السلام
عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
الحمد لله رب
العالمين والصلوة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين محمد وآله وأصحابه أجمعين
ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين. أمابعد
معزز اساتذہ اکرام،
نوجوان دوستوں اور ہم وطن ساتھیوں!
جب گلستاں کوخوں کی
ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہی گردن
ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں
مجھ سے یہ اہلِ چمن،
یہ چمن ہے ہمارا
تمہارا نہیں
آج ملک بھر میں
76/واں یومِ آزادی independence day منایاجارہا ہے۔ ہم سب اِس سے واقف ہیں کہ کس طرح
ہندوستان انگریزوں کے ظلم و ستم، جابرانہ پالیسیوں اور غلامی کی زنجیروں سے ۱۵/اگست
1947ء کو آزاد ہوا۔ آزادی کے متوالوں نے بلند حوصلوں کے
ساتھ کیسی کیسی قربانیاں پیش کیں۔ مجاہدینِ آزادی کی سخت جدوجہد کے بعد ہمیں آزادی
جیسی نعمتِ عظمیٰ حاصل ہوئی_
دوستوں! لیکن حقیقت
یہ ہے کہ ہندوستان آج بھی صحیح معنوں میں آزادی کا منتظر ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ
ملک میں غریب، مزدور، خواتین، دلِت اور مسلمان محفوظ نہیں ہیں آئے دن ان پر ظلم و
ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔کہیں تو دلتوں کو اچھوت سمجھ کر پیٹا جا رہا ہے کہیں
مسلمانوں کو گائے کے نام پر مارا جا رہا ہے گویاانسان کی جان سے زیادہ اہمیت جانور
کی ہوگئی ہے۔
آج ہم آزادی کے بعد
76/سال کا سفر طے کر چکے ہیں لیکن آج اِس ملک کی تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے
مسلمانوں کے اثار کو مٹایا جا رہا ہے اور آزادی کے حقیقی ثمرات سے ہندوستانی عوام
محروم دکھائی دے رہی ہے_
جدوجہد آزادی کے معماروں
نے ہندوستان کو جس راہ پر گامزن کرنے کا خواب دیکھا تھا، اُس راہ سے ہندوستان نے
خود کو الگ کر لیا ہے اور اب عالمی طاقتوں کا آلہ کار بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ
سوال اب بھی تشنہ جواب ہے کہ کیا واقعی آزاد ملک کا خواب پورا ہوا ہے؟ آزاد
ہندوستان کا خواب اُسی وقت پورا ہوگا جب پورا ہندوستان ترقی کرے گا۔ پسماندہ افراد
کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔دبے کچلے مجروح اور پچھڑے ہوئے لوگوں کو ‘مین
اِسٹریم’ میں لایا جائے گا۔ ہم اکثر اپنے ماضی کی حصولیابیوں پر اِنتہائی مسرت کا
اظہار کرتے ہیں، لیکن اُن کامیابیوں پر مطمئن ہوجانا غلط ہوگا۔
دوستوں! آزادی کا
مطلب ہر شخص کوکھلی فضا میں سانس لینے کا حق ہے۔ہر ایک کو اپنے اپنے مذہب و ملت پر
چلنے کا کلی اختیار، آزادی ایک بیش بہا نعمت، قدرت کا بیحد انمول تحفہ اور زندگی
جینے کا اصل احساس ہے۔ اِس کے برعکس غلامی و عبودیت ایک فطری برائی، کربناک اذیت
اور خوفناک زنجیر ہے۔ اِس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ جس طرح معاشرے میں شخصی
آزادی نہایت اہم ہے اُس سے کہیں زیادہ اجتماعی آزادی کی اہمیت و ضرورت ہے۔ یا
یوں کہئے کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اِس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز نہیں اور اِس
کی حفاظت ہماری اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔
جشن آزادی کی تقریب
میں شریک ہم وطن ساتھیوں!
