے وقت کھلا دے مگر شرط یہ ہے کہ جن محتاجوں کو کھانا کھلایا جائے دوسرے وقت بھی انہیں محتاجوں کو کھانا کھلانا ہوگاچنانچہ اگر کسی نے ایک وقت ساٹھ محتاجوں کو کھانا کھلادیا اور پھر دوسرے وقت ان کے علاوہ دوسرے ساٹھ محتاجوں کو کھلایا تو یہ کافی نہ ہوگا بلکہ کفارہ اسی وقت ادا ہوگا جب ان دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت کو پھر دوبارہ ایک وقت اور کھنا کھلائے اور اگر ساٹھ روز تک روزانہ نئے محتاج کو صبح شام کھانا کھلائے یا ایک ہی مسکین کو ساٹھ روز تک صبح وشام کھاناکھلائے تو کفارہ ادا ہوجائے گا۔ اگر ان مسکینوں میں بعض بچے قریب البلوغ نہ ہو تو ان کو کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہیں ہوتا بلکہ ان بچوں کی تعداد کی مقدار اور مسکینوں کو کھانا کھلائے البتہ اگر ان کو کفارے کی مقدار گندم یا اس کی قیمت ہر ایک بچہ کی ملک کردی جائے تو درست ہے ۔

اگر کھانا کھلانے کے بجائے اناج یا اس کی قیمت دینا چاہے تو ایک مسکین کو صدقہ فطر کے مقداراناج یا اس کی قیمت دی جائے ۔

کفارے میں ایک مسکین کو ایک دن میں زیادہ سے زیادہ ایک ہی دن کا فدیہ ادا ہوگا اب اگر ایک مسکین کو زیادہ مقدار دے دیا تو وہ ایک ہی دن کا ہوگا، زیادہ شمار نہ ہوگا۔البتہ شیخ فانی( وہ بوڑھاجس کو روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو) رمضان کے پورے روزوں کا فدیہ ایک ہی محتاج کو دینا چاہے یا ایک ا یک محتاج کو کئی کئی روز کا فدیہ دے تو یہ جائز ہے ۔ روزے کے کفارے میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا یا اناج یا اس کی قیمت دینا یا ایک مسکین کو ساٹھ دن دینا ضروری ہے ایک مسکین کو ایک دن سے زیادہ دینے میں ایک دن کا ہی ادا ہوگا غرض کفارہ میں تعداد فقراء یا تعداد ایام کا ہونا ضروری ہے اور فدیہ میں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔

اگر کسی نے دوسرے سے کہہ دیا کہ تم میری طرف سے کفارہ ادا کردو اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اور اس نے اس کی طرف سے کھانا کھلا یا یا اناج دے دیا یا اس کی قیمت دے دی تو کفارہ ادا ہوجائے گااور اگر بغیر اس کے کہے کسی نے اس کی طرف سے دے دیا تو کفارہ صحیح نہیں ہوا۔

کفارے میں اپنی جگہ کسی کو وکیل بناکر اس کے ذریعہ مسکینوں کو کھانا یا اس کی قیمت دے سکتاہے ۔

بیوی کے کفارے کو ادا کرنا شوہر پر لازم نہیں ہے ۔

کفارے کی رقم مسجد میں نہیں لگاسکتے۔

وہ عذر جن کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے :

اگر ایسا بیمار ہے کہ روزہ نقصان کرتاہے اور یہ ڈر ہے روزہ رکھے گا تو بیماری بڑھ جائے گی یا دیر میں اچھا ہوگا ، یا جان جاتی رہے گی تو روزہ نہ رکھے جب اچھا ،ہوجائے تو اس کی قضا کرلے ۔ لیکن صرف دل سے ایسا خیال کرلینے سے روزہ چھوڑنا درست نہیں ہے بلکہ جب کوئی مسلمان دین دار حکیم ، طبیب یا ڈاکٹر کہہ دے کہ روزہ تم کو نقصان کرے گا تب چھوڑ نا چاہئے ۔

مسافر شرعی جو اپنے شہر کی آخری حدود سے کم ازکم اڑتالیس میل کے سفر کی نیت سے گھر سے نکلا ہو اس کے لئے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے البتہ اگر سفر میں تکلیف اور مشقت نہ ہوتو روزہ رکھ لینا افضل ہے ۔

