منگل، 18 نومبر، 2025

میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں۔

میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں۔

اگر آپ اسے کسی اسائنمنٹ، تقریر یا ذاتی مطالعے کے لیے استعمال کرنا چاہیں، تو بے جھجھک کریں۔
میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں؟ — ایک فکری و روحانی جائزہ
انسان کی فطرت میں محبت، وابستگی اور تعلق کے جذبات گہرے رچے بسے ہوتے ہیں۔ ہم ان چیزوں سے محبت کرتے ہیں جو ہمیں راحت، سہارا، امید اور تحفظ دیتی ہیں۔ اسی فطری میلان کے تحت ایک سوال اُبھرتا ہے:
میں اپنے رب سے پیار کیوں نہ کروں؟
یہ سوال محض ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ ایک کامل روحانی حقیقت ہے جس کا جواب انسان کی پوری زندگی میں پنہاں ہے۔

پیر، 17 نومبر، 2025

ہندوستان میں مسلمانوں کا عروج و زوال

 

ہندوستان میں مسلمانوں کا عروج و زوال

برصغیرِ ہند کی تاریخ میں مسلمانوں کا کردار ایک روشن باب ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال تک یہاں مسلمانوں نے نہ صرف حکمرانی کی بلکہ علم، تہذیب، ثقافت، عدل و انصاف اور معاشرتی ہم آہنگی کی ایسی مثالیں قائم کیں جو آج بھی تاریخ کے صفحات پر جگمگا رہی ہیں۔ مسلمانوں کے عروج اور پھر زوال کی یہ داستان بڑے اسباب، تاریخی واقعات اور فکری تبدیلیوں پر مشتمل ہے، جو کسی بھی قوم کی تعمیر یا تباہی کا آئینہ ہے۔

پیر، 10 نومبر، 2025

ہاں میں اسدالدین اویسی ہوں


 

ہاں میں اسدالدین اویسی ہوں ۔۔۔!

 

جی ممبر آف پارلیمنٹ، مجلس اتحادالمسلمین کا قومی صدر، زیرک سیاست داں، شیر دکن، خطیب شعلہ بیاں، نقیب ملت ، حاضر جواب بیرسٹر اسدلدین اویسی ہوں ہوں۔ میری پیدائش 13؍مئی 1969 کو حیدرآباد کے معروف ومشہور سیاست داںسلطان صلاح الدین اویسی کے گھر میں ہوئی۔ میرے والد صلاح الدین اویسی ملکی سیاست میں اہم مقام رکھتے تھے۔میری والدہ کا نام نجم النساء ہے، بھائی اکبرالدین اویسی ہیں جو ریاست تلنگانہ میں رکن اسمبلی ہیں اور دوسرے بھائی برہان الدین اویسی ہیں جو حیدرآباد کے مشہور ومعروف اخبار روزنامہ اعتماد کے ایڈیٹر ہیں۔ میری ابتدائی تعلیم حیدرآباد میں ہوئی میں نظامیہ کالج، عثمانیہ یونیورسٹی سے استفادہ کرنے کے بعد لاء میں کمال تامہ پیدا کرنے کےلیے لنکن ان لندن انگلینڈ سے ایل ایل بی کیا۔ میری شادی 11؍دسمبر 1996 کو فرحین اویسی سے ہوئی جس سے میری پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ہاں میں وہی اسدالدین اویسی ہوں جس نے اپنے والد کے بعد مجلس اتحاد المسلمین کی کمان سنبھالی اور حیدرآباد وتلنگانہ کے مسلمانوں کی بے باک آواز بن کر ابھرا۔ انہیں ان کے حقوق دلوائے، حکومتوں کو مجبور کیا کہ وہ حیدرآباد کے مسلمانوں کو ترقی کے دھارے میں جوڑے،دہشت گردی کے بے جا الزامات میں گرفتار ملزمین کی رہائی کے بعد حکومت سے انہیں اپنے بھائی اکبر کے ذریعے معاوضہ دلوایا۔ ہاں میں وہی اویسی ہوں جس نے اپنی قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے حیدرآباد میں اسکول کالج کا  جال پھیلایا، جہاں مسلم قوم کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتیں اور مجبور ولاچار افراد کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔میری پارٹی کو محض مسلمانوں کی پارٹی کہنا ظلم ہے، میں “جے میم جے بھیم” کے نعرہ کے ساتھ اٹھا ہوں ، دونوں پسی ہوئی اقلیتوں کا مسیحا ہوں، میری پارٹی میں دبی کچلی کمیونٹی کے افراد موجود ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ میں محض مسلمانوں کا لیڈر یا رہنما نہیں ہوں، میں ان دبے کچلوں کےلیے بھی آواز اُٹھاتا ہوں اور ان کی آواز میں مزید شدت وقوت پیدا کرنے کے لیے میں نے آئین ہند کے معمار بابا صاحب امبیڈکر کے پوتے کے ساتھ گٹھ بندھن کیا ہے۔

اتوار، 9 نومبر، 2025


اویسی کی "حکومت"...! 

