اتوار، 9 نومبر، 2025


اویسی کی "حکومت"...! 

اقراء حسن اور ناقدین کو یہ تاریخ کون سمجھائے؟ 

محترمہ اقراء منور حسن  اور ناقدین نے مجلس پر طنز کیا کہ

"چوبیس نشستیں لڑ کر کیا حکومت بن جائے گی؟"


سوال معصوم ہے، مگر نادانی سے نکلا ہے۔

جو ایم آئی ایم (AIMIM) کا پورا سفر نہیں جانتے، وہ یہی پوچھیں گے ۔

 

حکومت ایم آئی ایم نے نہیں بنائی،

لیکن ایم آئی ایم نے وہ کر دکھایا جو حکومتیں بھی نہیں کر پاتیں ۔

(1) صفر سے اعتماد پیدا کرنا،

(2) خوف میں دبی آواز کو باہر نکالنا،

(3) حق کی اواز کو بلند کرنا ،

(4) عدل و انصاف کے لیے لڑنا ،

(5) دبے کچلے لوگوں کا سہارا بننا ،

(6) شریعت میں مداخلت کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنا،

(7) حقائق اور دلائل کے ساتھ بات کرنا ،

اور ایک بکھرے ہوئے طبقے کو پھر سے سیاست میں سر اٹھانے کا حوصلہ دینا۔

 

۱۹۴۸: وہ سیاہ دور، جب AIMIM کا نام لینا بھی خطرہ تھا

 

آپریشن پولو‘ کے بعد حیدرآباد پر قبضہ ہوا۔

مجلس پر پابندی لگائی گئی، دارالسلام کو سیل کر دیا گیا،

اور تنظیم کو ختم شدہ مان لیا گیا۔

رضاکاروں کے الزامات، پولیس ایکشن کی تباہی، اور گلی گلی خوف کا سایہ

اس ماحول میں کسی تنظیم کا دوبارہ ابھرنا ناممکن سا لگتا تھا۔

اسی دوران مجلس کے آخری صدر پاکستان چلے گئے

اور تنظیم کی ذمے داری عبدالواحد اویسی کے سپرد کر گئے،

یہ پیغام دیتے ہوئے کہ:

"اب اسے سنبھالو، اسے بچاؤ۔"

۱۹۵۷: کھنڈرات سے دوبارہ جنم

عبدالواحد اویسی نے مجلس کا نام بدلا، راہ بدلی، سوچ بدلی،

اور تنظیم کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے نام سے دوبارہ کھڑا کیا۔

ہفتہ، 8 نومبر، 2025


 

ووٹ کی شرعی حیثیت

ووٹ کی شرعی حیثیت، اہمیت اور جمہوری معاشرے میں اس کی قدر و ضرورت

ووٹ ایک معمولی کاغذی پرچی نہیں، بلکہ ایک عہد، امانت اور گواہی ہے۔ آج کے جمہوری نظام میں یہ وہ طاقت ہے جس کے ذریعے قوم اپنی سمت، قیادت اور مستقبل کا تعین کرتی ہے۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے بھی ہر وہ چیز جو اجتماعی بھلائی یا برائی پر اثر انداز ہو، وہ شرعی ذمہ داری کے دائرے میں آتی ہے۔ اسی لیے ووٹ دینا یا نہ دینا دونوں عمل شریعت کے اصولوں کے مطابق قابل غور ہیں۔

 ووٹ کی شرعی حیثیت:

اسلام میں دو بنیادی اصول ہیں جو ووٹ سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں:

1. امانت:

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا"

(النساء: 58)

یعنی: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کرو۔”

ووٹ ایک امانت ہے۔ اسے ایسے شخص یا جماعت کو دینا چاہیے جو اس کی اہلیت رکھتا ہو  جو دیانت دار، اہل، انصاف پسند اور عوام کے حقوق کا محافظ ہو۔

2. گواہی:

قرآن میں ارشاد ہے:

"وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ"

(البقرہ: 283)

یعنی: “گواہی کو مت چھپاؤ، جو اسے چھپاتا ہے، اس کا دل گناہگار ہے۔”

ووٹ دراصل ایک سیاسی و اخلاقی گواہی ہے۔ اگر اہل اور نیک شخص کو ووٹ دینے کے بجائے فرقہ پرست یا ظالم کو ووٹ دیا جائے یا ووٹ ڈالنے سے گریز کیا جائے تو یہ گواہی میں خیانت شمار ہوگی۔