صفحہ اول

سوشل میڈیا

منگل، 28 دسمبر، 2021

سمجهدار بننے كا آسان نسخہ

سمجهدار بننے كا آسان نسخہ
انسانوں كى انفرادى اور اجتماعى زندگى كے سارے مسائل نا سمجهى سے پيدا ہوتے ہيں، بچوں كى نا لائقى، طلبہ كى آواره گردى، شوہروں اور بيويوں كى كشمكش، دوستوں اور رشتہ داروں كى نفرتيں، ملازموں اور آقاؤں كى رسہ كشى، غربت (اختيارى)، بيمارى (اختيارى)، موٹاپا، يہ سب نتيجہ ہيں ناسمجهى كے، اور سب سے بڑى خرابى  يعنى آخرت سے غفلت يا اس كا انكار بهى اسى ناسمجهى كى پيداوار ہے ۔
وجہ یہ ہے كہ الله تعالى نے انسانوں كو جو صلاحيتيں دى ہيں ان كا مقصد ہے كہ انہيں استعمال كيا جائے، صلاحيتوں سے استفاده انسان كو كامياب كرتا ہے، اور ان كا اہمال خسران كا باعث  ہوتا ہے، ان صلاحيتوں ميں سب سے زياده قابل احترام عقل ہے، عقل سے كئے جانے والا ہر قول وعمل قيمتى ہوتا ہے، اور ہر وه قول وعمل جو عقل سے خالى ہو وه بے قيمت ہوتا ہے ۔
جس طرح  ہاتھ پاؤں اور ديگر جوارح كو كام ميں لانے كى تربيت حاصل كى جاتى ہے، اسى طرح دانشمندى كى تربيت حاصل كرنى ہوتى ہے، ليكن لوگ اس تربيت  كى سعى نہيں كرتے اور جو كرتے ہيں وه بهى سستى كى وجہ سے  فكر ونظر سے جى چراتے ہيں ۔
سوچنے كى تربيت ايك صبر آزما عمل ہے، افسوس اس بات كا ہے كہ اكثر تعليمى مراكز بهى اس پر توجہ نہيں كرتے، نتيجہ ہے كہ پڑهے لكهے لوگ بهى بيوقوف ہوتے ہيں اور ان كى بيوقوفى زياده تباه كن ہوتى ہے، مختلف وجوه سے اس كى اميد تهى كہ  علماء كا حال كچھ بہتر ہو، ليكن ايسا نہيں ہے، اور فكر ونظر كے اہمال كے جو بد ترين عواقب ہيں وه ان ميں بهى نماياں ہيں ۔


اس مضمون ميں يہ تو ممكن نہيں كہ اچهى طرح سوچنے كى مكمل تركيب بتائى جائے،  تاہم ايك خاص چيز كى رہنمائى كى كوشش كى جائے گى،جسے  مضبوطى سے تهام لينے سے بڑى حد تك سمجهدارى آسكتى ہے، اور اس كے بعد حكمت ودانائى كے دوسرے ابواب بهى كهل سكتے ہيں ۔
وه چيز كيا ہے؟ وه كيميا گرى سے زياده قيمتى ہے، اگر لوگ اس پر مضبوطى سے عمل كريں تو ان كى زندگياں بدل جائيں، وه چيز ہے: عاقبت انديشى، يعنى جب بهى كچھ كہيں يا لكهيں تو اچهى طرح سوچيں كہ اس كا انجام كيا ہوگا، اگر انجام اچها ہو  تو كہيں اور لكهيں، ورنہ اپنے اراده سے باز آجائيں، اسى طرج جب كچھ كريں تو سوچيں كہ اس كا انجام كيا ہوگا، اگر انجام اچها ہو تو كريں، ورنہ وه كام ہرگز نہ كريں ۔
كسى نے آپ كى دعوت كى، دسترخوان پر اقسام وانواع كے لذيذ كهانے ہيں، ہاتھ بڑهانے سے پهلے سوچيں كہ ان ميں كيا چيزيں آپ كى صحت كے لئے مناسب ہيں، اور كيا مناسب نہيں، جو چيز مناسب نہيں اسے ہرگز نہ كهائيں، اور جو چيزيں مناسب ہيں، ان كے متعلق سوچيں كہ كتنى مقدار مناسب ہے، جو مقدار مناسب ہو، اس سے كم كهائيں ۔
اگر آپ كا جى جهوٹ بولنے كو كہ رہا ہے تو سوچيں كہ اس كا انجام كيا ہوگا؟ اسى طرح غيبت كرنے يا  غيبت سننے، چغلخورى كرنے، كسى كو تكليف دينے، نقصان پہچانے سے پہلے سوچيں كہ اس برائى كے بعد كيا ہوگا؟ كيونكہ جو  برائى كى جاتى  ہے وه وہيں ختم نہيں ہوتى، اسى طرح جو اچهائى كى جاتى ہے، وہيں ختم نہيں ہوتى ۔
دوستوں سے بات كرنا اور تفريح كرنا اخلاقيات كا اہم حصہ ہے، ليكن اس كى ايك حد ہے، حد سے تجاوز اسے بد اخلاقى ميں داخل كرتا ہے، اوراس كے نقصانات بہت ہوتے ہيں، دوستوں كے چكر ميں كتنے طلبہ كى تعليم برباد ہوگئى، كتنے شادى شده لوگوں كى عائلى زندگى تباه ہوگئى ۔
اپنے جذبات محبت ونفرت كے اظہار سے پہلے ان كے انجام پر غور كريں، خاص طور سے غصہ ہونے سے پہلے خوب سوچيں كہ اس كے بعد آپ كے متعلق آپ كے اقرباء واحباء كى رائے كيا ہوگى؟ اس سے آپ نفساتى كمزورى اور بد اخلاقى كى كس دلدل ميں پهنس جائيں گے؟ كيا بعد ميں كف افسوس ملنے سے اس كا مداوا ہوگا؟ جو شخص اپنے غصه پر قابو نہيں ركهتا لوگ اس سے دوستى كرنا پسند نہيں كرتے، اس كے ساتھ سفر كرنے سے پرہيز كرتے ہيں، بلكہ اس سے كوئى بهى معاملہ نہيں كرنا چاہتے، اس كے بر عكس جو شخص بردبار ہوتا ہے وه ہر شخص كا محبوب ہوتا ہے، اس كے دشمن بهى اس كى تعظيم كرتے ہيں ۔
حاصل يہ ہے كہ  انجام پر غور كرنے كو اپنى عادت بناليں، يہ عادت آپ كو حكماء كى صف ميں كهڑا كردے گى، آپ سے سارے انسان اور فرشتے  محبت كريں گے، آپ رب العالمين كے مقرب بن جائيں گے، اور دنيا وآخرت ميں سرخرو ہوں گے ۔

ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