رشتے
دار
(پڑوسی، گلی محلہ، پڑھائی کھیل کود کے ساتھی)
ذلیل کرتے ہیں برداشت نہیں ہوتا.
وہ ہمت سے زیادہ امتحان لیتے ہیں.
ان کی باتوں کی اذیت کروٹیں بدلنے پر مجبور کرتی ہے.
ان کی زبان کا زخم گھائل کرتا ہے.
وہ انتہا کی پستی کا مظاہرہ کرتے ہیں.
آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ
یہ کبھی منزل پر نہیں پہنچ پائیں گے.
یعنی دوسرے لفظوں میں کہتے ہیں:
ہم نے بچے بیاہ لیے، بچوں کی شادیاں کردیں ہم کامیاب ہیں۔ اور آپ
ناکام ہیں.
کہتے ہیں کہ ہم نے بڑے تیر مار لیے تم ابھی پیچھے ہو.
کیا آپ کو لگتا ہے یہ صرف آپ کو ہی کہتے ہیں.
کیا آپ کو لگتا ہے یہ اذیت صرف آپ ہی سہہ رہے ہیں.
نہیں جی۔
آپ غلط ہیں!
آپ سے پہلے بلکہ
چودہ سو سال پہلے یہ اذیت،
یہ تکلیف یہ مشکلات)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو
بھی برداشت کرنا پڑی تھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ایک سگا چچا تھا،
جو حسن و جمال میں اس قدر خوبصورت تھا کہ اسے ابو لھب یعنی *شعلوں کا
باپ کہتے تھے۔
یعنی اس کا حسن شعلے مارتا تھا۔
یہ خوبصورت چہرے والوں کی کہانی ہے،
اکثر
خوبصورت چہروں کے منہ میں بد لحاظ زبان اور سینے میں بغض سے بھرا دل
ہوتا ہے۔
ابو لھب کے پاس بھی بد لحاظ زبان تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
کے لیے دل چیر دینے والے الفاظ کہتی تھی۔
ایک باپ اپنے مردہ بیٹے کا وجود گود میں لیے بیٹھا ہے،
اسے اپنے دوستوں،چاہنے والوں اور رشتے داروں کے دلاسے، تسلی کی سب سے
زیادہ ضرورت اسی وقت ہے۔
کہ
اس کی نسل باقی نہیں رہی یہ ہلاک ہوگیا نعوذباللہ “
یہ کتنے اذیت ناک الفاظ ہیں جو بیٹے کی موت کا نقصان اٹھانے والا باپ برداشت کرتا ہے.
یہ باپ کون ہے.
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
یہ بد زبان انسان کون ہے
جو اتنے تکلیف دہ الفاظ بول رہا ہے۔
یہ ابو لھب ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ عبداللہ کا بھائی اور دادا عبدالمطلب کا بیٹا ہے۔
حمزہ بھی چچا تھے،
عباس بھی اور ابو طالب بھی
لیکن کوئی اتنا ظالم نہ تھا
جتنا ابو لھب تھا۔
یہ صرف زبان سے اذیت نہیں دیتا تھا اس کے ہاتھوں میں بھی اذیت دینے کی صلاحیت تھی۔
یہ نماز پڑھتے بھتیجے پر گندگی سے بھری اوجھڑی کچھ اس طرح پھینکتا تھا کہ ان کی سانس بند ہونے لگتی۔
مشکیزے کی طرح ہوتی ہے نا اوجھڑی
تو یہ صرف سر پر نہیں پورے چہرے پر وہ اوجھڑی ڈال کر دم گھٹنے کی تکلیف سے گزارتا تھا۔
شاید ایسی اذیت آپ کے رشتے داروں نے آپ کو نہ دی ہو
مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتے داروں نے ان کو دی۔
دور کے نہیں قریب اتنے قریب کہ اپنے خون کے رشتے داروں نے ان کو تکلیف دی۔
آپ کو کوئی خاندان بھر میں حقارت سے مخاطب کرے تو آپ اس تکلیف کو برداشت کرنے کی بجائے ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔
جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
جب صفا پہاڑ پر چڑھ کر اپنے سب لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کی.
تو اسی ظالم چچا نے ان کو
"تبا لک" یعنی
تیرے لیے ہلاکت ہو، تم نے ہمیں اس بات کے لیے جمع کیا“
کہہ کر ان کو ڈی گریڈ کرنا چاہا۔۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو زندگی بھری پڑی ان ظالموں کے ظلم، ڈی گریڈ کرنے اور مایوسی پھیلانے سے۔
لیکن سوال یہ ہے.
