ووٹ کی شرعی حیثیت
ووٹ کی شرعی حیثیت، اہمیت اور جمہوری معاشرے میں اس کی قدر
و ضرورت
ووٹ ایک معمولی کاغذی پرچی نہیں، بلکہ ایک عہد، امانت اور
گواہی ہے۔ آج کے جمہوری نظام میں یہ وہ طاقت ہے جس کے ذریعے قوم اپنی سمت، قیادت
اور مستقبل کا تعین کرتی ہے۔
اسلام کے نقطۂ نظر سے بھی ہر وہ چیز جو اجتماعی بھلائی یا
برائی پر اثر انداز ہو، وہ شرعی ذمہ داری کے دائرے میں آتی ہے۔ اسی لیے ووٹ دینا
یا نہ دینا دونوں عمل شریعت کے اصولوں کے مطابق قابل غور ہیں۔
ووٹ کی شرعی حیثیت:
اسلام میں دو بنیادی اصول ہیں جو ووٹ سے براہِ راست تعلق
رکھتے ہیں:
1. امانت:
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا"
(النساء: 58)
یعنی: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے
سپرد کرو۔”
ووٹ ایک امانت ہے۔ اسے ایسے شخص یا جماعت کو دینا چاہیے جو
اس کی اہلیت رکھتا ہو جو دیانت دار، اہل،
انصاف پسند اور عوام کے حقوق کا محافظ ہو۔
2. گواہی:
قرآن میں ارشاد ہے:
"وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ"
(البقرہ: 283)
یعنی: “گواہی کو مت چھپاؤ، جو اسے چھپاتا ہے، اس کا دل
گناہگار ہے۔”
ووٹ دراصل ایک سیاسی و اخلاقی گواہی ہے۔ اگر اہل اور نیک شخص کو ووٹ دینے کے بجائے فرقہ پرست یا ظالم کو ووٹ دیا جائے یا ووٹ ڈالنے سے گریز کیا جائے تو یہ گواہی میں خیانت شمار ہوگی۔

