صفحہ اول

سوشل میڈیا

پیر، 27 دسمبر، 2021

پیاس لگی تھی غضب کی


 

پیاس لگی تھی غضب کی

پیاس لگی تھی غضب کی
مگر پانی میں زہر تھا
پیتے تو مر جاتے اور نہ پیتے تو بھی مر جاتے
بس یہی دو مسئلے، زندگی بھر نہ حل ہوئے
نہ نیند پوری ہوئی، نہ خواب مکمل ہوئے
وقت نے کہا  کاش تھوڑا سا صبر ہوتا
صبر نے کہا کاش تھوڑا سا وقت ہوتا
صبح صبح اٹھنا پڑتا ہے کمانے کے لئے صاحب
آرام کمانے نکلتا ہوں آرام چھوڑ کر
"
ہنر" سڑکوں پر تماشا کرتا ہے اور "قسمت" محلات میں راج کرتی ہے
"
شكايتیں تو بہت ہیں تجھ سے اے زندگی!
پر خاموش اس لئے ہوں کہ جو دیا تو نے
 
وہ بھی بہت سوں کو نصیب نہیں ہوتا


عجیب سوداگر ہے یہ وقت بھی
جوانی کا لالچ دے کے بچپن لے گیا
اب امیری کا لالچ دے کے جوانی لے جائیگا 
لوٹ آتا ہوں واپس گھر کی طرف  ہر روز تھکا ہارا،
آج تک سمجھ نہیں آیا کہ جینے کے لئے کام کرتا ہوں یا کام کرنے کے لئے جیتا ہوں۔
"
تھک گیا ہوں تیری نوکری سے اے زندگی
مناسب ہوگا میرا حساب کر دے
بھری جیب نے 'دنیا' کی پہچان کروائی اور خالی جیب نے 'اپنوں' کی۔
جب لگے پیسہ کمانے تو سمجھ آیا،
شوق تو ماں باپ کے پیسوں سے پورے ہوتے تھے،
اپنے پیسوں سے تو صرف ضروریات پوری ہوتی ہیں
ہنسنے کی خواہش نہ ہو
تو بھی ہنسنا پڑتا ہے.
کوئی جب پوچھے کیسے ہو  ؟؟
تو "مزے میں ہوں" کہنا پڑتا ہے
یہ زندگی کا تھیٹر ہے دوستو
یہاں ہر ایک کو ڈرامہ کرنا پڑتا ہے
"
ماچس کی ضرورت یہاں نہیں پڑتی

یہاں آدمی آدمی سے جلتا ہے "
دنیا کے بڑے سے بڑے سائنسدان،
یہ ڈھونڈ رہے ہیں کی منگل پر زندگی ہے یا نہیں
پر آدمی یہ نہیں ڈھونڈ رہا
کہ زندگی میں منگل ہے یا نہیں
مندر میں پھول چڑھا کر آئے تو یہ احساس ہوا کہ
پتھروں کو منانے میں،
پھولوں کا قتل کر آئے ہم
گئے تھے گناہوں کی معافی مانگنے
وہاں ایک اور گناہ کر آئے ہم

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