میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں۔
اگر آپ اسے کسی اسائنمنٹ، تقریر یا ذاتی مطالعے کے لیے استعمال
کرنا چاہیں، تو بے جھجھک کریں۔
میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں؟ — ایک فکری و روحانی جائزہ
انسان کی فطرت میں محبت، وابستگی اور تعلق کے جذبات گہرے رچے
بسے ہوتے ہیں۔ ہم ان چیزوں سے محبت کرتے ہیں جو ہمیں راحت، سہارا، امید اور تحفظ
دیتی ہیں۔ اسی فطری میلان کے تحت ایک سوال اُبھرتا ہے:
“میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں؟”
یہ سوال محض ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ ایک کامل روحانی حقیقت
ہے جس کا جواب انسان کی پوری زندگی میں پنہاں ہے۔
1. رب وہ ہے جو وجود کی پہلی اور آخری وجہ ہے
انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا—نہ علم، نہ طاقت، نہ اختیار۔
لیکن اس کے باوجود رب اسے:
زندگی دیتا ہے
شکل و صورت دیتا ہے
بے پناہ نعمتیں عطا کرتا ہے
والدین کی محبت کا سایہ دیتا ہے
رزق کے دروازے کھولتا ہے
وہ رب جو ہمیں کچھ نہیں ہونے کے باوجود سب کچھ عطا کرتا ہے، بھلا اس سے محبت نہ کی جائے تو کس سے کی جائے؟
2. رب کی رحمت کی کوئی حد نہیں
ہم انسان ہیں؛ غلطیوں، کمزوریوں اور بھول چوک کے پیکر۔
مگر رب کی رحمت یہ ہے کہ:
گناہ ہو جائیں تو معاف کرتا ہے
توبہ کر لیں تو گلے لگا لیتا ہے
ان چھوٹی نیکیوں پر بھی انعام دیتا ہے جن کی ہم اہمیت بھی نہیں سمجھتے
ہماری کوتاہیوں کو لوگوں سے چھپاتا ہے
اور کبھی مایوس نہیں کرتا:
> “میرے بندے! میری رحمت سے ناامید نہ ہو۔”
ایسی ہستی سے محبت نہ کرنا ممکن ہی نہیں۔
3. رب وہ ہے جو دل کی ہر دھڑکن جانتا ہے
دنیا کے لوگ ہماری باتیں سنتے ہیں، مگر دل کا حال نہیں جانتے۔
لیکن رب وہ ہے جو:
کسی دکھ کو آنسو بننے سے پہلے سمجھ لیتا ہے
کسی دعا کو لفظ بننے سے پہلے سن لیتا ہے
کسی خوف کو بے بسی بننے سے پہلے تھام لیتا ہے
وہ رب جس کے سامنے انسان اپنا دل کھول کر رکھ دے، وہ رب جسے "بتانے" کی نہیں صرف "اُس کی طرف متوجہ ہونے" کی ضرورت ہے—ایسے رب سے محبت کیوں نہ ہو؟
4. رب کی محبت بغیر شرط کے ہے
دنیا میں محبتیں اکثر مشروط ہوتی ہیں:
اگر تم اچھے رہو، اگر تم میرا خیال رکھو، اگر تم مجھ سے کچھ لوٹاؤ…
مگر رب کی محبت:
بے شرط ہے
بے غرض ہے
بے انتہا ہے
وہ ہمیں اُس وقت بھی رزق دیتا ہے جب ہم غافل ہوتے ہیں، اُس وقت بھی سنبھالتا ہے جب ہم بھول جاتے ہیں، اور اُس وقت بھی رحم کرتا ہے جب ہم نافرمانی کرتے ہیں۔
ایسی محبت کی قدر نہ کرنا، احسان فراموشی نہیں تو اور کیا؟
5. رب کے قریب ہونے میں سکون ہے
دنیا میں جتنا بھی سفر کر لیں، ہر انسان آخرکار ایک جگہ سکون تلاش کرتا ہے۔ لیکن تجربہ یہی بتاتا ہے کہ وہ سکون نہ چیزوں میں ملتا ہے، نہ لوگوں میں، نہ حالات میں—وہ صرف ایک جگہ ملتا ہے:
اپنے رب کی یاد میں۔
جب انسان:
رات کے سناٹے میں سجدے میں گر جائے
دل کا بوجھ رب کے حوالے کر دے
اور آنکھوں سے بہتے آنسو دعا بن جائیں
تو اندر سے ایک نور اٹھتا ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ حقیقی محبت کیا ہوتی ہے۔
6. رب کا حکم، انسان کی بھلائی
رب کے احکامات انسان پر بوجھ نہیں، بلکہ اس کی بھلائی کے لئے ہیں۔
نماز، روزہ، زکوٰۃ، نیکی—یہ سب انسان کے فائدے کے لئے ہیں۔
ایک ایسا رب جو بندے کی ہر ہدایت میں اسی کا فائدہ رکھے، اس سے محبت نہ کرنا کیسے ممکن ہے؟
7. رب کا پیار انسان کو کامل بنا دیتا ہے
محبت انسان کو بدل دیتی ہے۔
رب سے محبت:
کردار نکھارتی ہے
دل کو روشن کرتی ہے
صبر سکھاتی ہے
شکر سکھاتی ہے
انسان کو اعلیٰ بنا دیتی ہے
جو انسان اپنے رب سے محبت کرلے وہ کمزور نہیں رہتا، بلکہ مضبوط، پر امید، روشن دل اور کامیاب بن جاتا ہے۔
نتیجہ
آخر میں سوال پھر وہی ہے:
“میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں؟”
جب وہ رب:
ہمارا پیدا کرنے والا
پالنے والا
معاف کرنے والا
سننے والا
سمجھنے والا
اور ہمیشہ ساتھ دینے والا ہے
تو اس سے محبت کرنا انسان کی فطرت بھی ہے، ضرورت بھی، اور سعادت بھی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