سفر کے دوران کسی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت سے ٹھہرا تو رمضان کا روزہ رکھنا ضروری ہے ۔

جوعورت حمل سے ہو اور روزہ رکھنے سے بچے کو یا اپنی جان کو خطرہ ہوتو روزہ ہرگز نہ رکھےبعد میں قضا کرلے۔

عورتوں کے مخصوص ایام اور نفاس کے دوران روزہ رکھنا حرام ہے ۔

جس عورت کے متعلق کسی بچے کا دودھ پلانا ہو خواہ بچہ اسی کا ہو یا کسی دوسرے کا اجرت پر پلاتی ہو یا مفت ۔ البتہ مفت پلانے کی صورت میں تفصیل ہے کہ اگر کوئی دوسری دودھ پلانے والی مل جائے اور وہ بچہ بھی اس سے پینے سے راضی ہوجائے تو ایسی حالت میں اس کو روزہ نہ رکھنا جائز نہیں ۔

عورتوں کا نفلی روزہ بغیر اجازت شوہر منع ہے ۔ شوہر اس کے توڑنے کا حکم کرسکتاہے ۔ توڑدیا تو صرف قضاء لازم ہے ۔

بچہ جب روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو تو اس کو حکم دیا جائے گااور اگر روزہ نہ رکھا تو بھی قضاء نہیں ہے ۔ دس سال کے بچے کے حق میں روزہ بمنزلہ نماز ہے ۔

روزہ رکھنے کے بعد توڑنے کی اجازت :

روزہ رکھنے کے بعد ایسا شدید حادثہ آجائے یا بیمار ہوجائے کہ اس میں دوایا غذانہ ملنے کی صورت میں جان کی ہلاکت کا اندیشہ ہویا مرض میں غیر معمولی شدت پیدا ہونے کا خطرہ ہوتو روزہ توڑنا جائز ہے بعد میں صرف قضاء لازم ہے ۔رمضان میں اگر کسی کا روزہ ٹوٹ گیا تو روزہ ٹوٹنے کے بعد بھی دن میں کچھ کھانا پینا درست نہیں سارے دن روزے دار کی طرح رہنا واجب ہے ۔

روزے کی قضاء سے متعلق مسائل

جو مریض صحت یات ہوجائے یا عورت کے مخصوص ایام ختم ہوجانے یا نفاس ختم ہوجائے تو ان کو قضاء روزے رکھنا لازم ہے فدیہ سے روزہ معاف نہ ہوگا۔

اگر کسی عذرکی وجہ سے روزہ قضاء ہوگیا تو عذر ختم ہونے کے بعد جلدازجلد ادا کرلینا چاہئے کیونکہ زندگی اور طاقت کا کوئی بھروسہ نہیں ۔

روزوں کی قضا کرنے میں اختیار ہے لگاتاررکھے یا ایک ایک دو دو کرکے رکھے۔

روزے کی قضاء میں دن تاریخ مقرر کرکے قضاء کی نیت کرنا فلاں دن تاریخ کے روزے رکھتاہوں یہ ضروری نہیں ہے بلکہ جتنے روزے قضاء ہوں اتنے ہی روزے رکھ لینا چاہئے البتہ اگر د ورمضان کے کچھ روزے قضاء ہوگئے اور دونوں سال کے روزوں کی قضاء کرنی ہے تو سال کا مقرر کرنا ضروری ہے یعنی اس طرح سے نیت کرے کہ فلاں سال کے روزوں کی قضاء رکھتاہوں ۔

ابھی گذشتہ رمضان کے قضاء روزے نہیں رکھے گئے تھے کہ دوسرا رمضان آگیا تو اب اس رمضان کے ادا روزے رکھے، عید کے بعدقضاء رکھے لیکن اتنی دیر کرنا بری بات ہے۔

قضاء روزوں میں نیت صبح صادق سے پہلے کرے اگر اس کے بعد کیا تو یہ نفلی روزہ شمار ہوگا۔ قضاء روزہ پھر رکھنا ہوگا۔

