ہفتہ، 25 جون، 2022

قربانی کے فضائل و مسائل۔


 قربانی کے فضائل و مسائل۔

عن زید بن ارقم، رضی اللہ عنہ قال قال اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،یا رسول اللہ ما ھذہ الاضاحی قال سنۃ ابیکم إبراهيم قالوا فما لنا فیھا یا رسول اللہ، قال بکل شعرۃ حسنۃ قالوا : فالصوف یا رسول اللہ؟ قال :بکل شعرۃ من الصوف حسنۃ ، رواہ احمد وابن ماجہ،مرقات المفاتيح ج /٣ص/ ٥٧٨- ٥٧٧
ایک موقعہ پر محبوب کبریا سے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا
اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کیا چیز ہے؟
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، تمہارے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، پھر صحابہ کرام نے استفسار کیا، اے اللہ کے پاک رسول! اس میں ہمارے لئے کیا ہے؟
آپ نے جوابا ارشاد فرمایا، اس کے ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ہے، انھوں نے عرض کیا، بھیڑ اور دنبے میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے.؟
آپ نے ارشاد فرمایا :اون کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔
حدیث شریف کے اس ٹکڑے ،،سنۃ ابیکم إبراهيم ،، میں دو باتیں قابل لحاظ ہیں، اول سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو باپ کہا گیا، وہ اسلئے کہ ہمارے ممدوح نبی آخر الزماں کو ان سے نسبا تعلق ہے اور آپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور شریعۃ بھی تعلق ہے اسلئے کہ بہت سی چیزوں میں ہماری شریعت ملت ابراہیمی سے ہم آہنگ ہے ، اور اس میں شبہ نہیں کہ ہر نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے، اس طرح بالواسطہ حضرت خلیل اللہ امت محمدیہ کے باپ ہیں۔
اسلوب ترغیب
اس موقع پر بدون ابیکم کے سنۃ إبراهيم بھی کہا جا سکتا تھا، لیکن نبی الانبیاء محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ،، ابیکم،، کا اضافہ فرمایا ، اس سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ تو تمہارے آباء اجداد کا طریقہ رہا ہے یہ کوئی باہر کی چیز نہیں ہے، اور اس میں شبہ نہیں کہ انسان فطری طور پر اپنے آباء اجداد کی رسوم ورواج پر پوری پابندی کے ساتھ عمل کرتا ہے، بلکہ آسانی سے اسے چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے، دیکھئے کفار مکہ کس قدر مضبوطی کے ساتھ اپنے آبائی رسوم پر گامزن تھے، کہ حق کے واضح ہو چکنے کے بعد بھی وہ اپنے آبائی دین سے دست کش نہ ہو سکے،


