عظمت نعت مصطفیؐ کتاب و سنت کی
روشنی میں
اس مبارک ہستی کی نعت کا ذکر ہے جن کی تعریف و توصیف ہر
زمانے میں ہوتی رہی اور ہورہی ہے اور ہوتی رہے گی ۔ رب تبارک و تعالیٰ نے ان کا
نام ہی محمد(ﷺ) رکھ دیا ، جس کے معنی ہیں ’’ جس کی بار بار تعریف کی جائے ‘‘ ۔
لفظی و معنوی اعتبار سے کسی مخلوق کا ایسا پیارا نام نہیں ۔ حضرت حسان بن ثابت رضی
اللہ عنہ کے ایک شعر کا مفہوم ہے کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اکرام کے لئے آپ کا
نام اپنے نام سے مشتق کیا ، عرش والا محمود ہے اور یہ محمد(ﷺ) ہیں ۔
نعت و ادب شعری کی ایک مستقل صنف ہے ۔ نعت مدح و وصف کے
مرادف ہے ، لیکن نعت اور وصف میں ایک نازک فرق ہے ۔ نعت کا اطلاق ان ہی اوصاف کے
بیان پر ہوتا ہے جو قابل مدح ہو اور وصف کا اطلاق حسن کے علاوہ قج پر بھی ہوسکتا
ہے ۔ اسی لئے اصطلاح میں حضور سرورکائناتﷺ کی مدح سے متعلق صنف شعری کا نام ’’ نعت
‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے ۔قدیم ادب میں لفظ ’’ نعت ‘‘ کا استعمال حلفیہ و سراپا و
حسن صورت کے لئے محضوص تھا ، خواہ وہ نثر میں ہو یا نظم میں اور لفظ ’’صفت ‘‘ کا اطلاع
عام اوصاف پر ہوا کرتا تھا ، چنانچہ یہود کے معتبر عالم سلام بن مشکم سے مروی ہے
کہ ’’آنحضرتﷺ کی بعثت سے پہلے مدینہ کے یہود بنو قریظہ و بنو نضیر جب مشرکین عرب
اسد و عظفان و جہینہ وغیرہ قبائل سے جنگ کرتے تھے تو یہ یہودی حضورﷺ کے وسیلہ سے
یہ دعاء کرتے تھے کہ ’’ اے اللہ ! اس نبی کے واسطے سے ہماری مدد فرما جو آخر زمانہ
میں مبعوث ہوں گے ، جن کی نعت اور صفت ہم توریت میں پاتے ہیں تو (ان کی برکت سے)
یہودی فتح یاب ہوتے تھے ‘‘ ۔
یہود و نصاریٰ آپ کی بعثت سے پہلے ہی آپ کے اوصاف سے اچھی
طرح واقف تھے ، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ’’ وہ نبی جن کے اوصاف یہ لوگ توریت و
انجیل میں لکھے ہوئے پاتے ہیں ‘‘ ۔ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسی سراپا
وحلیہ کے معنی میں کلمہ نعت سے مشتق اسم فاعل ’’ناعت ‘‘ کا لفظ اس روایت میں
استعمال فرمایا ہے کہ ’’ آپﷺ کا وصف بیان کرنے والا یہ کہہ پڑتا ہے کہ میں نے آپ سے
پہلے اور نہ آپ کے بعد آپ کے مثل کسی کو نہیں دیکھا ‘‘ ۔
جمعہ، 31 دسمبر، 2021
عظمت نعت مصطفیؐ کتاب و سنت کی روشنی میں
جمعرات، 30 دسمبر، 2021
خدمت خلق
خدمت خلق
کسی قوم کے زندہ قوم کہلانے کی سب سے بڑی دلیل سمجھی جاتی ہے کہ اس کے افراد کے دل انسان دوستی کے بلند ترین جذبات سے معمور ہو اس کے یہی جذبات اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے بھی ایک دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں کہ وہ قوم دنیا کی قیادت کا حق رکھتی ہے یا نہیں درحقیقت افراد اور قوموں کے درمیان برتری اور فضیلت بھی انہیں آثار کے مطابق ہوتا ہے جو وہ اس میدان میں چھوڑتی ہیں اسلام قدرت رکھنے والے ہر شخص کو خیر کی دعوت دیتا ہے اور یہ دعوت اس طرح کی ہے کہ ایک مالدار، غریب، مزدور، تاجر، زمیندار، شاگرد، استاد، عورت، مرد، بوڑھا، اندھا، کمزور بھی نیکی کا کام کر سکتا ہے اور اس کے مالی حالات معاشرے میں نیکی اور بھلائی کے کام کرنے میں اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں بنتے اسلام میں کوئی ایسا انسان نہیں پایا جاتا جو کسی نہ کسی طریقے سے بھلائی کا کام نہ کر سکتا ہو ہر انسان اپنی حیثیت کے مطابق خیر و فلاح کے کام کرسکتا ہے مالدار اپنے مال اور اپنے مرتبے کے ذریعہ خیر کا کام کریگا غریب ہے تو اسے چاہیے کہ وہ یہ کام اپنے ہاتھ اور اپنے دل اپنی زبان سے کرے۔