رمضان کی عظمت، حرمت اور فضیلت!!
الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں
انسان کو اشرف واکرم بنایا، اس کی فطرت میں نیکی اور بدی، بھلائی اور برائی ،
تابعداری وسرکشی اور خوبی وخامی دونوں ہی قسم کی صلاحیتیں اور استعدادیں یکساں طور
پر رکھ دی ہیں۔ اسی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے کہ کسی بھی انسان سے اچھائی اور برائی
دونوں ہی وجود میں آسکتی ہیں۔ ایک انسان سے حسنات بھی ممکن ہیں اور سیئات بھی، اس
کے باوجود کوئی سیئات ومعصیات سے مجتنب ہوکر اپنی زندگی اور اس کے قیمتی لمحات کو
حسنات وطاعات سے مزین اور آراستہ کرلے تو یہ اس کے کامیاب اور خالق ومخلوق کے
نزدیک اشرف واکرم ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے اور یہی تقویٰ وپرہیزگاری ہے جو روزہ
کا مقصدِ اصلی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا کُتِبَ
عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ
تَتَّقُوْنَ أَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ۔‘‘ (البقرۃ:۱۸۳، ۱۸۴(
’’اے ایمان والو! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض
کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ، چند روز ہیں گنتی کے۔‘‘
تقویٰ کا معنی ہے: نفس کو برائیوں سے روکنا اور اس
کا سب سے بڑا ذریعہ روزہ ہے، جیسا کہ ایک صحابیؓ نے حضور اکرم a سے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کا حکم دیجیے جس سے حق
تعالیٰ مجھے نفع دے‘‘ ، آپ a نے ارشاد فرمایا: ’’علیک بالصوم، فإنہٗ لامثل
لہٗ‘‘ (سنن نسائی، ج:۱، ص:۱۴۰) ۔۔۔۔۔۔۔ ’’یعنی روزہ رکھا کرو، اس کے مثل کوئی عمل
نہیں۔‘‘ اب رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، گویا یہ مہینہ نیکیوں اور طاعات کے لیے
موسمِ بہار کی طرح ہے، اسی لیے رمضان المبارک سال بھر کے اسلامی مہینوں میں سب سے
زیادہ عظمتوں، فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ
ایمان کو اپنی رضا، محبت وعطا، اپنی ضمانت واُلفت اور اپنے انوارات سے نوازتے ہیں۔
اس مہینہ میں ہر نیک عمل کا اجروثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس ماہ میں جب
ایمان اور احتساب کی شرط کے ساتھ روزہ رکھا جاتا ہے تو اس کی برکت سے پچھلی زندگی
کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جب رات کو قیام (تراویح) اسی شرط کے ساتھ
کیا جاتا ہے تو اس سے بھی گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اس ماہ میں ایک نیکی
فرض کے برابر اور فرض ستر فرائض کے برابر ہوجاتا ہے، اس ماہ کی ایک رات جسے شبِ
قدر کہا جاتا ہے وہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے۔