اثبات فضیلت
اس امر میں غور کرنا چاہیے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت کیا ہے، امت مسلمہ کا شاید کوئی ایسا فرد ہو ، جو اس سے ناواقف ہو کہ ان کی سنت ذبح ولد ہے، اسی وجہ سے اس قربانی کو سنت ابراہیمی کے ساتھ موسوم کیا جاتا ہے، اور دوسری قابل غور بات یہ ہے، کہ انہوں نے فعل ذبح پر پختہ عزم کرلیا تھا بلکہ اس معصوم کلی کو ذبح کرنے کی پوری کوشش کی اور ان کے گلے پر چھری تک چلائی، تاہم ذبح کا اثر مرتب نہ ہوا، اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا گلا نہ کاٹا جا سکا، اسلئے کہ خلیل اللہ کو حکم تھا،( اذبح) ذبح کرڈالو، لیکن مسبب الاسباب کی طرف سے چھری کو کچھ اور ہی حکم تھا، کہ خبردار تمہیں اسماعیل کے گلا کاٹنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے، گویا چھری بزبانِ حال کہہ رہی تھی، کہ ابراہیم پروردگار کا حکم جس قدر آپ کیلئے قابل احترام اور لائقِ تعظیم ہے یقین جانیں، میرے پیدا کرنے والے کا فرمان میرے لئے بھی اتنا ہی موجب اعزاز ہے۔
بس آپ کو جو حکم ملا اس کی بجاآوری کریں اور مجھے جس حکم کا مکلف بنایا گیا ہے میں اس کی تعمیل کرتی ہوں، ، لہذا اس مختصر سی تفصیل سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے، کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ذبح ولد ہے ۔
غور کا مقام یہ ہے کہ آقائے نامدار جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح حیوان کو سنت ابراہیمی قرار دیا ہے حالانکہ سیدنا خلیل اللہ نے اپنے لخت جگر کی قربانی دی تھی، اس کے باوجود آقا مدنی کریم کا یہ فرمان کہ یہ سنت ابراہیمی ہے، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ یہ فرمارہے ہیں کہ گو دونوں عمل میں مغائرت سہی تاہم ان دونوں کے اجر وثواب میں اتحاد ویکسانیت ہے، قربانی کی یہ کیسی عظیم فضیلت و شرف ہے، الحمد للہ والمنۃ، کہ ہم ذبح تو جانور کریں، اور اجر وثواب ہمیں اپنی صلبی اولاد قربان کرنے کا دیا جائے
قربانی کے لیے دو چیزوں کا پاک ہونا ضروری ہے
ایک کا تعلق جانور سے ہے
دوسرے کا تعلق انسانوں سےہے
جانور سے مطلب: جانور کا تمام عیوب و نقائص سے پاک ہونا۔
انسان کا مطلب :قربانی کرنے والوں کا دل پاک ہونا۔

یہ قربانی ایک عظیم شخصیت نے ایک عظیم انسان کی جذبہ ایمانی میں رضائے الہی کے لیے پیش کیاتھا
انسان کو بھی چاہیے کہ عمدہ جانور کی قربانی تقرب مع اللہ اور رضائے الہی کے لیےکرے۔
قربانی کا جانور کتنے سال کا ہو۔
اونٹ کم سے کم پانچ سال،
گائے، بیل، بھینس، دو سال،
اور بکرا، بکری ایک سال کا ہونا شرط ہے،
البتہ بھیڑیا دنبہ ایک سال سے کم کا ہو اور اتنا فربہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہے، تو اس کی بھی قربانی درست ہے:
وصح الثني فصاعدًا، والثني ہو ابن خمس من الإبل وحولین من البقر والجاموس وحول من الشاة الخ وصح الجذع ذو سنة أشہر من الضأن إن کان بحیث لو خلط بالثنایا لا یمکن التمییز من بعد
چار قسم کےجانوروں کی قربانی جائز نہیں:
اندھا، جس کا اندھا پن ظاہر ہے۔
بیمار، جس کی بیماری ظاہر ہو رہی ہو۔
لنگڑا، جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔
لاغر، جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔
’’ أَرْبَعٌ لَا يَجُزْنَ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي‘‘([1])
مسئلہ۔جرسی گائے کی قربانی جائز ہے
ساتھ ہی کانوں میں کیل کا سوراخ یا اریل ہونے کی وجہ سے داغنے کا نشان عیوب میں داخل نہیں ہے
حلال جانوروں میں سات چیزیں ممنوع ہیں:
(۱) بہنے والا خون،

