ہفتہ، 8 نومبر، 2025


 

ووٹ کی شرعی حیثیت

ووٹ کی شرعی حیثیت، اہمیت اور جمہوری معاشرے میں اس کی قدر و ضرورت

ووٹ ایک معمولی کاغذی پرچی نہیں، بلکہ ایک عہد، امانت اور گواہی ہے۔ آج کے جمہوری نظام میں یہ وہ طاقت ہے جس کے ذریعے قوم اپنی سمت، قیادت اور مستقبل کا تعین کرتی ہے۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے بھی ہر وہ چیز جو اجتماعی بھلائی یا برائی پر اثر انداز ہو، وہ شرعی ذمہ داری کے دائرے میں آتی ہے۔ اسی لیے ووٹ دینا یا نہ دینا دونوں عمل شریعت کے اصولوں کے مطابق قابل غور ہیں۔

 ووٹ کی شرعی حیثیت:

اسلام میں دو بنیادی اصول ہیں جو ووٹ سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں:

1. امانت:

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا"

(النساء: 58)

یعنی: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کرو۔”

ووٹ ایک امانت ہے۔ اسے ایسے شخص یا جماعت کو دینا چاہیے جو اس کی اہلیت رکھتا ہو  جو دیانت دار، اہل، انصاف پسند اور عوام کے حقوق کا محافظ ہو۔

2. گواہی:

قرآن میں ارشاد ہے:

"وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ"

(البقرہ: 283)

یعنی: “گواہی کو مت چھپاؤ، جو اسے چھپاتا ہے، اس کا دل گناہگار ہے۔”

ووٹ دراصل ایک سیاسی و اخلاقی گواہی ہے۔ اگر اہل اور نیک شخص کو ووٹ دینے کے بجائے فرقہ پرست یا ظالم کو ووٹ دیا جائے یا ووٹ ڈالنے سے گریز کیا جائے تو یہ گواہی میں خیانت شمار ہوگی۔

منگل، 28 اکتوبر، 2025

جمہوری نظام میں الیکشن- اسلامی نقطئہ نظر


 

جمہوری نظام میں الیکشن- اسلامی نقطئہ نظر

حکومت ،حکمراں اور طریقہٴ حکمرانی :

آزادی، ا نسان کے لیے ایک قیمتی نعمت اور بیش بہا سرمایہ ہے ،ہرانسان رحمِ مادرسے آزاد پیدا ہوتاہے؛اسی لیے آزادی اس کی شرست میں داخل ہے۔آزادی کا احساس انسان کے اندر خودداری وخود اعتمادی اور اپنے آپ کی تکمیل وتعمیر کے جذبات پیدا کر تا ہے ؛لیکن جب آزادی کا یہ احساس ایک حد سے بڑھ جا تا ہے ،یا اس احساس کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے اورانسان کی آزادی خطرے میں پڑجاتی ہے ؛تو انسان میں بغاوت ،حیوانیت ،خود سری جیسے اوصاف پروان چڑھنے لگتے ہیں اور وہ اپنے دائرہ سے بڑھ کر دوسروں کی آزادی کو پائمال کرنے لگتا ہے ۔پھر جب ایسے انسانوں کی معاشرہ میں کثرت ہوتی ہے ؛تو انتشار ،آپسی ٹکراؤاور انارکی کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور کبھی کُشت وخون کے بھیانک مناظر بھی سامنے آتے ہیں؛ لیکن چوں کہ انسان مدنی الطبع بھی ہے؛ اس لیے ابتدائے آفرینش سے انسان اپنی پیدائشی آزادی کے با وجود ایک نظام کی تابعداری کرکے اور ایک حکم راں کی ما تحتی قبول کر کے زندگی گذارنے کا عادی رہا ہے۔ ایک نظام حکومت سے وابستہ ہوکر وہ دشمنوں سے اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے ۔اور آپس میں بقائے باہم کے اصول پر کاربند ہوکر پرامن زندگی گذارتا ہے، حکم رانی کے الگ الگ طریقے الگ الگ زمانے میں رائج رہے ہیں ۔ کبھی شخصی حکومت رہی، تو کبھی خاندانی حکومت ۔کبھی استبدادی نظام رہا، تو کبھی عوامی نظام۔ تاریخ کے زیادہ تر مراحل میں ایسی حکومتوں کا غلبہ رہا جن کے حکمراں زمامِ اقتدار سنبھالتے ہی خدائی کا دعویداربن بیٹھے اور محکوم عوام کو اپنا غلام بنا کر ان سے اپنی بندگی کروانے لگے ۔