اقراء حسن اور ناقدین کو یہ تاریخ کون سمجھائے؟ 

محترمہ اقراء منور حسن  اور ناقدین نے مجلس پر طنز کیا کہ

"چوبیس نشستیں لڑ کر کیا حکومت بن جائے گی؟"


سوال معصوم ہے، مگر نادانی سے نکلا ہے۔

جو ایم آئی ایم (AIMIM) کا پورا سفر نہیں جانتے، وہ یہی پوچھیں گے ۔

 

حکومت ایم آئی ایم نے نہیں بنائی،

لیکن ایم آئی ایم نے وہ کر دکھایا جو حکومتیں بھی نہیں کر پاتیں ۔

(1) صفر سے اعتماد پیدا کرنا،

(2) خوف میں دبی آواز کو باہر نکالنا،

(3) حق کی اواز کو بلند کرنا ،

(4) عدل و انصاف کے لیے لڑنا ،

(5) دبے کچلے لوگوں کا سہارا بننا ،

(6) شریعت میں مداخلت کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنا،

(7) حقائق اور دلائل کے ساتھ بات کرنا ،

اور ایک بکھرے ہوئے طبقے کو پھر سے سیاست میں سر اٹھانے کا حوصلہ دینا۔

 

۱۹۴۸: وہ سیاہ دور، جب AIMIM کا نام لینا بھی خطرہ تھا

 

آپریشن پولو‘ کے بعد حیدرآباد پر قبضہ ہوا۔

مجلس پر پابندی لگائی گئی، دارالسلام کو سیل کر دیا گیا،

اور تنظیم کو ختم شدہ مان لیا گیا۔

رضاکاروں کے الزامات، پولیس ایکشن کی تباہی، اور گلی گلی خوف کا سایہ

اس ماحول میں کسی تنظیم کا دوبارہ ابھرنا ناممکن سا لگتا تھا۔

اسی دوران مجلس کے آخری صدر پاکستان چلے گئے

اور تنظیم کی ذمے داری عبدالواحد اویسی کے سپرد کر گئے،

یہ پیغام دیتے ہوئے کہ:

"اب اسے سنبھالو، اسے بچاؤ۔"

۱۹۵۷: کھنڈرات سے دوبارہ جنم

عبدالواحد اویسی نے مجلس کا نام بدلا، راہ بدلی، سوچ بدلی،

اور تنظیم کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے نام سے دوبارہ کھڑا کیا۔

ہفتہ، 8 نومبر، 2025


 

ووٹ کی شرعی حیثیت

ووٹ کی شرعی حیثیت، اہمیت اور جمہوری معاشرے میں اس کی قدر و ضرورت

ووٹ ایک معمولی کاغذی پرچی نہیں، بلکہ ایک عہد، امانت اور گواہی ہے۔ آج کے جمہوری نظام میں یہ وہ طاقت ہے جس کے ذریعے قوم اپنی سمت، قیادت اور مستقبل کا تعین کرتی ہے۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے بھی ہر وہ چیز جو اجتماعی بھلائی یا برائی پر اثر انداز ہو، وہ شرعی ذمہ داری کے دائرے میں آتی ہے۔ اسی لیے ووٹ دینا یا نہ دینا دونوں عمل شریعت کے اصولوں کے مطابق قابل غور ہیں۔

 ووٹ کی شرعی حیثیت:

اسلام میں دو بنیادی اصول ہیں جو ووٹ سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں:

1. امانت:

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا"

(النساء: 58)

یعنی: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کرو۔”

ووٹ ایک امانت ہے۔ اسے ایسے شخص یا جماعت کو دینا چاہیے جو اس کی اہلیت رکھتا ہو  جو دیانت دار، اہل، انصاف پسند اور عوام کے حقوق کا محافظ ہو۔

2. گواہی:

قرآن میں ارشاد ہے:

"وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ"

(البقرہ: 283)

یعنی: “گواہی کو مت چھپاؤ، جو اسے چھپاتا ہے، اس کا دل گناہگار ہے۔”

ووٹ دراصل ایک سیاسی و اخلاقی گواہی ہے۔ اگر اہل اور نیک شخص کو ووٹ دینے کے بجائے فرقہ پرست یا ظالم کو ووٹ دیا جائے یا ووٹ ڈالنے سے گریز کیا جائے تو یہ گواہی میں خیانت شمار ہوگی۔

