ٹوٹے دل کی صدا۔
اے اللہ ! میں بے بس
ہوں
لاچار ہوں کوئی تدبیر
کام نہیں آتی
یہ تو نے مجھے کن لوگوں
کے حوالے کردیا
ایسے دشمنوں کے
جو مجھ پر ظلم و ستم
ڈھاتے ہیں
اگر تم مجھ سے ناراض
نہیں
تو مجھے کوئی پروا
نہیں
میں تجھے مناتا رہوں
گا
یہاں تک کہ تو راضی
ہوجائے
ایک ایک لفظ درد میں
دبا ہوا
ایک ایک جملہ کرب و الم
کی تصویر
دس سال سے
ہاں مسلسل سال سے
وہ غم پی رہا تھا
وہ درد سہہ رہا
تھا
اس مدت کا ایک ایک لمحہ
اس کی دل شکستگی کا گواہ ہے
اس دہ سالہ دور کا ایک
ایک منٹ اس کے آنسوؤں کا شاہد ہے
اس کا دل۔۔۔۔
نازک سا دل
آہ ! کتنی
مرتبہ توڑا گیا تھا
اس دس سالوں میں کتنی مرتبہ وہ راتوں کو رویا تھا کتنی مرتبہ اس کی آنکھوں سے اشک باری ہوئی تھی کتنی مرتبہ اس کا دل ریزہ ریزہ ہوا تھا مگر آج ۔۔۔۔۔۔۔

