اتوار، 16 اکتوبر، 2022

اللہ کے محبوب ﷺسے پیار کیوں نہ کیاجائے

 اللہ کے محبوب سے پیار کیوں نہ کیاجائے۔


عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِه وَوَلَدِه وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ.متَّفَقٌ عَلَيْهِ

محبت دو وجہوں سے کی جاتی ہے
(١) جمال
(٢)کمال
تو پہلےمیرے نبی کا جمال دیکھو۔

قَالَتْ : اٌم مَعْبَدٍ الخزائيه رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا
’’
رَأَیْتُ رَجُلاً :
ظَاہِرَ الْوَضَاءۃِ ،
اَبْلَجَ الْوَجْہِ،
حُاسْنَ الْخَلْقِ
لَمْ تَعِبْہُ ثَجْلَۃٌ
وَ لَمْ تُزْرِیْہِ صَعْلَۃٌ
وَسِیْمٌ قَسِیْمٌ
فِیْ عَیْنَیْہِ دَعْجٌ
وَ فِیْ اَشْفَارِہٖ وَطْفٌ
وَ فِیْ صَوْتِہٖ صَہْلٌ
وَفِیْ لِحْیَتِہٖ کَثَاثَۃٌ
وَ فِیْ عُنُقِہٖ سَطْعٌ
وَسِیْمٌ قَسِیْمٌ
اكحل احور ازَجٌ اَقْرَنُ
وَ اِنْ تَکَلَّمَ عَلاَہُ الْبَہَاء
اِنْ صَمَتَ فَعَلَاه الْوَقَارُ
وکَأَنَّ مَنْطِقَہٗ خَرَزَاتُ نَظْمٍ
یَنحَدَّرْنَ۔
اللہ کیا انداز گفتگو ہے الفاظ کا رزم اور آواز میں میوزک دیکھو
ام معبد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
’’
میں نے ایک آدمی دیکھا،
روشن اور کشادہ چہرے والا ،
خوش اخلاق،
متوازن پیٹ،
سر بال بہ تمام و کمال ،
مجسم حسن و جمال،
چمکدار آنکھیں،
گھنی پلکیں،
رعب دار آواز،
لمبی گردن،
گھنی داڑھی،
باریک اور پیوستہ ابرو،
خاموش پُروقار،
گفتگو لؤ لؤئے لالہ،
دور سے دیکھیں تو خوب صورت اور بارونق،
قریب سے دیکھیں تو اور بھی حسین،
شریں کلام
جچے تلے الفاظ
گفتگو گویا موتیوں کی لڑی،
میانہ قد،
نہ طویل القامت کہ اچھا نہ لگے ،
تشریح
ام معبد کہتی  ہے ابو معبد ایک شخص آیا تھا مجھے یوں لگا جیسے چودھویں کا چاند کپڑے پہن کر زمین پر اتر آیا ہوں سبحان اللہ کیا کہنا انتہائی خوبصورت انتہائی حسین و جمیل پیٹ نکلوا نہیں کہ بدصورت ہو جائے اتنا خوبصورت تھا کہ سر سے پاؤں تک حسن اسکا کا غلام تھا خوبصورتی اس کی باندی تھی جدھر سے دیکھتی تھی مجھے حسن ہی حسن نظر آتا تھا جب اس کے چہرے پر دیکھتی تو میری آنکھ نہیں بھرتی میرا جی چاہتا تھا کہ میں دیکھتی جاؤں دیکھتی جاؤں دیکھتی جاؤں میرا دل نہیں بھرتا کون ہے وسیم وسیم اس کو کہتے ہیں جس کو دیکھنے سے دل نہ بھرے قسیم جدھر سے دیکھو حسن ہی حسن ہو اسے کہتے ہیں قسیم اس کی آنکھیں بڑی موٹی احور، ادعج،اشکل، انجل، ابرج ،احدب ،