منگل، 28 اکتوبر، 2025

جمہوری نظام میں الیکشن- اسلامی نقطئہ نظر


 

جمہوری نظام میں الیکشن- اسلامی نقطئہ نظر

حکومت ،حکمراں اور طریقہٴ حکمرانی :

آزادی، ا نسان کے لیے ایک قیمتی نعمت اور بیش بہا سرمایہ ہے ،ہرانسان رحمِ مادرسے آزاد پیدا ہوتاہے؛اسی لیے آزادی اس کی شرست میں داخل ہے۔آزادی کا احساس انسان کے اندر خودداری وخود اعتمادی اور اپنے آپ کی تکمیل وتعمیر کے جذبات پیدا کر تا ہے ؛لیکن جب آزادی کا یہ احساس ایک حد سے بڑھ جا تا ہے ،یا اس احساس کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے اورانسان کی آزادی خطرے میں پڑجاتی ہے ؛تو انسان میں بغاوت ،حیوانیت ،خود سری جیسے اوصاف پروان چڑھنے لگتے ہیں اور وہ اپنے دائرہ سے بڑھ کر دوسروں کی آزادی کو پائمال کرنے لگتا ہے ۔پھر جب ایسے انسانوں کی معاشرہ میں کثرت ہوتی ہے ؛تو انتشار ،آپسی ٹکراؤاور انارکی کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور کبھی کُشت وخون کے بھیانک مناظر بھی سامنے آتے ہیں؛ لیکن چوں کہ انسان مدنی الطبع بھی ہے؛ اس لیے ابتدائے آفرینش سے انسان اپنی پیدائشی آزادی کے با وجود ایک نظام کی تابعداری کرکے اور ایک حکم راں کی ما تحتی قبول کر کے زندگی گذارنے کا عادی رہا ہے۔ ایک نظام حکومت سے وابستہ ہوکر وہ دشمنوں سے اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے ۔اور آپس میں بقائے باہم کے اصول پر کاربند ہوکر پرامن زندگی گذارتا ہے، حکم رانی کے الگ الگ طریقے الگ الگ زمانے میں رائج رہے ہیں ۔ کبھی شخصی حکومت رہی، تو کبھی خاندانی حکومت ۔کبھی استبدادی نظام رہا، تو کبھی عوامی نظام۔ تاریخ کے زیادہ تر مراحل میں ایسی حکومتوں کا غلبہ رہا جن کے حکمراں زمامِ اقتدار سنبھالتے ہی خدائی کا دعویداربن بیٹھے اور محکوم عوام کو اپنا غلام بنا کر ان سے اپنی بندگی کروانے لگے ۔

جمعہ، 28 مارچ، 2025

رمضان کی عظمت، حرمت اور فضیلت


 

رمضان کی عظمت، حرمت اور فضیلت!!


الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف واکرم بنایا، اس کی فطرت میں نیکی اور بدی، بھلائی اور برائی ، تابعداری وسرکشی اور خوبی وخامی دونوں ہی قسم کی صلاحیتیں اور استعدادیں یکساں طور پر رکھ دی ہیں۔ اسی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے کہ کسی بھی انسان سے اچھائی اور برائی دونوں ہی وجود میں آسکتی ہیں۔ ایک انسان سے حسنات بھی ممکن ہیں اور سیئات بھی، اس کے باوجود کوئی سیئات ومعصیات سے مجتنب ہوکر اپنی زندگی اور اس کے قیمتی لمحات کو حسنات وطاعات سے مزین اور آراستہ کرلے تو یہ اس کے کامیاب اور خالق ومخلوق کے نزدیک اشرف واکرم ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے اور یہی تقویٰ وپرہیزگاری ہے جو روزہ کا مقصدِ اصلی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’
یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ أَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ۔‘‘                                         (البقرۃ:۱۸۳، ۱۸۴(
’’
اے ایمان والو! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ، چند روز ہیں گنتی کے۔‘‘
تقویٰ کا معنی ہے: نفس کو برائیوں سے روکنا اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ روزہ ہے، جیسا کہ ایک صحابیؓ نے حضور اکرم a سے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کا حکم دیجیے جس سے حق تعالیٰ مجھے نفع دے‘‘ ، آپ a نے ارشاد فرمایا: ’’علیک بالصوم، فإنہٗ لامثل لہٗ‘‘ (سنن نسائی، ج:۱، ص:۱۴۰) ۔۔۔۔۔۔۔ ’’یعنی روزہ رکھا کرو، اس کے مثل کوئی عمل نہیں۔‘‘ اب رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، گویا یہ مہینہ نیکیوں اور طاعات کے لیے موسمِ بہار کی طرح ہے، اسی لیے رمضان المبارک سال بھر کے اسلامی مہینوں میں سب سے زیادہ عظمتوں، فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اپنی رضا، محبت وعطا، اپنی ضمانت واُلفت اور اپنے انوارات سے نوازتے ہیں۔ اس مہینہ میں ہر نیک عمل کا اجروثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس ماہ میں جب ایمان اور احتساب کی شرط کے ساتھ روزہ رکھا جاتا ہے تو اس کی برکت سے پچھلی زندگی کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جب رات کو قیام (تراویح) اسی شرط کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس سے بھی گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اس ماہ میں ایک نیکی فرض کے برابر اور فرض ستر فرائض کے برابر ہوجاتا ہے، اس ماہ کی ایک رات جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے وہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے۔ 

