منگل، 27 دسمبر، 2022

خدا کا سوال؛ بتا کیا کیا تو نے میرے لیے

خدا کا سوال؛ بتا کیا کیا تو نے میرے لیے

فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ
اس آیہ کے تناظر میں کہی گئی ایک نظم

جانور پیدا ہوئے تیری وفا کے واسطے
کھیتیاں سرسبز ہیں تیری غذا کے واسطے
چاند سورج اور ستارے ہیں ضیا کے واسطے
سب جہاں تیرے لیے پر تو خدا کے واسطے

کونسی نعمت نہیں ہے ہمارے پاس؟

زندگی، شعور، انسانیت، معاشرت، تہذیب، صحت، تعلیم، والدین، گھر، روٹی، کپڑا، مکان غرض زندگی کی ہرنعمت سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے۔آسمانوں اورزمین کو ہمارے لیے اللہ تعالیٰ نے تسخیر کردیا ہے۔کائناتوں کا علم ہمارے سامنے یوں پھیلادیاگویاہم ہی اس ساری کائنات کے اکیلے وارث ہیں۔

زمامِ لمحہء موجود بس میں رہتی ہے
یہ کائنات میری دسترس میں رہتی ہے

میرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئی
کہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی
حقیقت ہوئی جیسے مجھ پر عیاں
قلم بن گیا ہے خدا کی زباں

بدھ، 30 نومبر، 2022

جلسے جلوس فوائد سےعاری وقتی جوش کےسوا کچھ نہیں۔

جلسے جلوس فوائد سےعاری وقتی جوش کےسوا کچھ نہیں

(1) چند گھنٹوں کیلئےقوم کا کثیر اموال صرف
(2) آمدورفت میں پیسے اور وقت کا ضیاع
(3) پردہ نشیں ماں بہنوں کو دین کے نام پر گھر سے باہر
(4) اوباش ناخواندہ شرپسند عناصر کوشرارت کا موقع
(5) اثمھما اکبر من نفعھما کے مترادف۔

بالتحقیق ثبوت وشواہد کی روشنی میں میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مروجہ کانفرنسیں اور جلسے انگریزوں کی دین ہیں ؛ ورنہ انگریزوں کے ہندوستان آنے سے پہلے مروجہ جلسوں اور کا نفرنسوں کا کوئی تصور نہیں تھا، مساجد اور خانقاہوں میں علماء کرام وعظ فرماتے تھے، اس سادہ وعظ کا اثر مسلمانوں کے قلب و دماغ اور اعمال وافعال پر ہفتوں رہتا تھا ۔
لیکن انگریز ھندوستان آئے تو اور چیزوں کے ساتھ وعظ و تقریر میں بھی دکھاوا اور نمائش آگئی ۔ پھر وعظ مساجد اور خانقاہوں سے نکل کر تقریری محفل پھرجلسہ واجلاس اور اس کے بعد کانفرنس کی صورت اختیار کر گیا ۔نام کانفرنس رہے یا جلسہ و اجلاس صورت سب کی ایک ہی رہتی ہے ۔
اخلاص کی تمام تر نور بیزیوں کو بڑے بڑے پوسٹر، اشتھارات اور القابات لے کر ڈوب جاتے ہیں ۔
مقررین کی دستیابی کے لئے وفد در وفد ملک بھر کے اسفار کئے جاتے ہیں، تین ماہ پہلے ہی ڈیٹ بک کرائے جاتے ہیں، تاریخیں لینے کے بعد اخراجات کا بل کنوینر صاحب ادا کرتے ہیں، اور کئی ماہ پہلے سے چندے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے ۔بالآخر وہ وقت بھی آتا ہے،مہمانوں کا ورود ہوتا ہے، متعینہ وقفے میں تقریریں ہوتی ہیں اور پھر طے شدہ رقومات حاصل کر کے سارے مقررین گھریا کسی دوسری کانفرنس کا راستہ لیتے ہیں ،خاطر تواضع اچھی ہوئی تو ٹھیک ہے نہیں تو زندگی بھر کے لئے صلواتیں سنئیے ۔ اور تب منظر یہ ہوتا ہے کہ شامیانے اکھڑ جاتے ہیں ۔منتظمین و رضاکاران
مہینوں اور ہفتوں کے تھکے ماندے کئی دنوں کے لئے بستر پکڑ لیتے ہیں، کیوں کہ ان کے ذہن میں رہتا ہے کہ اس صدی کا دین کا سب سے بڑا کام انہوں نے کیا ہے ۔
پورا علاقہ سدھر گیا ہوگا؛ لیکن جب باہر نکلے تو لوگوں کی چہ می گوئیاں : فلان صاحب فلاں
پر کیچڑ اچھال رہے ہیں فلاں شخص فلاں پر، فلاں کی تقریر اچھی رہی فلاں کی نہیں ۔عمل کیا کریں گے؟ اور علماء کو ہی سدھارنے میں لگ جاتے ہیں ۔
اس کے بعد جلسہ کے اخراجات کا حساب دیا تو ٹھیک ہے ورنہ منتظمین جلسہ کی خیر نہیں، بیچاره تہمت و اتھام میں پورے طور سے گھر جاتا ہے ۔