صفحہ اول

سوشل میڈیا

بدھ، 29 دسمبر، 2021

آگے کی تیاری کیجیے


 

آگے کی تیاری کیجیے

جب موت آئے گی تو یقین جانیں کہ کچھ بھی کام نہ آئے گا،
آپ کے دنیا سے جانے پر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،
اور اس دنیا کے سب کام کاج جاری رہیں گے،
آپ کی ذمہ داریاں کوئی اور لے لے گا،
آپ کا مال وارثوں کی طرف چلا جائے گا،
اور آپ کو اس مال کا حساب دینا ہوگا،
موت کے وقت سب سے پہلی چیز جو آپ سے چلی جائے گی وہ نام ہوگا،
لوگ کہیں گے کہ Dead body کہاں ہے؟
جب وہ جنازہ پڑھنا چاہیں گے تو کہیں گے کہ جنازہ لائیں،
جب دفن کرنا شروع کریں گے تو کہیں گے کہ میت کو قریب کر دیں،
آپ کا نام ہرگز نہ لیا جائے گا،
مال، حسب و نسب، منصب اور اولاد کے دھوکے میں نہ آئیں۔
یہ دنیا کس قدر زیادہ حقیر ہے اور جس کی طرف ہم جا رہے ہیں وہ کس قدر عظیم ہے،
آپ پر غم کرنے والوں کی تین اقسام ہوں گی:
(1)
جو لوگ آپ کو سرسری طور پر جانتے ہیں وہ کہیں گے ہائے مسکین! اللہ اس پر رحم کرے۔
(2)
آپ کے دوست چند گھڑیاں یا چند دن غم کریں گے پھر وہ اپنی باتوں اور ہنسی مذاق کی طرف لوٹ جائیں گے۔
(3)
آپ کے گھر کے افراد کا غم گہرا ہوگا، وہ کچھ ہفتے، کچھ مہینے یا ایک سال تک غم کریں گے اور اس کے بعد وہ آپ کو یاداشتوں کی ٹوکری میں ڈال دیں گے،
لوگوں کے درمیان آپ کی کہانی کا اختتام ہو جائے گا اور آپ کی حقیقی کہانی شروع ہو جائے گی اور وہ آخرت ہے۔


آپ سے زائل ہوجائے گا آپ کا:
(1)
حسن،
(2)
مال،
(3)
صحت،
(4)
اولاد،
(5)
آپ اپنے مکانوں اور محلات سے دور ہو جائیں گے،
(6)
شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے جدا ہو جائے گی،
(7)
باپ بیٹے سے اور بیٹی ماں سے الگ ہو جائے گی،
رشتہ داریاں ٹوٹ جائیں گے قرابت دار یاں ختم ہو جائیں گی،
کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہوگا یارو مددگار نہ ہو گا۔
يوم يفر المرء من اخيه وامه وابيه وصاحبته وبنيه لكل امرئ منهم يومئذ شان يغنيه.
آپ کے ساتھ صرف آپ کا عمل باقی رہ جائے گا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی قبر اور آخرت کے لیے ابھی سے کیا تیاری کی ہے؟
یہ وہ حقیقت ہے جو غور و فکر کی محتاج ہے اس لیے آپ اس کی طرف توجہ کریں:
(1)
فرائض،
(2)
نوافل،
(3)
پوشیدہ صدقہ،
(4)
نیک اعمال،
(5)
تہجد کی نماز،
(6)
اور اچھے اخلاق کی طرف،
شاید کہ نجات ہو جائے!
مرنے والے کو اگر دنیا میں واپس لوٹایا جائے تو وہ صدقہ کرنے کو ترجیح دے گا جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ .(المنافقون:1) اے میرے رب ! تو نے مجھے قریب مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا۔
وہ یہ نہیں کہے گا کہ میں نماز ادا کر لوں یا میں روزہ رکھ لوں یا میں حج اور عمرہ کرلوں۔
علماء کہتے ہیں کہ میت صرف صدقے کا ذکر اس لیے کرتی ہے کیونکہ وہ اپنی موت کے بعد اس کے عظیم اثرات دیکھتی ہے لہذا زیادہ سے زیادہ صدقات و خیرات کریں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