پیر، 22 اپریل، 2024

ہاں میں اسدالدین اویسی ہوں

 

ہاں میں اسدالدین اویسی ہوں ۔۔۔!

مضمون : نازش ہما قاسمی

جی ممبر آف پارلیمنٹ، مجلس اتحادالمسلمین کا قومی صدر، زیرک سیاست داں، شیر دکن، خطیب شعلہ بیاں، نقیب ملت ، حاضر جواب بیرسٹر اسدلدین اویسی ہوں ہوں۔ میری پیدائش 13؍مئی 1969 کو حیدرآباد کے معروف ومشہور سیاست داںسلطان صلاح الدین اویسی کے گھر میں ہوئی۔ میرے والد صلاح الدین اویسی ملکی سیاست میں اہم مقام رکھتے تھے۔میری والدہ کا نام نجم النساء ہے، بھائی اکبرالدین اویسی ہیں جو ریاست تلنگانہ میں رکن اسمبلی ہیں اور دوسرے بھائی برہان الدین اویسی ہیں جو حیدرآباد کے مشہور ومعروف اخبار روزنامہ اعتماد کے ایڈیٹر ہیں۔ میری ابتدائی تعلیم حیدرآباد میں ہوئی میں نظامیہ کالج، عثمانیہ یونیورسٹی سے استفادہ کرنے کے بعد لاء میں کمال تامہ پیدا کرنے کےلیے لنکن ان لندن انگلینڈ سے ایل ایل بی کیا۔ میری شادی 11؍دسمبر 1996 کو فرحین اویسی سے ہوئی جس سے میری پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ہاں میں وہی اسدالدین اویسی ہوں جس نے اپنے والد کے بعد مجلس اتحاد المسلمین کی کمان سنبھالی اور حیدرآباد وتلنگانہ کے مسلمانوں کی بے باک آواز بن کر ابھرا۔ انہیں ان کے حقوق دلوائے، حکومتوں کو مجبور کیا کہ وہ حیدرآباد کے مسلمانوں کو ترقی کے دھارے میں جوڑے،دہشت گردی کے بے جا الزامات میں گرفتار ملزمین کی رہائی کے بعد حکومت سے انہیں اپنے بھائی اکبر کے ذریعے معاوضہ دلوایا۔ ہاں میں وہی اویسی ہوں جس نے اپنی قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے حیدرآباد میں اسکول کا جال پھیلایا، جہاں مسلم قوم کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتیں اور مجبور ولاچار افراد کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔میری پارٹی کو محض مسلمانوں کی پارٹی کہنا ظلم ہے، میں “جے میم جے بھیم” کے نعرہ کے ساتھ اٹھا ہوں ، دونوں پسی ہوئی اقلیتوں کا مسیحا ہوں، میری پارٹی میں دبی کچلی کمیونٹی کے افراد موجود ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ میں محض مسلمانوں کا لیڈر یا رہنما نہیں ہوں، میں ان دبے کچلوں کےلیے بھی آواز اُٹھاتا ہوں اور ان کی آواز میں مزید شدت وقوت پیدا کرنے کے لیے میں نے آئین ہند کے معمار بابا صاحب امبیڈکر کے پوتے کے ساتھ گٹھ بندھن کیا ہے۔

منگل، 30 جنوری، 2024

روزے کے احکام ومسائل


 روزے کے احکام ومسائل

رمضان المبارک کا روزہ فرض اور دین اسلام کا چوتھا رکن ہے ۔ اس کی فرضیت قرآن وحدیث دونوں سے ثابت ہے ۔ روزے کو عربی میں صوم یا صیام کہتے ہیں ۔ صوم کے لغوی معنی کسی چیز سے رکنا اور کسی امر سے باز رہنے کے ہیں ۔ جبکہ شریعت کی اصطلاح میں صوم یا صیام سے مراد یہ ہے کہ آدمی صبح صادق سے غرب آفتاب تک کھانے پینے اور جنسی خواہشات پوری کرنے سے باز رہے ۔

