ہفتہ، 27 اگست، 2022

کبھی خوشی’ کبھی غم

کبھی خوشی’ کبھی غم

 

کبھی خوشی کبھی غم کے پیام آتے ہیں
کسی کے عشق میں کیا کیا مقام آتے ہیں
ہمارے پینے کا انداز بھی نرالا ہے
ہمارے واسطے آنکھوں سے جام آتے ہیں
جسے بھلائے ہوئے ایک عمر بیت گئی
اسی کے آج بھی مجھ کو سلام آتے ہیں
کسی کی یاد کے لمحے ہمارے دل کی طرف
عبادتوں کے لئے صبح و شام آتے ہیں
اندھیرا چھایا تو سائے نے ساتھ چھوڑ دیا
سنا ہے وقت پہ اپنے ہی کام آتے ہیں
جو رنگ ابھرتے ہیں الفت کی داستاں میں نظرؔ
فقط انہیں کے مثالوں میں نام آتے ہیں۔
انسانی سوچ کی وسعت اور بلند پروازی’ تخیل کی کوئی حد نہیں ہے۔ بے شک انسان ایک حد کے اندر تقریباً ہر کام کر سکتا ہے لیکن وہ اس دنیا میں کچھ بھی کرلے دو چیزیں ایسی ہیں جن سے وہ اس دنیا میں چھٹکارا پانہیں سکتا اور وہ ہے خوشی اور غم۔ اگر آپ بھی غور کریں تو آپ کو بھی محسوس ہوگا کہ آپ جتنے مرضی اچھے حالات میں ہوں، جتنی بھی کامیاب زندگی گزار رہے ہوں لیکن کسی نہ کسی چیز کا غم آپ پر ہر وقت حاوی رہتا ہے۔ خوشی اور غم انسانی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں، انسان اگر یہ چاہے کہ اس کی زندگی میں ہمیشہ خوشی رہے اور غم کا کوئی واسطہ نہ رہے تو ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ خوشی کیساتھ غم کا ہونا بھی انسان کی زندگی کیلئے ناگزیر ہوتا ہے۔ قدرت کے کھیل بھی نرالے ہیں، اگر خوشبو دینے کیلئے پھول اُگائے ہیں تو چبھنے کیلئے کانٹے بھی پروان چڑھائے ہیں۔ اگر ہم چاہیں کہ باغ میں پھول ہی پھول ہوں اور کانٹوں کا وجود ہی نہ ہو تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ دراصل دکھ سکھ کے پیمانے ہر آدمی کے اپنے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی اپنے ڈھنگ سے جیتا ہے، اپنے ڈھنگ سے خوشی حاصل کرتا ہے اور اپنے دکھوں سے دوچار ہوتا ہے۔ آپ لاکھ جتن کریں، کڑھتے رہیں، اپنے احساسات دوسروں پر لاد نہیں سکتے۔ ”انسانی زندگی کے سمندر کا جوش اور ولولہ حالات کی موجوں کے اُتار چڑھاؤ سے وجود میں آتا ہے۔ کبھی بہار ہے تو کبھی خزاںِ، کبھی وصل ہے تو کبھی جدائی، کبھی صحت ہے تو کبھی بیماری حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے، اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
سکوت محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

منگل، 23 اگست، 2022

جو بدل جائے وہ یار کیسا

جو بدل جائے وہ یار کیسا

کچھ لوگ جیون میں اتنا دکھ دیکھ لیتے ہیں کہ
انہیں دکھ ہونا ہی بند ہو جاتا ہے
زندگی ایک ایسے شخص سے ضرور ملواتی ہے جو ہماری اچھی خاصی زندگی کا ستیا ناس کر دیتا ہے
چبھتا تو مجھے بھی بہت کچھ تیر کی طرح پھر بھی میں خاموش ہوں اپنی تقدیر کی طرح
جو بدل جائے وہ یار کیسا
جو چھوڑ جائےوہ ساتھ کیسا
لوگ کہتے ہیں مجھے پھر سے پیار ہو جائے گا
لیکن جو پھرسے ہو جائے وہ پیار کیسا
اس انسان کو کوئی نہیں بدل سکتا جس انسان کو خود کی ہی غلطی نظر نہ آتی ہو
دنیا میں سمے بتانے والے تو بہت ہیں لیکن سمے پر کام آنے والے بہت کم ہے
اکثر وہی لوگ ہمارے جذبات کا مذاق بناتے ہیں جنہیں ہم سب سے زیادہ اپنا مان کےبیٹھ جاتے ہیں
اگرنئے رشتے نہ بنے تو ملال مت کرنا لیکن پرانے ٹوٹ نہ جائے بس اتنا خیال رکھنا
دنیا کی سب سے سستی چیز مشورہ ہے
ایک مانگوتو لوگ ہزار دیتے ہیں
اورسب سے مہنگی چیز مدد ہے ہزاروں سے مانگو تو کوئی ایک کرتا ہے
سامان باندھ لیا ہے میں نے اب بتاؤ کہاں رہتے ہیں وہ لوگ جو کہیں کے نہیں رہتے ہزاروں سے بات نہیں کرنی مجھے
مجھے تو ہزار بات صرف تجھ سے ہی کرنی ہے
اگر ہم چاہتے تو انہیں کب کا منا لیتے لیکن وہ روٹھی نہیں ہے بدل گئے ہیں اگر زندگی میں کچھ برا ہو رہا ہوتوتھوڑا صبر رکھناکیونکہ روکرپھر سے ہنسنے کا مزہ کچھ اور ہوتا ہے
اگر دنیا میں سب ساتھ چھوڑ دے تو گھبرانا نہیں یار
کیوں کہ اس دنیا میں جسکا کوئی نہیں ہوتا اس کا اوپر والاضرور ہوتاہے