عظمت نعت مصطفیؐ کتاب و سنت کی
روشنی میں
اس مبارک ہستی کی نعت کا ذکر ہے جن کی تعریف و توصیف ہر
زمانے میں ہوتی رہی اور ہورہی ہے اور ہوتی رہے گی ۔ رب تبارک و تعالیٰ نے ان کا
نام ہی محمد(ﷺ) رکھ دیا ، جس کے معنی ہیں ’’ جس کی بار بار تعریف کی جائے ‘‘ ۔
لفظی و معنوی اعتبار سے کسی مخلوق کا ایسا پیارا نام نہیں ۔ حضرت حسان بن ثابت رضی
اللہ عنہ کے ایک شعر کا مفہوم ہے کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اکرام کے لئے آپ کا
نام اپنے نام سے مشتق کیا ، عرش والا محمود ہے اور یہ محمد(ﷺ) ہیں ۔
نعت و ادب شعری کی ایک مستقل صنف ہے ۔ نعت مدح و وصف کے
مرادف ہے ، لیکن نعت اور وصف میں ایک نازک فرق ہے ۔ نعت کا اطلاق ان ہی اوصاف کے
بیان پر ہوتا ہے جو قابل مدح ہو اور وصف کا اطلاق حسن کے علاوہ قج پر بھی ہوسکتا
ہے ۔ اسی لئے اصطلاح میں حضور سرورکائناتﷺ کی مدح سے متعلق صنف شعری کا نام ’’ نعت
‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے ۔قدیم ادب میں لفظ ’’ نعت ‘‘ کا استعمال حلفیہ و سراپا و
حسن صورت کے لئے محضوص تھا ، خواہ وہ نثر میں ہو یا نظم میں اور لفظ ’’صفت ‘‘ کا اطلاع
عام اوصاف پر ہوا کرتا تھا ، چنانچہ یہود کے معتبر عالم سلام بن مشکم سے مروی ہے
کہ ’’آنحضرتﷺ کی بعثت سے پہلے مدینہ کے یہود بنو قریظہ و بنو نضیر جب مشرکین عرب
اسد و عظفان و جہینہ وغیرہ قبائل سے جنگ کرتے تھے تو یہ یہودی حضورﷺ کے وسیلہ سے
یہ دعاء کرتے تھے کہ ’’ اے اللہ ! اس نبی کے واسطے سے ہماری مدد فرما جو آخر زمانہ
میں مبعوث ہوں گے ، جن کی نعت اور صفت ہم توریت میں پاتے ہیں تو (ان کی برکت سے)
یہودی فتح یاب ہوتے تھے ‘‘ ۔
یہود و نصاریٰ آپ کی بعثت سے پہلے ہی آپ کے اوصاف سے اچھی
طرح واقف تھے ، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ’’ وہ نبی جن کے اوصاف یہ لوگ توریت و
انجیل میں لکھے ہوئے پاتے ہیں ‘‘ ۔ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسی سراپا
وحلیہ کے معنی میں کلمہ نعت سے مشتق اسم فاعل ’’ناعت ‘‘ کا لفظ اس روایت میں
استعمال فرمایا ہے کہ ’’ آپﷺ کا وصف بیان کرنے والا یہ کہہ پڑتا ہے کہ میں نے آپ سے
پہلے اور نہ آپ کے بعد آپ کے مثل کسی کو نہیں دیکھا ‘‘ ۔
صفحہ اول
سوشل میڈیا
جمعہ، 31 دسمبر، 2021
عظمت نعت مصطفیؐ کتاب و سنت کی روشنی میں
جمعرات، 30 دسمبر، 2021
خدمت خلق
خدمت خلق
