منگل، 18 نومبر، 2025

میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں۔

میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں۔

اگر آپ اسے کسی اسائنمنٹ، تقریر یا ذاتی مطالعے کے لیے استعمال کرنا چاہیں، تو بے جھجھک کریں۔
میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں؟ — ایک فکری و روحانی جائزہ
انسان کی فطرت میں محبت، وابستگی اور تعلق کے جذبات گہرے رچے بسے ہوتے ہیں۔ ہم ان چیزوں سے محبت کرتے ہیں جو ہمیں راحت، سہارا، امید اور تحفظ دیتی ہیں۔ اسی فطری میلان کے تحت ایک سوال اُبھرتا ہے:
میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں؟
یہ سوال محض ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ ایک کامل روحانی حقیقت ہے جس کا جواب انسان کی پوری زندگی میں پنہاں ہے۔

پیر، 17 نومبر، 2025

ہندوستان میں مسلمانوں کا عروج و زوال

 

ہندوستان میں مسلمانوں کا عروج و زوال

برصغیرِ ہند کی تاریخ میں مسلمانوں کا کردار ایک روشن باب ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال تک یہاں مسلمانوں نے نہ صرف حکمرانی کی بلکہ علم، تہذیب، ثقافت، عدل و انصاف اور معاشرتی ہم آہنگی کی ایسی مثالیں قائم کیں جو آج بھی تاریخ کے صفحات پر جگمگا رہی ہیں۔ مسلمانوں کے عروج اور پھر زوال کی یہ داستان بڑے اسباب، تاریخی واقعات اور فکری تبدیلیوں پر مشتمل ہے، جو کسی بھی قوم کی تعمیر یا تباہی کا آئینہ ہے۔

پیر، 10 نومبر، 2025

ہاں میں اسدالدین اویسی ہوں


 

ہاں میں اسدالدین اویسی ہوں ۔۔۔!

 

جی ممبر آف پارلیمنٹ، مجلس اتحادالمسلمین کا قومی صدر، زیرک سیاست داں، شیر دکن، خطیب شعلہ بیاں، نقیب ملت ، حاضر جواب بیرسٹر اسدلدین اویسی ہوں ہوں۔ میری پیدائش 13؍مئی 1969 کو حیدرآباد کے معروف ومشہور سیاست داںسلطان صلاح الدین اویسی کے گھر میں ہوئی۔ میرے والد صلاح الدین اویسی ملکی سیاست میں اہم مقام رکھتے تھے۔میری والدہ کا نام نجم النساء ہے، بھائی اکبرالدین اویسی ہیں جو ریاست تلنگانہ میں رکن اسمبلی ہیں اور دوسرے بھائی برہان الدین اویسی ہیں جو حیدرآباد کے مشہور ومعروف اخبار روزنامہ اعتماد کے ایڈیٹر ہیں۔ میری ابتدائی تعلیم حیدرآباد میں ہوئی میں نظامیہ کالج، عثمانیہ یونیورسٹی سے استفادہ کرنے کے بعد لاء میں کمال تامہ پیدا کرنے کےلیے لنکن ان لندن انگلینڈ سے ایل ایل بی کیا۔ میری شادی 11؍دسمبر 1996 کو فرحین اویسی سے ہوئی جس سے میری پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ہاں میں وہی اسدالدین اویسی ہوں جس نے اپنے والد کے بعد مجلس اتحاد المسلمین کی کمان سنبھالی اور حیدرآباد وتلنگانہ کے مسلمانوں کی بے باک آواز بن کر ابھرا۔ انہیں ان کے حقوق دلوائے، حکومتوں کو مجبور کیا کہ وہ حیدرآباد کے مسلمانوں کو ترقی کے دھارے میں جوڑے،دہشت گردی کے بے جا الزامات میں گرفتار ملزمین کی رہائی کے بعد حکومت سے انہیں اپنے بھائی اکبر کے ذریعے معاوضہ دلوایا۔ ہاں میں وہی اویسی ہوں جس نے اپنی قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے حیدرآباد میں اسکول کالج کا  جال پھیلایا، جہاں مسلم قوم کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتیں اور مجبور ولاچار افراد کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔میری پارٹی کو محض مسلمانوں کی پارٹی کہنا ظلم ہے، میں “جے میم جے بھیم” کے نعرہ کے ساتھ اٹھا ہوں ، دونوں پسی ہوئی اقلیتوں کا مسیحا ہوں، میری پارٹی میں دبی کچلی کمیونٹی کے افراد موجود ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ میں محض مسلمانوں کا لیڈر یا رہنما نہیں ہوں، میں ان دبے کچلوں کےلیے بھی آواز اُٹھاتا ہوں اور ان کی آواز میں مزید شدت وقوت پیدا کرنے کے لیے میں نے آئین ہند کے معمار بابا صاحب امبیڈکر کے پوتے کے ساتھ گٹھ بندھن کیا ہے۔

اتوار، 9 نومبر، 2025


اویسی کی "حکومت"...! 

