اویسی کی "حکومت"...!
اقراء حسن اور ناقدین کو یہ تاریخ کون سمجھائے؟
محترمہ اقراء منور حسن اور ناقدین نے مجلس پر طنز کیا کہ
"چوبیس نشستیں لڑ کر کیا حکومت بن جائے گی؟"
سوال معصوم ہے، مگر نادانی سے نکلا ہے۔
جو ایم آئی ایم (AIMIM) کا پورا سفر نہیں جانتے، وہ یہی پوچھیں گے ۔
حکومت ایم آئی ایم نے نہیں بنائی،
لیکن ایم آئی ایم نے وہ کر دکھایا جو حکومتیں بھی نہیں
کر پاتیں ۔
(1) صفر سے اعتماد پیدا کرنا،
(2) خوف میں دبی آواز کو باہر نکالنا،
(3) حق کی اواز کو بلند کرنا ،
(4) عدل و انصاف کے لیے لڑنا ،
(5) دبے کچلے لوگوں کا سہارا بننا ،
(6) شریعت میں مداخلت کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنا،
(7) حقائق اور دلائل کے ساتھ بات کرنا ،
اور ایک بکھرے ہوئے طبقے کو پھر سے سیاست میں سر اٹھانے
کا حوصلہ دینا۔
۱۹۴۸: وہ سیاہ
دور، جب AIMIM کا نام لینا بھی
خطرہ تھا
’آپریشن پولو‘ کے بعد حیدرآباد پر قبضہ ہوا۔
مجلس پر پابندی لگائی گئی، دارالسلام کو سیل کر دیا گیا،
اور تنظیم کو ختم شدہ مان لیا گیا۔
رضاکاروں کے الزامات، پولیس ایکشن کی تباہی، اور گلی گلی
خوف کا سایہ —
اس ماحول میں کسی تنظیم کا دوبارہ ابھرنا ناممکن سا لگتا تھا۔
اسی دوران مجلس کے آخری صدر پاکستان چلے گئے
اور تنظیم کی ذمے داری عبدالواحد اویسی کے سپرد کر گئے،
یہ پیغام دیتے ہوئے کہ:
"اب اسے سنبھالو، اسے بچاؤ۔"
۱۹۵۷: کھنڈرات سے
دوبارہ جنم
عبدالواحد اویسی نے مجلس کا نام بدلا، راہ بدلی، سوچ
بدلی،
اور تنظیم کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین
(AIMIM) کے نام سے دوبارہ کھڑا کیا۔