روزے کا حکم :

۲ھ ؁ میں رمضان کے روزے مسلمانوں پر فرض کئے گئے اس آیت میں یہ حکم موجود ہے : یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام (اے مومنو!تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔)
روزے کی اہمیت وفضیلت :
روزہ تمام آسمانی شریعتوں میں فرض رہا ہے اور ہر امت کے نظام عبادت میں یہ ایک لازمی جز کی حیثیت میں شامل رہاہے۔ جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: کما کتب علی الذ ین من قبلکم (جیساکہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیاگیاتھا۔)
روزے کا مقصد :

ہفتہ، 20 جنوری، 2024

بابری مسجداور انصاف کا قتل۔


بابری مسجداور انصاف کا قتل۔
بابری مسجد (یا میر باقی مسجد) جو مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے نام سے منسوب ہے، بھارتی ریاست اترپردیش کی بڑی مساجد میں سے ایک تھی۔ اسے مغل سالار میر باقی نے تعمیر کروایا تھا۔9 نومبر 2019 کو ہندوستانی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے تعلق سے اپنا حتمی فیصلہ سنایا،تمام شواہد مسلم پکش میں ہونے کے باوجود آستا کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے جج نے اسے ہندو توا کے حق میں دےدیا، 5 اگست 2020 ملک کے وزیر اعظم کے ہاتھوں رام مندر کے لیے سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔

بابری مسجد، انہدام سے پہلےبنیادی معلومات

مذہبی انتساب                       :      اسلام
ضلع:                                   فیض آباد
ریاست:                              اترپردیش
ملک                                :   بھارت
مذہبی یا تنظیمی حالت:                      مسجد
تعمیراتی تفصیلات
معمار:                                 میر باقی
طرز تعمیر:                           مغلیہ فنِ تعمیر
سنہ تکمیل:    1528                          ء
تفصیلات
گنبد:                                    تین

تعمیری پس منظر
بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر1483ء1531ء) کے حکم سے دربار بابری سے منسلک ایک نامور شخص میر باقی کے ذریعہ سن 1527ء میں اتر پردیش کے مقام ایودھیا میں تعمیر کی گئی۔

ہفتہ، 13 جنوری، 2024

یوم جمہوریہ پر نظم و تقریر۔

یوم جمہوریہ پر نظم و تقریر۔


ہندی اردو ترجمہ


جن گن من ادھی نایک جئے ہے.
بھارت بھاگیہ ودھاتا
پنجاب سندھ گجرات مراٹھا
دراوڈ اتکل ونگا
وندھیہ ہماچل یمنا گنگا
اچھلہ جلہ دھی ترنگا
توا سبھ نامے جاگے
توا شبھ آشش مانگے
گاہے توا جیا گادھا
جن گن منگل دایک جیہ ہے
بھارت بھاگیہ ودھاتا
جیا ہے، جیا ہے، جیا ہے
جیا جیا جیا جیا ہے

رابندرا ناتھ ٹیگور۔

जन गण मन अधिनायक जय हे
भारत भाग्य विधाता
पंजाब सिंध गुजरात मराठा
द्राविड उत्कल वंग
विंध्य हिमाचल यमुना गंगा
उच्छल जलधि तरंग
तव शुभ नामे जागे
तव शुभ आशिष मागे
गाहे तव जयगाथा
जन गण मंगल दायक जय हे
भारत भाग्य विधाता
जय हे, जय हे, जय हे
जय जय जय जय हे!

اے! بھارت کی منزل کا فیصلہ کرنے والے، عوام کے ذہن و دلوں پر حکومت کرنے والے تیری جئے ہو،
تیرا نام ہی، پنجاب، سندھ، گجرات، مراٹھا عللاقوں کے دلوں میں جگتا ہے
دراوڈ، اتکل اور بنگال میں بھی
تیرا ہی نام وندھیہ اور ہمالہ کی پہاڑیوں میں گونجتا ہے،
جمنا اور گنگا کے پانی میں یہی رواں دواں ہے،
یل (مذکورہ) علاقے تیرا ہی نام گنگناتے ہین،
اور یہ تیری ہی محترم دعائیں مانتے ہیں،
وہ صرف عظیم فتوحات کے نغمے گاتے ہیں،
اور اس عوام کی مغفرت تیرے ہی ہاتھوں ہے،
اے! بھارت کی منزل کا فیصلہ کرنے والے، عوام کے ذہن و دلوں پر حکومت کرنے والے
تیری جئے ہو، تیری جئے ہو، تیری جئے ہو,
جئے ہو، جئے ہو، جئے ہو، تیری ہی جئے ہو!

