جمعہ، 28 مارچ، 2025

رمضان کی عظمت، حرمت اور فضیلت


 

رمضان کی عظمت، حرمت اور فضیلت!!


الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف واکرم بنایا، اس کی فطرت میں نیکی اور بدی، بھلائی اور برائی ، تابعداری وسرکشی اور خوبی وخامی دونوں ہی قسم کی صلاحیتیں اور استعدادیں یکساں طور پر رکھ دی ہیں۔ اسی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے کہ کسی بھی انسان سے اچھائی اور برائی دونوں ہی وجود میں آسکتی ہیں۔ ایک انسان سے حسنات بھی ممکن ہیں اور سیئات بھی، اس کے باوجود کوئی سیئات ومعصیات سے مجتنب ہوکر اپنی زندگی اور اس کے قیمتی لمحات کو حسنات وطاعات سے مزین اور آراستہ کرلے تو یہ اس کے کامیاب اور خالق ومخلوق کے نزدیک اشرف واکرم ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے اور یہی تقویٰ وپرہیزگاری ہے جو روزہ کا مقصدِ اصلی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’
یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ أَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ۔‘‘                                         (البقرۃ:۱۸۳، ۱۸۴(
’’
اے ایمان والو! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ، چند روز ہیں گنتی کے۔‘‘
تقویٰ کا معنی ہے: نفس کو برائیوں سے روکنا اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ روزہ ہے، جیسا کہ ایک صحابیؓ نے حضور اکرم a سے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کا حکم دیجیے جس سے حق تعالیٰ مجھے نفع دے‘‘ ، آپ a نے ارشاد فرمایا: ’’علیک بالصوم، فإنہٗ لامثل لہٗ‘‘ (سنن نسائی، ج:۱، ص:۱۴۰) ۔۔۔۔۔۔۔ ’’یعنی روزہ رکھا کرو، اس کے مثل کوئی عمل نہیں۔‘‘ اب رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، گویا یہ مہینہ نیکیوں اور طاعات کے لیے موسمِ بہار کی طرح ہے، اسی لیے رمضان المبارک سال بھر کے اسلامی مہینوں میں سب سے زیادہ عظمتوں، فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اپنی رضا، محبت وعطا، اپنی ضمانت واُلفت اور اپنے انوارات سے نوازتے ہیں۔ اس مہینہ میں ہر نیک عمل کا اجروثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس ماہ میں جب ایمان اور احتساب کی شرط کے ساتھ روزہ رکھا جاتا ہے تو اس کی برکت سے پچھلی زندگی کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جب رات کو قیام (تراویح) اسی شرط کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس سے بھی گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اس ماہ میں ایک نیکی فرض کے برابر اور فرض ستر فرائض کے برابر ہوجاتا ہے، اس ماہ کی ایک رات جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے وہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے۔ 

پیر، 22 اپریل، 2024

ہاں میں اسدالدین اویسی ہوں

 

ہاں میں اسدالدین اویسی ہوں ۔۔۔!

مضمون : نازش ہما قاسمی

جی ممبر آف پارلیمنٹ، مجلس اتحادالمسلمین کا قومی صدر، زیرک سیاست داں، شیر دکن، خطیب شعلہ بیاں، نقیب ملت ، حاضر جواب بیرسٹر اسدلدین اویسی ہوں ہوں۔ میری پیدائش 13؍مئی 1969 کو حیدرآباد کے معروف ومشہور سیاست داںسلطان صلاح الدین اویسی کے گھر میں ہوئی۔ میرے والد صلاح الدین اویسی ملکی سیاست میں اہم مقام رکھتے تھے۔میری والدہ کا نام نجم النساء ہے، بھائی اکبرالدین اویسی ہیں جو ریاست تلنگانہ میں رکن اسمبلی ہیں اور دوسرے بھائی برہان الدین اویسی ہیں جو حیدرآباد کے مشہور ومعروف اخبار روزنامہ اعتماد کے ایڈیٹر ہیں۔ میری ابتدائی تعلیم حیدرآباد میں ہوئی میں نظامیہ کالج، عثمانیہ یونیورسٹی سے استفادہ کرنے کے بعد لاء میں کمال تامہ پیدا کرنے کےلیے لنکن ان لندن انگلینڈ سے ایل ایل بی کیا۔ میری شادی 11؍دسمبر 1996 کو فرحین اویسی سے ہوئی جس سے میری پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ہاں میں وہی اسدالدین اویسی ہوں جس نے اپنے والد کے بعد مجلس اتحاد المسلمین کی کمان سنبھالی اور حیدرآباد وتلنگانہ کے مسلمانوں کی بے باک آواز بن کر ابھرا۔ انہیں ان کے حقوق دلوائے، حکومتوں کو مجبور کیا کہ وہ حیدرآباد کے مسلمانوں کو ترقی کے دھارے میں جوڑے،دہشت گردی کے بے جا الزامات میں گرفتار ملزمین کی رہائی کے بعد حکومت سے انہیں اپنے بھائی اکبر کے ذریعے معاوضہ دلوایا۔ ہاں میں وہی اویسی ہوں جس نے اپنی قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے حیدرآباد میں اسکول کا جال پھیلایا، جہاں مسلم قوم کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتیں اور مجبور ولاچار افراد کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔میری پارٹی کو محض مسلمانوں کی پارٹی کہنا ظلم ہے، میں “جے میم جے بھیم” کے نعرہ کے ساتھ اٹھا ہوں ، دونوں پسی ہوئی اقلیتوں کا مسیحا ہوں، میری پارٹی میں دبی کچلی کمیونٹی کے افراد موجود ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ میں محض مسلمانوں کا لیڈر یا رہنما نہیں ہوں، میں ان دبے کچلوں کےلیے بھی آواز اُٹھاتا ہوں اور ان کی آواز میں مزید شدت وقوت پیدا کرنے کے لیے میں نے آئین ہند کے معمار بابا صاحب امبیڈکر کے پوتے کے ساتھ گٹھ بندھن کیا ہے۔