اگر مسافر سفر سے لوٹنے کے بعد اور مریض تندرست ہونے کے بعد وقت نہ پائے کہ جس میں قضاشدہ روزے رکھ سکتا تو اس کے ذمہ ان روزوں کی قضا لازم نہیں اور نہ ہی ان کی فدیہ کی وصیت لازم ہے ۔

نابالغ بچہ اگر روزہ توڑدے تو اس کے ذمہ اس کی قضاء نہیں

جس کے ذمہ قضاء روزے باقی ہوں تو پہلے قضاء روزے رکھے پھر نفل روزے رکھے ۔ اگر نفل روزے پہلے رکھتا ہے اور پھر قضاء رکھتاہے تو بھی جائز ہے لیکن بہتر اوّل ہے ۔

مسنون اور مستحب ایّام میں قضاء روزے رکھے تو وہ قضاء کے روزے شمار ہوں گے ۔

رمضان کے قضاء روزوں کو اگلے رمضان سے قبل رکھ لینا چاہئے ۔

مریض کے احکام: 

مریض نے روزہ رکھ کر توڑ دیا تو صرف قضاء ہے ۔

خوف شدت مرض ہو تو روزہ توڑ سکتاہے صرف قضاء ہے ۔

مریض اگر صحت یاب نہ ہواتوا س کا فدیہ واجب نہیں ہے ورثاء دیدیں تو بہتر ہے ۔

شیخ فانی رمضان کے ہر روزے کے بدلے میں ایک فدیہ دے گا۔ فدیہ رمضان سے قبل نہیں دے سکتا رمضان شروع ہوجائے تو دے سکتاہے ۔

ایک فدیہ کی مقدار ایک صدقہ فطرے کے برابر ہے ۔ چاہے غلہ دے دے یا اس کی قیمت دے دے ۔

سفر کے احکام:

دن میں سفر کا ارادہ ہے تو صبح صادق کو نیت روزہ کرے بعد میں سفر شروع ہوجائے تو پورا کرنا لازم ہے لیکن اگر توڑ دیا تو صرف قضاء لازم ہے ۔

روزے کا فدیہ:

اگر کوئی ایسا بوڑھا ہوگیا کہ سردی، گرمی کسی موسم میں بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہ رہے یاکوئی ایسی مہلک بیماری میں مبتلاہو کہ اب نہ تندرست ہونے کی امید ہے اور نہ ہی روزہ کی طاقت تو ان کے لئے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن اس کے بدلے میں فدیہ دینا واجب ہے ۔

فدیہ دینے کے بعد اگر طاقت آگئی یا تندرست ہوگیا تو روزے کی قضاء واجب ہے اور جو فدیہ دیا اس کا ثواب الگ سے ملے گا۔

ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو صبح وشام پیٹ بھر کے کھانا کھلانے یا صدقہ فطر کی مقدار ایک کلو662گرام (پونے دو کلوتقریباً یااحتیاط پورے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ) دینے کو فدیہ کہتے ہیں ۔اگر کوئی اتنا غریب ہے کہ فدیہ بھی نہیں دے سکتا تو وہ استغفار کرتارہے اور دل میں نیت رکھے کہ جب بھی وسعت ہوگی فدیہ ادا کروں گا۔ 

فدیہ کے مصارف زکوٰۃ والے ہیں 

فدیہ کی رقم متعدد مساکین کو بھی دے سکتے ہیں اور ایک کو بھی دے سکتے ہیں ۔

گزشتہ سالوں کا فدیہ موجودہ وقت کی قیمت کے مطابق ادا کیاجائے۔

شش عید کے روزے :

متفرق رکھنا بہتر ہے مسلسل رکھنا مکروہ نہیں ۔

افطار کی دعا:

افطار کے وقت یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : 

الّٰھُمَّ لَکَ صُمتُ وعلیٰ رِزقکَ اَفطَرتُ!

(اے اﷲ ! میں نے آپ ہی کے لئے روزہ رکھا اور آپ ہی کے دیئے ہوئے رزق سے افطار کیا)

 

مراجع :

 

(١) قرآن

(٢) حدیث

(٣) مظاہرحق

(٤) مسائل روزہ

(٥) نورالایضاح

(٦) تعلیم الاسلام

 

طالب دعا...........امتیاز ندوی

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