سارے جہاں سے اچھا
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا
پربت وہ سب سے اونچا ہم سایہ آسماں کا
وہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہمارا
گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں
گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا
اے آب رود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کو
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
اقبالؔ کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں
معلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا
علامہ اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ

ترنگا زندہ باد
ترنگا زندہ باد ترنگا زندہ باد ترنگا زندہ باد ترنگا زندہ باد
اس کے تلے ہم لوگ یہاں پر رہتے ہیں ازاد ترنگا زندہ باد
ہے یہ ترنگا ایسا یاروں سب کے دل کو بھاتا ہے ایسا جلوہ دکھاتا ہے
ہندو مسلم سکھ عیسائی سب کو پیار سکھاتا ہے پیار کا نغمہ سناتا ہے
اسکے عقیدت کے قائل تھے گاندھی اور ازاد ترنگا زندہ باد
رنگ ہرا دکھلا کے سب کو ہریالی بتلاتا ہےخوشحالی دکھلاتا ہے
سرخ سے قربانی کا جذبہ رگ رگ میں بھڑکاتا ہے خون دل گرماتا ہے
اسکی سفیدی امن کے حق میں بنتی ہے روداد ترنگا زندہ باد۔
تجھ کو بزرگوں نے اے بھارت جان و دل سے چاہا تھا تن من تجھ پہ لٹایا تھا
تاج محل اور لعلِ قلعہ سے روپ کو تیرے سجایا تھا ایسا تجھ کو بنایا تھا
کیسے بھلا جائے اس کو اس کی ہے اولاد ترنگا زندہ باد۔
ٹیپو ظفر اشفاق کی محنت رنگ یہاں پر لائی ہے ازادی یہ دلائی ہے
بھاگ پڑے انگریز یہاں سے ایسی دھول چٹائی ہے تب ازادی پائی ہے۔
ہم ہیں مسلماں حب وطن کے دل ہے یہ ازاد ترنگا زندہ باد۔
پیار و محبت امن و اماں کے دیپ جلاتے جائیں گے سب کو ہنساتے جائیں گے۔
ہم سے محبت جو بھی کرے گا اس کو ہم اپنائیں گے اپنے دل میں بٹھائیں گے اس سے گلے لگائیں گے۔

یکجہتی کا جو ہے مخالف ہو جائے برباد ترنگا زندہ باد۔
ہاں تو شمیم اب دیش کے خاطر پھر سے خون بہانا ہے اپنے حق کو پانا ہے۔
کچھ بھی ہو ہر حال میں اپنا ہندوستان بچانا ہے شان کو اس کی بڑھاناہے
تاکہ یہاں کا ہر باشندہ ہو جائے پھرشاد ترنگا زندہ باد۔
شمیم احمد


یوم جمہوریہ ہند کے موقع پر نعرہ
مجاہدین آزادی ۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
علماء کرام۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
علماء دیوبند۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
نواب سراج الدولہ۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
حیدر علی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
فتح علی خان ٹیپوسلطان۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
شاہ اسحاق محدث دہلوی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
سید احمد شہید۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
شاہ اسماعیل شہید۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
بہادر شاہ ظفر۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا رشید احمد گنگوہی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا قاسم نانوتوی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا نصیرالدین دہلوی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا ولایت علی عظیم آبادی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا عنایت علی عظیم آبادی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
حافظ ضامن شہید۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا رحمت اللہ کیرانوی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا ذوالفقار علی دیوبندی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا فضل الرحمٰن عثمانی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا حسین احمد مدنی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا عبیداللہ سندھی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مفتی کفایت اللہ دہلوی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا فضل حق خیرآبادی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا سید سلیمان ندوی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا حسرت موہانی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا منصور انصاری۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا عبدالرحیم را
ۓ پوری۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
ڈاکٹر احمد انصاری۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
محمد علی جوہر۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
شوکت علی جوہر ۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
بی اماں بیگم حضرت محل۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مولانا ابوالکلام آزاد۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مہاتما گاندھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امر رہے
سبھاش چندر بوس۔۔۔۔۔۔۔۔۔امر رہے
بھیم راؤ امبیڈکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔امر رہے
بھگت سنگھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امر رہے
چندر شیکھر آزاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔امر رہے
اشفاق اللہ خان۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
خان عبدالغفار خان۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
جنرل شہنواز خان۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
پنڈت جواہر لال نہرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔امر رہے
بریگیڈیئر عثمان۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
ویر عبد الحمید۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مجاہدین آزادی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
علماء عظام۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
یومِ جمہوریہ۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
یومِ آزادی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
جمعیت علمائے ہند ۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مسلم پرسنل لاء بورڈ۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
قومی یک جہتی۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
کسان ایکتا۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
دارالعلوم دیوبند۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
مظاہر العلوم سہارنپور۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ۔۔۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔زندہ باد
ندوی انٹرپرائزز ڈگروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندہ باد

