صفحہ اول

سوشل میڈیا

اتوار، 26 دسمبر، 2021

کامیابی کیا ہے؟


کامیابی کیا ہے؟

کامیابی کی تعریف کرنا مشکل ہے کیونکہ ہر شخص کا نظریہ کامیابی کے حوالے سے مختلف ہے۔ کہیں دولت کا حصول کامیابی ہے کہیں شہرت اور کہیں عزت‘ کہیں بڑے عہدے کا حصول کامیابی ہے تو کہیں حکومت کا رکن بن جانا کامیابی کے زمرے میں آتا ہے۔ طالب علم کے لئے کسی بڑی ڈگری کا حصول‘ کسی سائنسدان کے لئے کوئی نئی ایجاد کوئی نئی تھیوری کسی ڈاکٹر کے لئے ناقابل علاج یا کسی بڑی بیماری میں مبتلا مریض کی شفایابی کسی وکیل کے لئے بہت ہی پیچیدہ کیس کا جیتنا‘ کسی اداکار کے لئے ایک مشکل کردار کا نبھانا‘ کسی گھریلو عورت کے لئے اپنے سسرال میں اپنا مقام حاصل کر لینا ایک بچے کے لئے پسندیدہ کھلونا پا لینا کسی غریب کیلئے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کر دینا‘ کسی مقروض کے لئے قرض کی ادائیگی‘ بچوں کی شادی کے فرض کو پورا کر لینا‘ عمرہ و حج کی سعادت حاصل کر لینا‘ کسی کسان کے لئے فصل کی صورت میں محنت کا وصول ہو جانا وغیرہ وغیرہ یہ سب کامیابیاں ہیں۔ بس اس کی سطح کہیں چھوٹی ہے تو کہیں بڑی۔ البتہ یہ طے ہے کہ ہر کامیابی خواہ چھوٹی یا بڑی انسان کے لئے خوشی اور طمانیت کا باعث ہے۔