کسی قوم کے زندہ قوم کہلانے کی سب سے بڑی دلیل سمجھی جاتی ہے کہ اس کے افراد کے دل انسان دوستی کے بلند ترین جذبات سے معمور ہو اس کے یہی جذبات اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے بھی ایک دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں کہ وہ قوم دنیا کی قیادت کا حق رکھتی ہے یا نہیں درحقیقت افراد اور قوموں کے درمیان برتری اور فضیلت بھی انہیں آثار کے مطابق ہوتا ہے جو وہ اس میدان میں چھوڑتی ہیں اسلام قدرت رکھنے والے ہر شخص کو خیر کی دعوت دیتا ہے اور یہ دعوت اس طرح کی ہے کہ ایک مالدار، غریب، مزدور، تاجر، زمیندار، شاگرد، استاد، عورت، مرد، بوڑھا، اندھا، کمزور بھی نیکی کا کام کر سکتا ہے اور اس کے مالی حالات معاشرے میں نیکی اور بھلائی کے کام کرنے میں اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں بنتے اسلام میں کوئی ایسا انسان نہیں پایا جاتا جو کسی نہ کسی طریقے سے بھلائی کا کام نہ کر سکتا ہو ہر انسان اپنی حیثیت کے مطابق خیر و فلاح کے کام کرسکتا ہے مالدار اپنے مال اور اپنے مرتبے کے ذریعہ خیر کا کام کریگا غریب ہے تو اسے چاہیے کہ وہ یہ کام اپنے ہاتھ اور اپنے دل اپنی زبان سے کرے۔
بدھ، 29 دسمبر، 2021
آگے کی تیاری کیجیے
آگے کی تیاری کیجیے
جب موت آئے گی تو یقین جانیں کہ
کچھ بھی کام نہ آئے گا،
آپ کے دنیا سے جانے پر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،
اور اس دنیا کے سب کام کاج جاری رہیں گے،
آپ کی ذمہ داریاں کوئی اور لے لے گا،
آپ کا مال وارثوں کی طرف چلا جائے گا،
اور آپ کو اس مال کا حساب دینا ہوگا،
موت کے وقت سب سے پہلی چیز جو آپ سے چلی جائے گی وہ نام
ہوگا،
لوگ کہیں گے کہ Dead body کہاں ہے؟
جب وہ جنازہ پڑھنا چاہیں گے تو کہیں گے کہ جنازہ لائیں،
جب دفن کرنا شروع کریں گے تو کہیں گے کہ میت کو قریب کر
دیں،
آپ کا نام ہرگز نہ لیا جائے گا،
مال، حسب و نسب، منصب اور اولاد کے دھوکے میں نہ آئیں۔
یہ دنیا کس قدر زیادہ حقیر ہے اور جس کی طرف ہم جا رہے ہیں
وہ کس قدر عظیم ہے،
آپ پر غم کرنے والوں کی تین اقسام ہوں گی:
(1) جو لوگ آپ کو سرسری طور پر جانتے ہیں وہ کہیں گے ہائے
مسکین! اللہ اس پر رحم کرے۔
(2)آپ کے دوست چند گھڑیاں یا چند دن غم کریں گے پھر وہ اپنی
باتوں اور ہنسی مذاق کی طرف لوٹ جائیں گے۔
(3)آپ کے گھر کے افراد کا غم گہرا ہوگا، وہ کچھ ہفتے، کچھ
مہینے یا ایک سال تک غم کریں گے اور اس کے بعد وہ آپ کو یاداشتوں کی ٹوکری میں ڈال
دیں گے،
لوگوں کے درمیان آپ کی کہانی کا اختتام ہو جائے گا اور آپ
کی حقیقی کہانی شروع ہو جائے گی اور وہ آخرت ہے۔
منگل، 28 دسمبر، 2021
سمجهدار بننے كا آسان نسخہ
سمجهدار بننے كا آسان نسخہ
انسانوں كى انفرادى اور اجتماعى زندگى كے سارے مسائل نا
سمجهى سے پيدا ہوتے ہيں، بچوں كى نا لائقى، طلبہ كى آواره گردى، شوہروں اور بيويوں
كى كشمكش، دوستوں اور رشتہ داروں كى نفرتيں، ملازموں اور آقاؤں كى رسہ كشى، غربت
(اختيارى)، بيمارى
(اختيارى)، موٹاپا، يہ سب نتيجہ ہيں ناسمجهى كے، اور سب سے بڑى خرابى يعنى