تقریر
  نحمده و نصلي عليٰ رسوله الكريم ! اما بعد  

چمن میں پھول کھلتے ہیں گلشنِ بہار بن کر
26 جنوری مبارک ہو پھولوں کا ہار بن کر
دور دراز سے تشریف لائے مہمانانِ کرام! میرے بھائیو، بزرگو، پردہ نشین ماں بہنو اور تمام حاضرین!
    جیسا کہ ہم سبھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج 26 جنوری کو پورا ہندوستان بڑے دھوم دھام سے یومِ جمہوریہ یعنی گنتنتر دیوس منا رہا ہے، لیکن اس دن کو منانے کے ساتھ اس کو منانے کی وجہ جاننا بھی ہم سب کے لیے بہت ضروری ہے۔
   کہ آخر ہم کب سے یومِ جمہوری منا رہے ہیں اور کیوں منا رہے ہیں؟

    محترم سامعین!

    15 اگست 1947 ء کو ہندوستان کی آزادی اور ہندوستان و پاکستان کے بنٹوارے کے بعد ہر ہندوستانی ملک میں آزادی کی سانس لے رہا تھا، لیکن ملک میں اس وقت کسی بھی طرح کا قانون یا ضابطہ نہیں تھا؛ چنانچہ ملک ہندوستان کے پہلے صدر جمہوریہ جناب ڈاکٹر راجیندر پرشاد جی کے حکم سے وضع قوانین کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور اس کا صدرجناب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر صاحب کو منتخب کیا گیا۔
    جناب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر صاحب کی صدارت میں 2  سال 11 مہینے 18 دن میں قوانین ہند کا مسودہ تیار کیا گیا، یہ قانونی مسودہ 26 نومبر 1949ء کو پارلیمینٹ میں پیش کیا گیا، اور تمام اراکین پارلیمنٹ کی رضامندی سے وہ مسودہ قانونی شکل اختیار کر گیا ؛ لیکن یہ قانون ابھی نافد نہیں ہوا تھا،بلکہ قوانین ہند کے نفاذ کے لیے 26 جنوری 1950ء کو متعین کیا گیا۔ 

    محترم سامعین!

       ہمارے پیارے ملک ہندوستان کا قانون دنیا کے تمام ممالک کے قوانین سے بڑا قانون ہے، جس میں پہلے 395 انوچھید (پیرا گراف) 8 انوسوچیاں ( شیڈول) اور 22 بھاگ ( حصے) تھے جبکہ فی الحال بڑھ کر 448 انوچھید ، 12 انوسوچیاں اور 25 بھاگ یعنی حصے ہیں۔ اسی لیے ہم ہندوستانی فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارا ملک پوری دنیا کے جمہوری ممالک میں سب سے بڑا ملک ہے۔
    اور جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ :
    اس ملک کے ہر باشندے کو بنیادی حقوق دئے گئے ہیں۔
    ہندو ہو یا مسلم ، سکھ ہو یا عیسائی سب کے لیے ایک ہی قانون ہے۔
    ہر شخص کو اپنے دھرم، مذہب اور رسم و رواج کے مطابق زندگی گذارنے کی مکمل آزادی ہے۔
    اس ملک میں رہنے سہنے اور کھانے پینے کی مکمل آزادی ہے۔
    اس ملک کے ہر باشندے کو ہر چیز میں مساوی اور برابری کا حق ہے۔
    میں اپنی بات اس شعر کے ساتھ ختم کرنا چاہتا ہوں:

دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت 
میری مٹی سے بھی خوشبوء وفا آئے گی

شکریہ                                           

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

All Praise be to Allah and blessing be upon the Messenger of Allah!

But later

Flowers bloom in the grass like spring flowers
Happy 26th January as a garland of flowers

Guests from far away! My brothers, elders, veiled mothers and sisters and all audiences.!

As we all know very well that today on 26th January the whole of India is celebrating the Republic Day i.e. Gantantra Divas with great fanfare, but along with celebrating this day it is very important for all of us to know the reason for celebrating it.

Since when are we celebrating the Republic Day and why?

Dear audience!