یہ سب میرے نبی کی آنکھوں کی تعریف ہے پانچ،چھ الفاظ کا ایک ہی مطلب اللہ نے کائنات میں ایسی حسین آنکھیں کسی کی بنائی ہی نہیں۔حسن وجمال آنکھوں میں پلکیں بڑی لمبی جس طرح عورتیں لمبے بال لگا لیتے ہیں میرے نبی کے قدرتی طور پر یہ بال لمبے تھے حسن کو بڑھانے کے لئے۔ڈارھی بڑی خوبصورت تھی۔زبان ایسی کی آواز میں جادو تھا الفاظ میں کشش تھی ادا میں اٹر یکشن تھا دل کو کھینچتا تھا گردن لمبی تھی سر سے پاؤں تک حسن و جمال تھا جب وہ بولتے تو نور چھا جاتا جب وہ خاموش ہوتے تو وقار چھا جاتا۔
سواء البطن والصدر سینہ اور پیٹ برابر
سبت القصب سیدھا قد بالکل سیدھاقد
عريض المنكبين چھاتی چوڑی تھی
طويل الزندين بازو لمبے تھى
رحب الراح ہتھیلی چوری تھی چوری ہتھیلی  سخاوت کی نشانی ہے
مسيح القدمين پاؤں اتنے نرم لگتا تھا اس پر تیل لگا ہوا ہے اور پانی اس سے نیچے چلا جاتا تھا
يمشي تكفيا اور کندھے جھکا کر چلتے تھے۔اللہ یہاں چار آدمی سلام کرے تو آدمی یوں ہو جاتا ہے اکڑ جاتا ہے سینہ پھلا کر چلنے لگتا ہے اور میرے نبی کو فرشتے سلام کر رہے ہیں اور آپ یوں گردن جھکا کر چلتے ہیں جو دیکھنے میں اتنا حسین ہوں اس سے پیار کیوں نہ کیا جائے خاندان اونچاہو تو آدمی اس کی قدر و عظمت کرتا ہے میرے نبی کا خاندان کیا ہے میرے نبی نے فرمایا اللہ نے
آدم کی ساری اولاد میں سے عرب کو چنا
اور عرب کی ساری اولاد میں سے مضر کو چنا
اور مضر کی ساری اولاد میں سے قریش کو چنا
اور قریش کی ساری اولاد میں سے ہاشم کو چنا
اور ہاشم کی ساری اولاد میں سے اللہ نے مجھے چنا میں سب سے اعلی خاندان سے عالی نسب ہو۔
میرے اللہ نے میرے دس نام رکھے ہیں میں محمد میں احمد مین ماحی میں حاشر میں عاقب میں فاتح میں قاسم میں ابوالقاسم میں طه میں ياسين.
مثال کے طور پر محبت ہوتی ہے نہ جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو ماں اپنی گود میں لے کر کہتی ہے میرا چاند میرا چاند میرا چاند کاٹکرا میرا دلارا میرالاڈلا لوریاں دیتا ہے میرے رب کو بھی اپنے حبیب سے محبت ہے وہ صرف محمد نہیں کہتا کہ محمد کہنے سے محبت کا پہلو نہیں نکلتا تو اللہ نے اپنے حبیب سے محبت کا پہلو نکالا میرا محمد میرا احمد میرا ماحی میراحاشرمیرا عاقب میرا قاسم میرا ابوالقاسم اللہ نے اپنے حبیب کو مختلف ناموں سے پکارا اور قرآن مجید میں چلے جاؤ شاہد نذیر داعی الی اللہ رؤف رحیم عزیز حریص مزمل مدثر اللہ نے پورے قرآن میں سارے نبیوں کا نام لیا یاعیسی یا موسی یا یحی یانوح یالوط یا ابراہیم یا اسماعیل نا م لے کر پکارا  لیکن اپنے حبیب کو ایک دفعہ بھی یا محمد نہیں کہا بلکہ لقب سے پکارا يا ايها النبي يا ايها الرسول يا ايها المزمل يا ايها المدثر. میرے رب نے اپنے حبیب کو ساری نسلوں میں سب سے اعلی سب سے افضل بنایا یا۔
یہ تو جمال نبی تھا
اب کمال نبی دیکھو
اللہ رب العزت فرماتے ہیں پہلا عنوان مقام مصطفی میرا اور میرے بزرگوں کا عقیدہ ہے
اللہ غفور رحیم ہے محمد روف الرحیم ہے
اللہ قادر قدیر ہے اور محمد سراج منیر ہے
اللہ لا ریب ہے محمد بے عیب ہے
وہ رب ہے  یہ شاہ عرب ہے
وہ ذوالجلال ہے یہ آمنہ کا لال ہے
اس کی ربوبیت ہے اس کی نبوت ہے
اس کی خدائی ہے اس کی مصطفٰی ہے
وہ رب العالمین ہے یہ رحمۃ للعالمین ہے
اس کی عبادت ہے اس کی اطاعت ہے
اس کی بخشش ہے اس کی سفارش ہے
وہ دینے والا ہے یہ لینے والا ہے
وہ دیتا رہے گا یہ لیتا رہے گا
اسے دینا آتا ہے اسے لینا آتا ہے
اس کا خزینہ بڑاہے اس کا سینہ بڑا ہے
ذرا سنو تو سہی ہے وہ وہ ہے یہ یہ ہے
یہ وہ نہیں وہ یہ نہیں
ہاں میں اتنا کہتا ہوں وہ یہ نہیں یہ وہ نہیں
وہ رات والا ہے اور محمد معراج والا ہے۔۔۔۔۔

جن کے جمالات سب سے بڑھ کر
جن کے کمالات سب سے اعلیٰ

بلغ العُلا بكمالـــــــهِ
كشف الدُجى بجمالـهِ
حَسُنت جميعُ خصالهِ
صَلُّوا عليه و آلــــــهِ


ان سے پیار کیوں نہ کیا جائے
وہ میرے ماں باپ اور تمام لوگوں میں زیادہ محبوب کیوں نہ ہو۔ان کے وجود سے ہی کائنات کا وجود ہوا
لولاک لما خلقت الافلاک۔

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