آخرت سے غفلت يا اس كا انكار بهى اسى ناسمجهى كى پيداوار ہے ۔
وجہ یہ ہے كہ الله تعالى نے انسانوں كو جو صلاحيتيں دى ہيں
ان كا مقصد ہے كہ انہيں استعمال كيا جائے، صلاحيتوں سے استفاده انسان كو
كامياب كرتا ہے، اور ان كا اہمال خسران كا باعث ہوتا ہے، ان صلاحيتوں ميں سب
سے زياده قابل احترام عقل ہے، عقل سے كئے جانے والا ہر قول وعمل قيمتى ہوتا ہے،
اور ہر وه قول وعمل جو عقل سے خالى ہو وه بے قيمت ہوتا ہے ۔
جس طرح ہاتھ پاؤں اور ديگر جوارح كو كام ميں لانے كى
تربيت حاصل كى جاتى ہے، اسى طرح دانشمندى كى تربيت حاصل كرنى ہوتى ہے، ليكن
لوگ اس تربيت كى سعى نہيں كرتے اور جو كرتے ہيں وه بهى سستى كى وجہ سے
فكر ونظر سے جى چراتے ہيں ۔
سوچنے كى تربيت ايك صبر آزما عمل ہے، افسوس اس بات كا ہے كہ
اكثر تعليمى مراكز بهى اس پر توجہ نہيں كرتے، نتيجہ ہے كہ پڑهے لكهے لوگ بهى
بيوقوف ہوتے ہيں اور ان كى بيوقوفى زياده تباه كن ہوتى ہے، مختلف وجوه سے اس كى
اميد تهى كہ علماء كا حال كچھ بہتر ہو، ليكن ايسا نہيں ہے، اور فكر ونظر كے
اہمال كے جو بد ترين عواقب ہيں وه ان ميں بهى نماياں ہيں ۔
پیر، 27 دسمبر، 2021
پیاس لگی تھی غضب کی
پیاس لگی تھی غضب کی
پیاس لگی تھی غضب کی
مگر پانی میں زہر تھا
پیتے تو مر جاتے اور نہ پیتے تو بھی مر جاتے
بس یہی دو مسئلے، زندگی بھر نہ حل ہوئے
نہ نیند پوری ہوئی، نہ خواب مکمل ہوئے
وقت نے کہا کاش
تھوڑا سا صبر ہوتا
صبر نے کہا کاش تھوڑا سا وقت ہوتا
صبح صبح اٹھنا پڑتا ہے کمانے کے لئے صاحب
آرام کمانے نکلتا ہوں آرام چھوڑ کر
"ہنر" سڑکوں پر تماشا کرتا ہے اور "قسمت"
محلات میں راج کرتی ہے
"شكايتیں تو بہت ہیں تجھ سے اے زندگی!
پر خاموش اس لئے ہوں کہ جو دیا تو نے
وہ بھی بہت سوں کو نصیب نہیں ہوتا
اتوار، 26 دسمبر، 2021
کامیابی کیا ہے؟
کامیابی کیا ہے؟
ہفتہ، 25 دسمبر، 2021
سوچنا چھوڑ یئے کام شروع کیجئے
سوچنا چھوڑ یئے کام
شروع کیجئے
انڈے کو باہر سے توڑا جائے تو اندر پرورش پانے والی
زندگی ختم ہو جاتی ہے جب کہ وہ انڈا اگر اندر سے ٹوٹے تو نئی زندگی جنم لیتی ہے
سوچیے تو کہ ان چند لفظوں میں زندگی کا کس قدر گہرا فلسفہ چھپا ہے یہ بتا رہا ہے
کہ ہر بہترین چیز چھپی ہوئی ہوتی ہے اور وقت آنے پر ظاہر ہوتی ہے یعنی کسی گہرائی
اور اندھیرے میں یا نہ نظر آنے والی جگہ موجود ہوتی ہے اب وہ چاہے ہمت کی صورت ہو
کسی بڑے فیصلے کی شکل میں موجود ہوں یا ہمارے ذہن میں پرورش پاتا کوئی خوبصورت
آئیڈیا ہو۔
یہ سب ہمارے اندر چند انچ کے پیالہ نما سر میں موجود ہے
جس کی قدر اور استعمال کا طریقہ ہم تمام عمر نہیں سیکھ پاتے جنہوں نے اسے استعمال
کرنے کا فن سیکھ لیا انہوں نے دنیا تسخیر کر لی اور جو خود ہی کو نہ جان پائے وہ
