اتوار، 9 اکتوبر، 2022

ٹوٹے دل کی صدا۔

ٹوٹے دل کی صدا۔

 

اے اللہ ! میں بے بس ہوں 

لاچار ہوں کوئی تدبیر کام نہیں آتی 

یہ تو نے مجھے کن لوگوں کے حوالے کردیا 

ایسے دشمنوں کے 

جو مجھ پر ظلم و ستم ڈھاتے ہیں 

اگر تم مجھ سے ناراض نہیں 

تو مجھے کوئی پروا نہیں 

میں تجھے مناتا رہوں گا 

یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے

ایک ایک لفظ درد میں دبا ہوا

ایک ایک جملہ کرب و الم کی تصویر

 دس سال سے 

ہاں مسلسل سال سے 

وہ غم پی رہا تھا 

وہ درد سہہ رہا تھا 

اس مدت کا ایک ایک لمحہ اس کی دل شکستگی کا گواہ ہے 

اس دہ سالہ دور کا ایک ایک منٹ اس کے آنسوؤں کا شاہد ہے 

اس کا دل۔۔۔۔ 

نازک سا دل

 آہ !  کتنی مرتبہ توڑا گیا تھا 

اس دس سالوں میں کتنی مرتبہ وہ راتوں کو رویا تھا کتنی مرتبہ اس کی آنکھوں سے اشک باری ہوئی تھی کتنی مرتبہ اس کا دل ریزہ ریزہ ہوا تھا مگر آج ۔۔۔۔۔۔۔

جمعہ، 7 اکتوبر، 2022

رشتے دار


 

رشتے دار
(پڑوسی، گلی محلہ، پڑھائی کھیل کود کے ساتھی)
ذلیل کرتے ہیں برداشت نہیں ہوتا.
وہ ہمت سے زیادہ امتحان لیتے ہیں.
ان کی باتوں کی اذیت کروٹیں بدلنے پر مجبور کرتی ہے.
ان کی زبان کا زخم گھائل کرتا ہے.
وہ انتہا کی پستی کا مظاہرہ کرتے ہیں.
آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ
یہ کبھی منزل پر نہیں پہنچ پائیں گے.
یعنی دوسرے لفظوں میں کہتے ہیں:
ہم نے بچے بیاہ لیے، بچوں کی شادیاں کردیں ہم کامیاب ہیں۔ اور آپ ناکام ہیں.
کہتے ہیں کہ ہم نے بڑے تیر مار لیے تم ابھی پیچھے ہو.
کیا آپ کو لگتا ہے یہ صرف آپ کو ہی کہتے ہیں.
کیا آپ کو لگتا ہے یہ اذیت صرف آپ ہی سہہ رہے ہیں.
نہیں جی۔
آپ غلط ہیں!
آپ سے پہلے بلکہ
چودہ سو سال پہلے یہ اذیت،
یہ تکلیف یہ مشکلات)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی برداشت کرنا پڑی تھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ایک سگا چچا تھا،
جو حسن و جمال میں اس قدر خوبصورت تھا کہ اسے ابو لھب یعنی *شعلوں کا باپ کہتے تھے۔
یعنی اس کا حسن شعلے مارتا تھا۔
یہ خوبصورت چہرے والوں کی کہانی ہے،
اکثر
خوبصورت چہروں کے منہ میں بد لحاظ زبان اور سینے میں بغض سے بھرا دل ہوتا ہے۔
ابو لھب کے پاس بھی بد لحاظ زبان تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دل چیر دینے والے الفاظ کہتی تھی۔
ایک باپ اپنے مردہ بیٹے کا وجود گود میں لیے بیٹھا ہے،
اسے اپنے دوستوں،چاہنے والوں اور رشتے داروں کے دلاسے، تسلی کی سب سے زیادہ ضرورت اسی وقت ہے۔