کبھی
خوشی’ کبھی غم
کبھی خوشی کبھی
غم کے پیام آتے ہیں
کسی کے عشق میں کیا کیا مقام آتے ہیں
ہمارے پینے کا انداز بھی نرالا ہے
ہمارے واسطے آنکھوں سے جام آتے ہیں
جسے بھلائے ہوئے ایک عمر بیت گئی
اسی کے آج بھی مجھ کو سلام آتے ہیں
کسی کی یاد کے لمحے ہمارے دل کی طرف
عبادتوں کے لئے صبح و شام آتے ہیں
اندھیرا چھایا تو سائے نے ساتھ چھوڑ دیا
سنا ہے وقت پہ اپنے ہی کام آتے ہیں
جو رنگ ابھرتے ہیں الفت کی داستاں میں نظرؔ
فقط انہیں کے مثالوں میں نام آتے ہیں۔
انسانی سوچ کی وسعت اور بلند پروازی’ تخیل کی کوئی حد نہیں ہے۔
بے شک انسان ایک حد کے اندر تقریباً ہر کام کر سکتا ہے لیکن وہ اس دنیا میں کچھ
بھی کرلے دو چیزیں ایسی ہیں جن سے وہ اس دنیا میں چھٹکارا پانہیں سکتا اور وہ ہے
خوشی اور غم۔ اگر آپ بھی غور کریں تو آپ کو بھی محسوس ہوگا کہ آپ جتنے مرضی اچھے
حالات میں ہوں، جتنی بھی کامیاب زندگی گزار رہے ہوں لیکن کسی نہ کسی چیز کا غم آپ
پر ہر وقت حاوی رہتا ہے۔ خوشی اور غم انسانی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں، انسان اگر یہ
چاہے کہ اس کی زندگی میں ہمیشہ خوشی رہے اور غم کا کوئی واسطہ نہ رہے تو ایسا ہونا
ناممکن ہے کیونکہ خوشی کیساتھ غم کا ہونا بھی انسان کی زندگی کیلئے ناگزیر ہوتا
ہے۔ قدرت کے کھیل بھی نرالے ہیں، اگر خوشبو دینے کیلئے پھول اُگائے ہیں تو چبھنے
کیلئے کانٹے بھی پروان چڑھائے ہیں۔ اگر ہم چاہیں کہ باغ میں پھول ہی پھول ہوں اور
کانٹوں کا وجود ہی نہ ہو تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ دراصل دکھ سکھ کے پیمانے ہر
آدمی کے اپنے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی اپنے ڈھنگ سے جیتا ہے، اپنے ڈھنگ سے
خوشی حاصل کرتا ہے اور اپنے دکھوں سے دوچار ہوتا ہے۔ آپ لاکھ جتن کریں، کڑھتے
رہیں، اپنے احساسات دوسروں پر لاد نہیں سکتے۔ ”انسانی زندگی کے سمندر کا جوش اور
ولولہ حالات کی موجوں کے اُتار چڑھاؤ سے وجود میں آتا ہے۔ کبھی بہار ہے تو کبھی
خزاںِ، کبھی وصل ہے تو کبھی جدائی، کبھی صحت ہے تو کبھی بیماری حالات کبھی ایک
جیسے نہیں رہتے، اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
سکوت محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں


%20(2)%20copy.jpg)