بے نام ہی دنیا سے رخصت ہو گئے خود کو پہچان لینا کیسے ممکن ہے سوچ کو عملی جامہ
پہنانے کا حوصلہ کیسے پیدا کیا جائے ڈر کو شکست دے کر جیت کی دنیا میں کیسے داخل
ہوا جائے یہ وہ سوالات ہیں جو زندگی کی مشکلات میں گرے کچھ گھرے یا کچھ گزرنے کی
لگن رکھنے والے ہر دماغ میں گونجتے ہیں جن کا جواب پانے کے لیے سوچ سر کے اندر ہی
ٹکرا ٹکرا کر شام ڈھلے تک ختم ہو جاتی ہے دراصل یہی وہ سوچ ہے جو ہمارے ذہن کے
اندر دروازے پر دستک دے کر مسلسل اسے کھولنے کی کوشش کرتی ہے مگر ہم ہیں کہ خوفزدہ
ہے ناکامی کے خوف میں مبتلا ہو جانے کا ڈر دل میں دبائے اور طعنوں کے خنجر سے زخمی
ہونے کا وہم لیے زندگی کے قیمتی لمحات ضائع کیے جا رہے ہیں اس کو اندر سے بھگانا
کیسے ممکن ہے اور خوف کو مات دے کر کے کامیابی کی دنیا میں پرواز کرنا کیسے ممکن
ہے اس بارے میں امریکا کی مشہور ٹیلی ویژن میز با لکھاری اور موٹیویشنل اسپیکر
میلانی رابنز نے "the 5 second rules"اور
stop saying you are fine" جیسی کتابیں لکھی ہیں
اپنے خوف سے ڈرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے بارے میں کی جانے والی ملانے کی تقریر
کاترجمہ قارئین کی نذر ہے مشکلات میں گھرے اپنے بستر پر بیٹھے اگر آپ سوچ رہے ہیں
کہ ایک دن کوئی ایسی جادوئی قوت میرے کمرے میں داخل ہوگئی جو مجھے بستر سے اٹھا کر
کامیابی کی سیڑھیاں چڑھا دے گی تو اسے زیادہ مضحکہ خیز خیال ہو ہی نہیں سکتا اپنے
ارادوں کو پورا کرنے کے لئے کوئی مدد کو آئے گا نہ آپ کو عمل کرنے کے لئے کسی سے
اجازت لینےکی ضرورت ہےاگر آپ کو محسوس ہو رہا ہے کہ آپ جو کچھ کرنے والے ہیں
اس سے آپ کو خوشی ملے گی اور زندگی میں بہتری آئے گی تو عمل کیجئے انتظار کرنے کی
ضرورت نہیں ہے اپنا سارا خود بنے اپنی سوچ پر یقین رکھے بس اتنا جان لیں کہ آپ جو کرنے
والے ہیں اس میں کامیابی ملے گی یا مزید آگے بڑھنے کے لئے تجربہ حاصل ہوگا۔
جمعہ، 24 دسمبر، 2021
دنیا کے کامیاب ترین افراد کی کہانی
دنیا کے کامیاب ترین افراد کی
کہانی
تعلیم یافتہ لوگ کہتے ہیں کہ، ’ناکامی درحقیقت کامیابی کی طرف پہلا قدم ہوتی ہے‘۔ کیا آپ
میں سے کسی نے اس مقولہ کو کبھی اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ جو
لوگ کامیابی کی اس سیڑھی (ناکامی) کی اہمیت کو سمجھ لیتے ہیں، کامیابی انہی کا مقدر
بنتی ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہیں جان پاتے، کامیابی ان کے لیے کبھی نہ حاصل ہونے
والی منزل بن کر رہ جاتی ہے۔پیٹر اَیتھنز ایک معروف کوہ پیما ہیں، جن کا تعلق
امریکا سے ہے۔ انھیں دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ کو 7مرتبہ سر کرنے کا
