دعا ایک نادیدہ خزانہ ہے
دعا ایک عظیم نعمت اور انمول تحفہ ہے ، اس دنیا میں
کوئی بھی انسان کسی بھی حال میں دعا سے مستغنی نہیں ہوسکتا ، دعا اللہ کی عبادت
ہے، دعا اللہ کے متقی بندے اور انبیا ئے کرام علیہم السلام کے اوصافِ حمیدہ میں سے
ایک ممتاز وصف ہے ، دعا اللہ تعالی کے دربارِ عالیہ میں سب سے باعزت تحفہ ہے ،
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لَیْسَ شَیْءٌ أکْرَمَ
عَلَی اللہِ عَزَّ وَجّلَّ مِنَ الدُّعاء (دعا سے بڑھ کر اللہ تعالی کے یہاں کوئی
چیز باعزت نہیں) دعا اللہ تعالی کے یہا ں بہت پسندیدہ عمل ہے ، سَلُوا اللہَ مِنْ
فَضْلِہ فَانَّہ یُحِبُّ أنْ یُسْأَلَ (اللہ سے اس کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اپنے
سے مانگنے کو پسند کرتاہے ) دعا شرحِ صدر کا سبب ہے ، دعا سے اللہ تعالی کے غصہ کی
آگ مدھم پڑتی ہے، دعا اللہ تعالی کی ذا ت پر بھروسہ کی گائیڈ لاین ہے ، دعا آفت و
مصیبت کی روک تھام کا مضبوط وسیلہ ہے، بلاشبہ دعا اپنی اثر انگیزی اور تاثیر کے
لحاظ سے مومن کا ہتھیار ہے ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَلدُّعَاءُ سِلاَحُ الْمُؤمِنِ وَعِمَادُ الدِّیْنِ وَنُوْرُ السَّمٰواتِ
وَالأرْضِ (دعا موٴمن کا ہتھیار ، دین کا ستون اور آسمان وزمین کی روشنی ہے ، اللہ
نے اپنے بندوں کو دعا کی تاکید کی ہے ، اس کی قبولیت کا وعدہ کیاہے نیز اس پر
انبیاء کرام علیہم السلام اور رسولوں کی تعریف کی ہے ، اللہ کا ارشاد ہے: إنَّھُمْ
کَانُوْا یُسَارِعُوْنَ فِیْ الْخَیْرَاتِ وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَرَھَبًا
وَکَانُوا لَنَا خَاشِعِیْن (بے شک وہ سب نیک کاموں میں جلدی کرنے والے تھے اور وہ
ہمیں امید اور خوف سے پکارتے تھے اور وہ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے)اللہ
تعالی نے قرآن مجید میں صاف صاف اعلان کیا : وَإذَا سَألَکَ عِبَادِيْ عَنِّيْ
فَإنِّي قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إذَا دَعَانِ(جب میرے بندے میرے بارے
میں دریافت کریں ، تو میں قریب ہوں ، دعا کرنے والاجب مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس
کی دعا قبول کرتا ہوں ) یقینا یہ اللہ کا فضل اور کرم ہی ہے کہ بندوں کے ہر عمل سے
بے نیازی کے باوجود وہ اپنے ہی سے مانگنے کا حکم کرتا ہے : یَأیُّھَا النَّاسُ
اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إلَی اللہِ وَاللہُ ھُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِیْد ( اے لوگو ،
تم اللہ تعالی کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بے نیاز، بڑی تعریف والا ہے) سورہٴ
فاطرمیں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : وَاللہُ الْغَنِيُّ وَأنْتُمُ الْفُقَرَاءُ
(اللہ تعالی بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو ) حدیثِ قدسی میں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: کُلُّکُمْ ضَالٌّ الاَّ مَنْ ھَدَیْتُہ فَاسْتَھْدُوْنِيْ
اَھْدِکُمْ یَا عِبَادِيْ، کُلُّکُمْ جَائِعٌ الاَّ مَنْ أطْعَمْتُہ فَاسْتَطْعِمُوْنِيْ
اُطْعِمْکُمْ، یَا عِبَادِيْ انَّکُمْ تَخْطَئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّھَارِ،
وَأنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْلَکُمْ ( اے
میرے بندے! تم بے راہ ہو؛جب تک میں تمہیں ہدایت نہ دوں ، لہٰذا تم مجھ سے ہدایت
طلب کرو ، میں تمہیں ہدایت دوں گا ، اے میرے بندے تم سب بھوکے ہو،سوائے اس شخص کے
جسے میں کھلاؤں ، لہٰذا تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندے،