کیا ایسے رشتے دار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ”منزل“ کے سفر سے روک پائے.
ہرگز نہیں۔
اذیتیں دیں، تکالیف دیں، سب کچھ کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھتے گئے۔
ان کو معلوم تھا کہ
ان رشتے داروں سے بڑھ کر چاہنے والوں کو میری ضرورت ہے، سو وہ ان کے لیے جدوجہد کرتے گئے۔
پھر ایک وقت آیا کہ قرآن اترا یہ کہتے:
تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ
ٹوٹ گئے دونوں ہاتھ ابو لھب کے اور وہ ہلاک ہوگیا
اگر اذیتیں دینے والوں کی پرواہ کیے بغیر ہم سفر جاری رکھیں تو ہم ان تک پہنچ جاتے ہیں۔
جو ہمارے قدر دان ہوتے ہیں اور جن کو ہماری ضرورت ہوتی ہے۔
جبکہ
اذیتیں دینے والوں کا حال ابو لھب جیسا ہوتا ہے
ان کے ہاتھ بھی ٹوٹتے ہیں یہ ہلاک بھی ہوتے ہیں۔
ضروری نہیں ظاہری طور پر ہاتھ ٹوٹیں۔
یہ
آخر کار ہاتھ ٹوٹنے جیسے حالات میں مبتلا کردیے جاتے ہیں اور ان کا تکبر ان کے
پیروں کی سیدھ میں پڑا ہوتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو لھب جیسے رشتے دار کی باتوں کو
اگر دل پر لیکر اپنی منزل کا سفر روک دیا ہوتا تو آج ہم کہاں ہوتے؟
یہ جو اربوں انسان آج صرف ان کے لیے ان کی زندگی گزار رہے ہیں ان کا
کیا بنتا؟
اپنی زندگی کے ایسے ظالم رشتے داروں کی پرواہ نہ کریں
جو امت تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں
مگر
ان کی زبان اور ہاتھ ابو لھب جیسے ہیں۔
آگے بڑھیے!
جیسے آپ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔
پیچھے مڑ کر مت دیکھیے۔
جس دن ان ظالموں کے ہاتھ ٹوٹیں گے اس دن آپ کو بھی خبر مل جائے گی۔
آپ صرف اپنا سفر جاری رکھیے۔
اپنی منزل کی طرف ہر قدم آگے بڑھیے۔
اور
زندگی میں کبھی بھی یہ حماقت مت کیجیے
کہ
آپ امت تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوں
مگر
آپ کے ہاتھ اور زبان میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور
زبان جیسی خیر کی بجائے ابو لھب کے ہاتھ و زبان جیسا شر ہو۔
نہ ہم نے ابو لھب جیسے رشتے داروں کی پرواہ کرنی ہے
نہ خود کو ابو لھب جیسا بنانا ہے
کہ ہم دوسروں کی راہ میں روڑے اٹکائیں۔
ہمیں جو پیارے اور کامیاب منزل پر پہنچے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم ملے ہیں
ہم اسی کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ ان شاء اللہ
کیوں کہ
ہم سب منزلوں کی چاہت دل میں لیکر پیدا ہوئے ہیں۔
یہ ٹریننگ ہے
قرآن کی پانچ آیات پر مشتمل سورۃ اللھب کی،
جسے )المسد(بھی
کہا جاتا ہے۔
یہ پانچ آیات آپ کو زندگی کا بہت بڑا فلسفہ سکھاتی ہیں اگر آپ سیکھنا
چاہیں تو۔
کیا اتنی خوبصورت تربیت دیتے قرآن کو سیکھنے پر آپ کا دل آمادہ نہیں؟
کیا زندگی کے اتنے گہرے بھید سکھاتے اس قرآن میں آپ کا دل نہیں لگتا؟
کیا زندگی سنوار دینے والی اس کتاب سے محبت کرنا آپ کے لیے مشکل ہے؟
ان سب باتوں کا جواب اپنے دل سے پوچھیے۔
اور پھر
قرآن کی محبت کا بیج اپنے دل میں بونے کی کوشش کیجیے۔
اسی میں خیر ہے۔
ورنہ
خیر سے خالی زندگی کا کوئی لطف ہی نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