اعزاز حاصل ہے۔ وہ کہتے ہیں،’’میں نے ماؤنٹ ایوریسٹ کی کوہ پیمائی کی ابتدائی چار
کوششوں کے دوران سیکھا کہ پہاڑ پر کیسے نہیں چڑھنا چاہیے۔ ناکامی آپ کو اپنی
جدوجہد بہتر کرنے کا موقع دیتی ہے۔ آپ بتدریج نکھرتی ہوئی ذہانت کے ساتھ خطرات
مول لیتے جاتے ہیں‘‘۔ پیٹر اَیتھنز نے اس بات کی روشنی میں اپنی ٹیم کو مزید سبک
رفتار بنایا اور1990ء میں ایسے
کم آزمائشی راستے کا انتخاب کیا، جس کے نتیجے میں اس نے پہلی کامیاب چڑھائی
کی۔بین الاقوامی شہرت یافتہ انگریزی کتاب You Can Win(1998)کے مصنف ’شِو کھیرا‘
کا مشہور قول ہے، ’کامیاب لوگ مختلف کام نہیں کرتے بلکہ وہ کام کو مختلف طریقے سے
کرتے ہیں‘۔ آج دنیا جن لوگوں کو ان کی کامیابیوں کی وجہ سے جانتی ہے، ان افراد کو
ابتدا میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہ بھی تاریخ میں رقم ہیں۔ آئیے جانتے
ہیں ایسی نامور شخصیات کو جو ناکامیوں سے دلبرداشتہ ہونے کے بجائے آگے بڑھتے رہے
اور آج دنیا ان کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کی معترف ہے۔
جمعرات، 23 دسمبر، 2021
مشکل وقت میں حوصلہ برقرار رکھیں
مشکل
وقت میں حوصلہ برقرار رکھیں
انسان کو زندگی میں کبھی ایسے وقت کا سامنا بھی کرنا
پڑسکتا ہے جب ہر خواب ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور امید کی کرن نظر نہیں آتی ۔
ایسے میں منفی سوچیں اسے چاروں اطراف سے گھیرے میں لے لیتی ہیں۔ اکثر افراد ایسی
صورتحال میں دل برداشتہ ہوکر خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں جبکہ
حوصلہ مند لوگ مشکل وقت گزار جاتے ہیں۔ اگرچہ آپ ہمیشہ حالات کو قابو میں نہیں
رکھ سکتے لیکن اپنے رد عمل کے ذریعے نتائج کا رخ مثبت سمت کی جانب ضرور موڑ سکتے
ہیں۔
معروف امریکی موٹیویشنل اسپیکر جان میکس ویل کا کہنا ہے ،
’’آپ چیلنجز کو چھوٹا کرکے نہیں بلکہ خود کو بڑا بنا کر کامیاب ہوتے ہیں‘‘۔
اگر آپ کسی بھی موڑ پر برے وقت کو اچھے وقت میں تبدیل
کرنے کے خواہشمند ہیں تو ایسے میں آپ کو ضرورت ہے’’سیلف موٹیویشن‘‘ کی کیونکہ یہی
وہ واحد راستہ ہے جو مشکل وقت کو گزارنے میں آپ کی مدد اور کامیابی سے ہمکنار
کرسکتا ہے۔دنیا کے ہر کامیاب شخص کے پیچھے کسی کی حوصلہ افزائی اور کچھ کر دکھانے
کی ترغیب ہوتی ہے، جو ناممکن کو بھی ممکن بنادیتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایک
ایسے وقت میں جب ہر چیز مخالف جاتی ہوئی محسوس ہو تو پھر کیسے حوصلہ برقرار رکھا
جائے؟ اس حوالے سے ماہرین ذیل میں درج چند مفید مشورے دیتے ہیں ۔
مشکل وقت میں کیسے حوصلہ برقرار رکھا جائے؟
بدھ، 22 دسمبر، 2021
چاہے کتنا بھی مشکل ہو کبھی ہمت نہ ہارو