After the independence of India on August 15, 1947 and the partition of India and Pakistan, every Indian country was breathing freedom, but there was no law or regulation in the country at that time; So by the order of the first President of the Republic of India Mr. Dr. Rajendra Prashad ji, a committee was formed for the formulation of laws and Mr. Dr. Bhimrao Ambedkar was elected as its president.

Under the chairmanship of Mr. Dr. Bhimrao Ambedkar, a draft of the laws of India was prepared in 2 years 11 months and 18 days. went ; But this law was not implemented yet, rather January 26, 1950 was set for implementation of Indian laws.

Dear audience!

The law of our dear country India is bigger than the laws of all the countries of the world, in which earlier there were 395 Anuchhids (Paragraphs), 8 Anusuchis (Schedules) and 22 Bhags (Parts) but now it has increased to 448 Anuchhids, 12 Anusuchis and 25 Bhag means parts. That is why we Indians proudly say that our country is the largest democratic country in the whole world.

    And democracy means:
    Every citizen of this country is given basic rights.
    Whether Hindu or Muslim, Sikh or Christian, there is one law for all.
    Every person has full freedom to live according to his dharma, religion and customs.
    There is complete freedom to live and eat and drink in this country.
    Every citizen of this country has the right to be equal and equal in everything.
I would like to conclude with this verse:

The love of the country will not come out of the heart even after death
My soil will also smell good

Thanks

Peace be upon you and may Allah have mercy on you


नहमदुहु वह नुसल्लि अला रसूले हिल करीम अमरता बाद

वसंत के फूलों की तरह घास में फूल खिलते हैं
फूलों की माला के रूप में 26 जनवरी की हार्दिक शुभकामनाएँ

दूर दूर से आये मेहमान! मेरे भाईयों, बुज़ुर्गों, पर्दानशीन माताओं-बहनों और उपस्थित सभी लोगों!

जैसा कि हम सभी अच्छे से जानते हैं कि आज 26 जनवरी को पूरा भारत बड़ी धूमधाम से गणतंत्र दिवस यानी गणतंत्र दिवस मना रहा है, लेकिन इस दिन को मनाने के साथ-साथ इसे मनाने का कारण भी जानना हम सभी के लिए बहुत जरूरी है।

हम गणतंत्र दिवस कब से मना रहे हैं और क्यों?

प्रिय दर्शकों!

15
अगस्त 1947 को भारत की आज़ादी और भारत-पाकिस्तान के बंटवारे के बाद हर भारतीय देश आज़ादी की साँस ले रहा था, लेकिन उस समय देश में कोई क़ानून या नियम-क़ानून नहीं था; अतः भारत गणराज्य के प्रथम राष्ट्रपति श्री डॉ. राजेंद्र प्रसाद जी के आदेश से कानून निर्माण के लिए एक समिति का गठन किया गया और श्री डॉ. भीमराव अंबेडकर को उसका अध्यक्ष चुना गया।

श्री डॉ. भीमराव अम्बेडकर की अध्यक्षता में 2 वर्ष 11 माह और 18 दिन में भारत के कानूनों का मसौदा तैयार किया गया। लेकिन यह कानून अभी तक लागू नहीं किया गया था, बल्कि भारतीय कानूनों को लागू करने के लिए 26 जनवरी 1950 की तारीख तय की गई थी।

प्रिय दर्शकों!

हमारे प्यारे देश भारत का कानून दुनिया के सभी देशों के कानूनों से भी बड़ा है, जिसमें पहले 395 अनुचिद (पैराग्राफ), 8 अनुसूचि (अनुसूचियां) और 22 अनुचिद (भाग) थे लेकिन अब यह बढ़कर 448 अनुचिद (भाग) हो गए हैं। , 12 अनुसुचि और 25 भग अर्थात भाग। इसीलिए हम भारतीय गर्व से कहते हैं कि हमारा देश पूरे विश्व का सबसे बड़ा लोकतांत्रिक देश है।

   
और लोकतंत्र का अर्थ है:
   
इस देश के हर नागरिक को बुनियादी अधिकार दिए गए हैं।
   
हिंदू हो या मुस्लिम, सिख हो या ईसाई, सबके लिए एक कानून है.
   
प्रत्येक व्यक्ति को अपने धर्म, मजहब और रीति-रिवाज के अनुसार जीवन जीने की पूरी आजादी है।
   
इस देश में रहने और खाने-पीने की पूरी आजादी है।
   
इस देश के हर नागरिक को हर चीज़ में बराबरी और समानता का अधिकार है।
मैं इस श्लोक के साथ अपनी बात समाप्त करना चाहूंगा:

मरने के बाद भी दिल से वतन का प्यार नहीं निकलेगा
मेरी मिट्टी से भी खुशबू आएगी

धन्यवाद

आप पर शांति हो और अल्लाह आप पर दया करे