اقراء حسن اور ناقدین کو یہ تاریخ کون سمجھائے؟ 

محترمہ اقراء منور حسن  اور ناقدین نے مجلس پر طنز کیا کہ

"چوبیس نشستیں لڑ کر کیا حکومت بن جائے گی؟"


سوال معصوم ہے، مگر نادانی سے نکلا ہے۔

جو ایم آئی ایم (AIMIM) کا پورا سفر نہیں جانتے، وہ یہی پوچھیں گے ۔

 

حکومت ایم آئی ایم نے نہیں بنائی،

لیکن ایم آئی ایم نے وہ کر دکھایا جو حکومتیں بھی نہیں کر پاتیں ۔

(1) صفر سے اعتماد پیدا کرنا،

(2) خوف میں دبی آواز کو باہر نکالنا،

(3) حق کی اواز کو بلند کرنا ،

(4) عدل و انصاف کے لیے لڑنا ،

(5) دبے کچلے لوگوں کا سہارا بننا ،

(6) شریعت میں مداخلت کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنا،

(7) حقائق اور دلائل کے ساتھ بات کرنا ،

اور ایک بکھرے ہوئے طبقے کو پھر سے سیاست میں سر اٹھانے کا حوصلہ دینا۔

 

۱۹۴۸: وہ سیاہ دور، جب AIMIM کا نام لینا بھی خطرہ تھا

 

آپریشن پولو‘ کے بعد حیدرآباد پر قبضہ ہوا۔

مجلس پر پابندی لگائی گئی، دارالسلام کو سیل کر دیا گیا،

اور تنظیم کو ختم شدہ مان لیا گیا۔

رضاکاروں کے الزامات، پولیس ایکشن کی تباہی، اور گلی گلی خوف کا سایہ

اس ماحول میں کسی تنظیم کا دوبارہ ابھرنا ناممکن سا لگتا تھا۔

اسی دوران مجلس کے آخری صدر پاکستان چلے گئے

اور تنظیم کی ذمے داری عبدالواحد اویسی کے سپرد کر گئے،

یہ پیغام دیتے ہوئے کہ:

"اب اسے سنبھالو، اسے بچاؤ۔"

۱۹۵۷: کھنڈرات سے دوبارہ جنم

عبدالواحد اویسی نے مجلس کا نام بدلا، راہ بدلی، سوچ بدلی،

اور تنظیم کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے نام سے دوبارہ کھڑا کیا۔

ہفتہ، 8 نومبر، 2025


 

ووٹ کی شرعی حیثیت

ووٹ کی شرعی حیثیت، اہمیت اور جمہوری معاشرے میں اس کی قدر و ضرورت

ووٹ ایک معمولی کاغذی پرچی نہیں، بلکہ ایک عہد، امانت اور گواہی ہے۔ آج کے جمہوری نظام میں یہ وہ طاقت ہے جس کے ذریعے قوم اپنی سمت، قیادت اور مستقبل کا تعین کرتی ہے۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے بھی ہر وہ چیز جو اجتماعی بھلائی یا برائی پر اثر انداز ہو، وہ شرعی ذمہ داری کے دائرے میں آتی ہے۔ اسی لیے ووٹ دینا یا نہ دینا دونوں عمل شریعت کے اصولوں کے مطابق قابل غور ہیں۔

 ووٹ کی شرعی حیثیت:

اسلام میں دو بنیادی اصول ہیں جو ووٹ سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں:

1. امانت:

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا"

(النساء: 58)

یعنی: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کرو۔”

ووٹ ایک امانت ہے۔ اسے ایسے شخص یا جماعت کو دینا چاہیے جو اس کی اہلیت رکھتا ہو  جو دیانت دار، اہل، انصاف پسند اور عوام کے حقوق کا محافظ ہو۔

2. گواہی:

قرآن میں ارشاد ہے:

"وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ"

(البقرہ: 283)

یعنی: “گواہی کو مت چھپاؤ، جو اسے چھپاتا ہے، اس کا دل گناہگار ہے۔”

ووٹ دراصل ایک سیاسی و اخلاقی گواہی ہے۔ اگر اہل اور نیک شخص کو ووٹ دینے کے بجائے فرقہ پرست یا ظالم کو ووٹ دیا جائے یا ووٹ ڈالنے سے گریز کیا جائے تو یہ گواہی میں خیانت شمار ہوگی۔