یوں لگتا ہے کامیابی دراصل خواہشات کی لامحدود سیڑھی کا نام ہے۔ ایک قدم ایک خواہش کی غمازی کرتا ہے۔ ایک خواہش دوسری خواہش سے متصل ہے۔ ایک خواہش کی تکمیل کامیابی ہی ہے۔ مگر اس کے بعد اگلی خواہش کے حصول کیلئے قدم بے تاب ہو جاتا ہے اور پھر اس کے حصول تک بے تاب رہتا ہے۔ اگلی خواہش کا حصول پھر ایک کامیابی ہے اور اب تیسری خواہش مدنظر ہوتی ہے اور انسان کا پورا وجود کوشاں ہو جاتا ہے کہ قدم اٹھے اور اس خواہش کے حصول کی کامیابی سے ہمکنار ہو۔ یوں انسان کی پوری زندگی اس لامحدود سیڑھی کو طے کرنے اور کامیابی درکا میابی پانے کی کوشش میں صرف ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور انسان سیڑھی کو وہی چھوڑ کر تنہا بے سروسامان اگلے سفر کو روانہ ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی مصور ‘ کسی خطاط یا کسی ادیب کی تخلیقی کاوش کی تکمیل پہلی کامیابی ہے۔ اب اگلی خواہش اس تخلیق کا لوگوں کے سامنے آنا پھر اگلی خواہش پذیرائی اور داد و تحسین کا ملنا پھر تخلیق در تخلیق پھر تخلیقات کے مجموعے کا منظر عام پر آنا کسی نمائش یا کسی کتاب کی صورت اورپھر اگلی نمائش یا اگلی کتاب کے لئے کوشاں ہو جانا یہی سلسلہ زندگی کے ہر شعبے سے منسلک لوگوں کی زندگیوں میں چلتا رہتا ہے مگر کامیابی کی اس سیڑھی کا اختتام نہیں ہو پاتا۔ یہاں تک کہ ایک دن اچانک قدم خلا میں پڑتا ہے اور وجود بلندی تو کجا سطح زمین پر بھی نہیں ٹھہر پاتا بلکہ اس سے بھی چند فٹ نیچے گڑھے میں دفن ہو جاتا ہے۔ فی زمانہ کامیابی صرف اور صرف دولت و طاقت کاحصول ہے۔ کسی بھی قسم کی کامیابی کو منزل بنایا جائے اس کے پیچھے بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے۔ عالیشان مکان اور پھر ایک کے بعد دوسرا مکانزمین جائیداد بنک بیلنس‘ نئے ماڈل کی گاڑی منزل مقصود بھی ہے اور اصل کامیابی بھی۔
یہاں تک کہ بڑی بڑی علمی ڈگریاں بھی صرف اسی مقصد کیلئے حاصل کی جا رہی ہیں کہ بڑا آدمی بنا جا سکے اور بڑا آدمی بڑے مکان بڑی گاڑی اور بڑے بنک بیلنس کا مالک ہوتا ہے ہر طرف چھوٹی سطح سے بڑی سطح تک اسی کامیابی کے حصول کے لئے کوشش جاری ہے۔ زندگی کے نام نہاد سٹیٹس یعنی معیار کی بلندی ہی کامیابی ہے۔ اور یہ معیار اس قدر بلند ہو چکا ہے کہ انسان اپنی اصل وقعت گنوا بیٹھا ہے۔ ضمیر جعفری کی نظم ”آدمی“ آج کے انسان کی ظاہری دنیاوی کامیابی اور اس کے آدمی کی زندگی اور وقعت پر اثرات کی بہترین عکاس ہے۔ آپ بھی ملاحظہ کیجئے۔
تھا کبھی علم آدمی‘ دل آدمی‘ پیار آدمی
آج کل زر آدمی‘ قصر آدمی‘ کار آدمی
زندگی نیچے کہیں منہ دیکھتی ہی رہ گئی
کتنا اونچا لے گیا جینے کا معیار آدمی
اگر غور کیا جائے تو کامیابی کے حصول نے زندگی اس قدر مشکل کر دی ہے کہ ہم اصل کامیابی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ میرا مطلب زندگی میں سکون‘ راحت اور وقت کا ہونا ۔ وقت کا ہونا اپنے لئے اور خود سے جڑے لوگوں کے لئے زندگی کا لازمی جزو ہے۔ ہم انسان جو معاشرتی حیوان ٹھہرے ہماری خوشی ‘ غم‘ ہار جیت سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہے۔ آج کامیابی کے حصول میں مگن انسان کے پاس وقت ہی نہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہو سکے۔ اگر ہوتا بھی ہے تو انتہائی مشکل سے اور بے دلی یا مجبوری کے ساتھ ۔ آج کامیابی کے حصول کی خاطر بچپن میں ہی بھاری بھرکم بستوں کی صورت میں ڈالا گیا بوجھ ہمارے بچوں کو سر اٹھانے اور ادھر ادھر دیکھنے کا موقع ہی نہیں دیتا۔ آدھی عمر یوں گزرتی ہے اور باقی کی آدھی عمر اگلی نسل کو یہ بوجھ اٹھانے کے لئے تیار کرنے میں۔ کسی کے پاس کسی کے لئے وقت نہیں۔ تمام وقت بڑا آدمی بننے کے لئے ہے اور بڑے آدمی کی تعریف میں پہلے ہی کر چکا۔ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کے ہر عمل کے پیچھے یہی ایک مقصد کارفرما ہے۔ عمل جو بھی ہو وہ کسی ڈاکٹر کا ہو جو صبح سے رات گئے تک کبھی سرکاری ڈیوٹی پہ پھر کسی پرائیویٹ ہسپتال یا ذاتی کلینک پہ پیسہ بنانے کی مشین کے طور پر وقت صرف کر رہا ہے۔ یا کوئی استاد سکولوں‘ کالجوں‘ اکیڈمیوں اور ٹیوشنوں کے چکر میں پھنسا رہتا ہے۔ یا کوئی بھی اور شخص روزی روٹی کے مختلف ذرائع ڈھونڈ ڈھونڈ کر کمائی کا بندوبست کر رہا ہے۔ مقصد ایک ہی ہے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ایک گھن چکر ہے۔ پیسہ کمانا‘ خرچ کرنا۔ پھر پیسہ کمانا اور پھر خرچ کرنا۔ آج کا انسان اس گھن چکر سے چاہ کر بھی نہیں نکل سکتا۔ خواہ وہ نظریاتی طور پر اس گھن چکر کے خلاف ہی کیوں نہ ہو پھر بھی وہ اس سے نکلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جیسے موت کے کنوئیں میں موٹرسائیکل سوار اپنی رفتار تبدیل کرے تو تباہ ہو جائے یوں ہمیں بھی معاشرے کی رفتار سے ہی چلنا پڑتا ہے۔ بڑے کہتے ہیں جب ہم زندگی کو مقفل کر کے صرف کامیابی کے حصول میں مصروف ہو جاتے ہیں ایسی کامیابی کا کوئی فائدہ نہیں۔ کامیابی وہی ہے جس میں کامیابی بھی ہو اور زندگی بھی صرف کامیابی ہی کامیابی نہ ہو۔
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