(۲) ذکر (عضو تناسل(
(۳) مادہ جانور کی شرم گاہ

(۴) خصیہ

(۵) مثانہ،

(۶) پتہ

(۷) غدود (جسم کے اندر کی گانتھ گلٹی(
ان میں بہنے والا خون تو قطعا حرام ہے اور باقی چیزیں راجح قول کے مطابق مکروہ تحریمی ہیں کذا في ملتقی الأبحر والمجمع والد (۴/۴۸۹، ۴۹۰ ط دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان) وبدائع الصنائع (۴/۱۹۰، ط مکتبہ زکریا دیوبند) ورد المحتار (۹/۴۵۱، ط مکتبہ زکریا دیوبند) عن البدائع والدر والرد (۱۰/ ۴۷۷، ۴۷۸) وغیرہا من کتب الفقہ
قربانی کرنے کا مسنون طریقہ
جانور کو قبلہ رو لٹانے کے بعد ’’بسم اللہ، و اللہ اکبر‘‘  کہتے ہوئے تیز دھار چھرے سے جانور کے حلق اور لبہ کے درمیان ذبح کیا جائے، اور گردن کو پورا کاٹ کر الگ نہ کیا جائے، نہ ہی حرام مغز تک کاٹا جائے، بلکہ ’’حلقوم‘‘  اور ’’مری‘‘  یعنی سانس کی نالی اور اس کے اطراف  کی خون کی رگیں جنہیں ’’اَوداج‘‘  کہا جاتا ہے کاٹ دی جائیں، اس طرح جانور کو شدید تکلیف بھی نہیں ہوتی اور سارا نجس خون بھی نکل جاتا ہے، اس طریقہ کے علاوہ باقی تمام طریقوں میں نہ ہی پورا خون نکلتا ہے اور جانور کو بلا ضرورت شدید تکلیف بھی ہوتی ہے۔
جانور کو قبلہ رخ لٹاتے ہوئے جانور کی بائیں کروٹ پر لٹانا پسندیدہ ہے، (یعنی ہمارے ملک میں جانور کی سر والی طرف جنوب میں اور دم والی جانب شمال میں ہو)، تاکہ دائیں ہاتھ سے چھری چلانے میں سہولت رہے۔
"عن أنس، قال: «ضحى النبي صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين أقرنين، ذبحهما بيده، وسمى وكبر، ووضع رجله على صفاحهما»".( صحيح مسلم:31556)

ترجمہ: حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم نے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ،اور ذبح کرتے وقت ’’بسم اللہ ، اللہ اکبر‘‘  پڑھا ،اور ان کے پہلو پر اپنا قدم مبارک رکھا ۔
’’عن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بكبش أقرن يطأ في سواد، ويبرك في سواد، وينظر في سواد، فأتي به ليضحي به، فقال لها: «يا عائشة، هلمي المدية»، ثم قال: «اشحذيها بحجر»، ففعلت: ثم أخذها، وأخذ الكبش فأضجعه، ثم ذبحه، ثم قال: «باسم الله، اللهم تقبل من محمد، وآل محمد، ومن أمة محمد، ثم ضحى به»‘‘. ( صحيح مسلم:31557)

ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو (یعنی پاؤں، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں)۔ پھر ایک ایسا مینڈھا قربانی کے لیے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لاؤ۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تیز کر و ، تو میں نے تیز کرکے دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی، مینڈھے کو پکڑا، اس کو لٹایا، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا کہ ’’بسم اللہ‘‘، اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آل کی طرف سے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر، پھر اس کی قربانی کی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"أَمَّا الِاخْتِيَارِيَّةُ، فَرُكْنُهَا الذَّبْحُ فِيمَا يُذْبَحُ مِنْ الشَّاةِ وَالْبَقَرِ، وَالنَّحْرُ فِيمَا يُنْحَرُ وَهُوَ الْإِبِلُ عِنْدَ الْقُدْرَةِ عَلَى الذَّبْحِ وَالنَّحْرِ، وَلَايَحِلُّ بِدُونِ الذَّبْحِ أَوِالنَّحْرِ، وَالذَّبْحِ هُوَ فَرْيُ الْأَوْدَاجِ وَمَحَلُّهُ مَا بَيْنَ اللَّبَّةِ وَاللَّحْيَيْنِ، وَالنَّحْرُ فَرْيُ الْأَوْدَاجِ وَمَحَلُّهُ آخِرُ الْحَلْقِ، وَلَوْ نَحَرَ مَا يُذْبَحُ أَوْ ذَبَحَ مَا يُنْحَرُ يَحِلُّ لِوُجُودِ فَرْيِ الْأَوْدَاجِ لَكِنَّهُ يُكْرَهُ لِأَنَّ السُّنَّةَ فِي الْإِبِلِ النَّحْرُ وَفِي غَيْرِهَا الذَّبْحُ، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ ... وَالْعُرُوقُ الَّتِي تُقْطَعُ فِي الذَّكَاةِ أَرْبَعَةٌ: الْحُلْقُومُ وَهُوَ مَجْرَى النَّفَسِ، وَالْمَرِيءُ وَهُوَ مَجْرَى الطَّعَامِ، وَالْوَدَجَانِ وَهُمَا عِرْقَانِ فِي جَانِبَيْ الرَّقَبَةِ يَجْرِي فِيهَا الدَّمُ، فَإِنْ قُطِعَ كُلُّ الْأَرْبَعَةِ حَلَّتْ الذَّبِيحَةُ، وَإِنْ قُطِعَ أَكْثَرُهَا فَكَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى -، وَقَالَا: لَا بُدَّ مِنْ قَطْعِ الْحُلْقُومِ وَالْمَرِيءِ وَأَحَدِ الْوَدَجَيْنِ، وَالصَّحِيحُ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - لِمَا أَنَّ لِلْأَكْثَرِ حُكْمَ الْكُلِّ، كَذَا فِي الْمُضْمَرَاتِ". (كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَفِيهِ ثَلَاثَةُ أَبْوَابٍ، الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي رُكْنِهِ وَشَرَائِطِهِ وَحُكْمِهِ وَأَنْوَاعِهِ، ٥ / ٢٨٥ – ٢٨٧(
2۔ جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹائے تو پہلے درج ذیل  آیت پڑھنا بہتر ہے:
"إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
اور ذبح کرنے سے پہلے درج ذیل دعا اگر یاد ہو تو پڑھ لے:
"اللّٰهُم َّمِنْكَ وَ لَكَ" پھر ’’بسم اللہ اللہ اکبر‘‘  کہہ  کر ذبح کرے ، اور ذبح کرنے کے بعد اگر درج ذیل دعا یاد ہو تو پڑھ لے:
"اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّيْ كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ وَ خَلِيْلِكَ إبْرَاهِيْمَ عليهما السلام".

اگر کسی اور کی طرف سے ذبح کر رہا ہو تو "مِنِّيْ" کی جگہ " مِنْ "  کے بعد اس شخص کا نام لے لے۔ فقط۔

فائدہ:  افضل یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں بھائی ایک حصہ گھر کے لئے ایک حصہ دوست واحباب کے لئے اور ایک فقیر اور مساکین کے لیے تاہم اگر کوئی شخص سارا گوشت گھر میں رکھ لیتا ہے یا جمع کر لیتا ہے تو یہ بھی جائز ہے

الفتاوی الہندیہ ج٥/٣٠٠
قربانی کا گوشت کتنے عرصے تک چاہیں رکھ کر کھا سکتے ہیں اس کے لیے سر آن کوی مدت مقرر نہیں ہے
شرح النووی عای مسلم ج١٣/١٢٩ الفتاوی الہندیہ ج٥/٣٠٠

قربانی کرنے کے بعد جس طرح قربانی کرنے والا گوشت کا مالک ہوتا ہے اسی طرح جانور کی کھال کا بھی مالک ہوتا ہے اور کھال کا حکم گوشت کی طرح ہوگا لہٰذا کھال خود بھی استعمال کرسکتے ہیں اور کسی کو ہدیہ بھی دے سکتے ہیں چاہے وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو البتہ اگر کھال کو بیچ دیں تو پھر اس کی قیمت کسی مستحق کو زکوۃ دینا ضروری ہے۔

قربانی کے کھال امام مسجد کو ہدیہ میں تو دے سکتے ہیں لیکن تنخواہ میں نہیں دے سکتے۔

نوٹ دینی مدارس قربانی کی کھالوں کے بہترین مصارف ہیں اس لیے دیگر مصارف کے مقابلے میں مدارس اسلامیہ کو قربانی کی کھالیں دینے کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔
امتیاز ندوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