تم رات اور دن غلطیوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہواور میں تمام گناہوں کو بخشنے والا
ہوں ، لہٰذا تم مجھ سے مغفرت طلب کرو ، میں بخشش کرنے والا ہوں )۔
بدھ، 8 مارچ، 2023
دعا ایک نادیدہ خزانہ ہے
منگل، 7 فروری، 2023
کامیاب زندگی کا راز
کامیاب زندگی کا راز
کامیابی کے لیے دو چیزوں سے محبت لازم ہے
ایک منزل سے اور دوسرا منزل پر لے جانے والے رہبر و
رہنما یعنی استاد ۔ دنیا کے تمام کاریگروں کے ہنر کو سلام، مگر وہ کاریگر عظیم ہے
جو، مزید ایسے کاریگر پیدا کرے جو فن اور ہنر کو زندہ رکھیں ۔ ایسے کاریگر کو
استاد کہتے ہیں۔ استاد بنیاد میں لگا پتھر ہوتا ہے،جس پر عمارت کھڑی ہوتی ہے ۔ ہم
گنبد دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں، مگر بنیاد کا پتھر ہمیں نظر نہیں آتا ۔ منزل اور
منزل پر لے جانے والے سے محبت جتنی خالص ہو گی کامیابی اتنی ہی کامل ہو گی ۔ حضرت
علی ؓ نے فرمایا،” جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اسے اُستادکا درجہ
دیتاہوں‘‘۔ایک دفعہ ہارون الرشید نے ایک نابینا عالم کی دعوت کی اور خود ان کے
ہاتھ دھلانے لگے۔اس دوران عالم سے پوچھا،آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے ہاتھوں پر پانی
کون ڈال رہا ہے۔عالم نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر ہارون الرشید نے جواب دیا کہ میں
نے یہ خدمت خود انجام دی ہے لیکن یہ سُن کر عالم دین نے کسی ممنونیت کا اظہار نہیں
کیا، انہوں نے جواب دیا کہ ’’ہاں آپ نے علم کے احترام میں ایسا کیا ہے۔‘‘ ہارون
الرشید نے جواب دیا،’’ بے شک یہی بات ہے‘‘۔ہارون الرشید نے اپنے بیٹے مامون کو علم
و ادب سکھانےکے لئے امام اصمعی کے سپردکیا۔ ایک دن وہ اتفاقاً ان کے پاس
گئےتودیکھا کہ وہ اپنے پائوں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پائوں پر پانی ڈال رہا
ہے۔ہارون الرشید نے برہمی سے کہا،’’میں نے تواسے آپ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ،
آپ اسےآداب سکھائیں گے۔آپ نے شہزادے کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے
پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پائوں دھوئے۔‘‘استاد ایک انمول تحفہ ہوتے ہیں،
جن کے بغیر انسان کی شخصیت ادھوری ہو تی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضور ؐ
کو بحیثیت معلم بیان کیا اور خود نبی کریم ؐنے بھی ارشاد فرمایا کہ ” مجھے معلم
بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘اُستاد کی عظمت و اہمیت اور معاشرے میں اس کے کردار پر
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کہتے ہیں کہ ،’’اُستاد دراصل قوم کے محافظ ہیں، کیونکہ
آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا ان ہی کے سپرد
ہے‘‘۔ایک اُستاد چیزوں کے بارے میں صرف بتاتا ہے،جبکہ ایک اچھا استاد اس کی وضاحت
کرتا ہے اور بہترین اُستاد عملی طور پر کرکے دکھاتا ہے۔آج کے اساتذہ کرام کی
اکثریت کو پرکھا جائے تو ہمیں مادیت پرستی کا غلبہ واضح نظر آئے گا۔ بلاشبہ دور
جدید میں مادیت پرستی ہر معاشرے اور شعبہ میں گھر کر چکی ہے، لیکن کچھ شعبہ اور ان
کے ذمہ داران کے لئے مادہ پرستی جیسی اصطلاح کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔ استاد معاشرہ
کا وہ حصہ ہے جہاں اخلاقی اقدار کو بام عروج نصیب ہوتا ہے۔ آج ایک پولیس مین کے
آنے سے پورا محلہ کانپ اٹھتا ہے۔مجسٹریٹ کا رعب و دبدبہ کپکپی طاری کر دیتا
ہے۔لیکن اساتذہ جن کی محنت ،کوشش اور شفقت سے ان کے شاگرد بالا عہدوں پر فائز ہیں
اْن کی قدر شاگردکرنے سے قاصرہیں۔
(ڈاکٹرمحمد اعظم رضا "
کی کتاب ’’کامیاب زندگی کے راز‘‘سے نتخاب)