یومِ آزادی ایک خاص
اہمیت کا حامل اور حب الوطنی کے جذبہ سے بھرپور ایک خاص دن ہے۔ برطانوی تسلط سے
آزادی ہندوستان کی عوام نے طویل جدوجہد کے بعد حاصل کی تھی۔ پندرہ اگست ملک کے
یومِ آزادی کے طور پر ہی نہیں بلکہ اِسی اجتماعی جذبے کو یاد کرنے کیلئے منایا
جاتا ہے۔ ہندوستان کے سَوا سَو کروڑ عوام کو سوچنا چاہئے کہ جشنِ آزادی محض ایک
رسم کا نام نہیں ہے بلکہ آزادی کے بعد سے اب تک ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا،
اپنی قومی پیش رفت، ترقی و بہبود کی رفتار، آزادی کے ممکنہ ثمرات اور فرقہ وارانہ
ہم آہنگی اور ملک کی سالمیت کی بقاء کے سلسلے میں اپنی کاوشوں کے محاسبہ کا نام
ہے۔ یومِ آزادی دراصل خود احتسابی کا دِن ہے۔ آج ہم یہ عہد کریں کہ جس طرح ہم سب
نے مِل کر ملک کی آزادی حاصل کی ہے اُسی حوصلہ و جذبہ سے
پیر، 17 جولائی، 2023
Speech on independence day
جمعہ، 7 جولائی، 2023
कल्कि अवतार
कल्कि अवतार
भारत में प्रकाशित पुस्तक
"कल्कि अवतार"
ने पूरी दुनिया में तहलका मचा दिया है। इस पुस्तक में कहा गया है कि हिंदुओं की धार्मिक पुस्तकों में वर्णित
"कल्कि अवतार"
अंतिम पैगंबर मुहम्मद, शांति उन पर हो, अब्दुल्ला के पुत्र हैं।
यदि इस पुस्तक का लेखक मुस्लिम होता तो अब तक जेल में होता और पुस्तक पर प्रतिबंध लगा दिया गया होता, लेकिन इसके लेखक
"पंडित वेद प्रकाश"
एक ब्राह्मण हिंदू हैं। और वह इलाहाबाद विश्वविद्यालय से संबद्ध हैं। वह संस्कृत भाषा के विशेषज्ञ और प्रसिद्ध शोध विद्वान हैं।
पंडित वेद प्रकाश ने कल्कि अवतार पर अपना शोध देश के आठ प्रसिद्ध और प्रसिद्ध शोध पंडितों के सामने प्रस्तुत किया, जो अपने क्षेत्र में प्रामाणिक माने जाते हैं। इन पंडितों ने पुस्तक के गहन अध्ययन और शोध के बाद यह स्वीकार किया है कि पुस्तक में प्रस्तुत अंश प्रामाणिक और सही हैं।
ब्राह्मण पंडित वेद प्रकाश ने अपने शोध को
"कल्कि अवतार"
नाम दिया जिसका अर्थ है ब्रह्मांड का नेता। हिंदुओं की महत्वपूर्ण धार्मिक पुस्तकों में वास्तव में एक महान नेता का उल्लेख किया गया है। जिसे
"कल्कि अवतार"
कहा जाता है, इसलिए पंडित वेद प्रकाश ने गहन शोध के बाद दावा किया है कि यह कल्कि अवतार पैगंबर मुहम्मद को संदर्भित करता है, जिनका जन्म मक्का में हुआ था। इसलिए, वे कहते हैं कि सभी हिंदुओं को, चाहे वे कहीं भी हों, कल्कि के दूसरे अवतार की प्रतीक्षा करने की आवश्यकता नहीं है, बल्कि इसके लिए उन्हें केवल इस्लाम स्वीकार करना होगा और अल्लाह के अंतिम दूत के नक्शेकदम पर चलना होगा, शांति और आशीर्वाद हो उस पर है, जो अपना मिशन पूरा करने के बाद बहुत पहले ही इस दुनिया से चला गया है।
अपने दावे के प्रमाण में पंडित वेद प्रकाश ने हिंदुओं के पवित्र धार्मिक ग्रंथ
"वेद"
से निम्नलिखित अंश प्रस्तुत किये हैं।
1. यह
"वेद"
पुस्तक में लिखा है।
((कल्कि अवतार भगवान का आखिरी अवतार होगा, जो पूरी दुनिया को रास्ता दिखाएगा।))
इन शब्दों को उद्धृत करने के बाद पंडित वेद प्रकाश लिखते हैं कि इस भविष्यवाणी का प्रयोग केवल पैगम्बर मुहम्मद के मामले में ही सत्य हो सकता है।
2.वेदों
की भविष्यवाणी के अनुसार ((कल्कि अवतार का जन्म एक द्वीप में होगा))
और ये अरब क्षेत्र है, जिसे जजीरा अल-अरब कहा जाता है.
3.