جب میں مشکل سے لڑا تو کچھ ہوا تو نہیں مجھے مگر میں جیت بھی نہ سکا نہ پوچھ کے میری منزل کہاں ہے ابھی تو سفر کا ارادہ کیا ہے نہ ہاروں گا حوصلہ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں نے کسی اور سے نہیں خودسے وعدہ کیا ہے مشکل کی راہ پر جو چلتا ہے وہی دنیا کو بدلتا ہے جس نے اندھیرے سے جنگ جیتی ہے سورج بن کر وہی چمکتا ہے
رکھ حوصلہ وہ منظر بھی آئے گا پیاسے کے پاس خود سمندر چل کے آئے گا
یہ زمین پر بیٹھ کر کیوں آسماں دیکھتا ہے بھروسہ اگر اللہ پر ہے جو آپ کی تقدیر میں لکھا وہی پائےگا
لیکن بھروسہ اگر خود پر ہے اللہ بھی آپ کی تقدیر بدل دے گا
بجھی شمع بھی جل سکتی ہے طوفان سے کشتی نکال سکتی ہے
ہو کے مایوس یوں نہ اپنے ارادہ بدل کیوں کہ تیری قسمت کبھی بھی بدل سکتی ہے
جیت کے خاطر دل میں جنون چاہیے جس میں ابال ہو ایسا خون چاہئے
یہ آسماں بھی آئے گا زمین پر بس ارادہ ہو دم چاہیے۔کوشش کے باوجود بھی ہو جاتی ہے کبھی ہار
ہو کر نیراش تو مت بیٹھ میرے یار
منگل، 21 دسمبر، 2021
پیشہ
پیشہ
تاریخی طور پر تین پیشے اپنی الگ شناخت رکھتے تھے ؛ وزارت، طب اور قانون۔ ان تینوں پیشوں کے اپنے دستور آداب تھے (ہیں) جن پر ان پیشوں میں داخل ہونے والوں کو اقرار نامہ یا حلف اٹھانا لازمی ہوتا ہے۔ اور اسی حلف برداری یا اعتراف نامہ اٹھانے یعنی professing کی وجہ سے انکو profession کہا گیا۔ اس کے علاوہ ان تینوں میں ہی اعلی تعلیم، خصوصی معلومات، اخلاقیات کا معیار اور خدمت اہم ترین عناصر میں شمار ہوتے ہیں۔
اب تک کے بیان سے یہ بات واضع ہوچکی ہے کہ کسی شعبہ حیات کو پروفیشن اس وقت کہا جاتا ہے جب کم از کم اس میں مشق، تعلیم، خصوصی معلومات، حاصل کردہ سند اور حلف برداری جیسے عناصر شامل ہوں۔ جبکہ ایک پیشے کے ليے ان تمام عناصر کی ضرورت نہیں ہوا کرتی اور اگر کوئی صرف مشق کرکے اور سیکھ کر کوئی بھی روزگار حیات اختیار کرتا ہے تو ہم اس کو پیشہ ہی کہتے ہیں، اسی وجہ سے مضمون کی ابتدا میں اس بات کی وضاحت درج کردی گئی ہے۔
پیر، 20 دسمبر، 2021
انسان کا مقصد حیات
اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو بے
شمار نعمتوں سے نوازاہے،خلقِ آدم ؑسے لے کر قیامت تک آنے والے بندۂ اخیر تک
اللہ تعا لیٰ کی نعمتوں کا لازوال سلسلہ اپنے بندوں پر جاری رہے گا،ایسی نعمتیں کہ
جن کا استحضار و احاطہ کرنا بھی عقل انسانی کے بس میں نہیں,
مسلمان کی زندگی کا مقصد صرف رضائے الٰہی ہے اور
مومن کی زندگی کا مقصد بھی یہی ہے کہ رب کائنات اس سے راضی ہو جائیں اور اس کا
طریقہ قرآن و سنت پر عمل ہے قرآن و سنت پر عمل کے بغیر زندگی بے کار ہے دنیا جہاں
کی نعمتیں اور آخرت کے انعامات اس راستے پر چلنے میں ہیں جو اللہ تعالی اور اس کے
پیارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں بتایا ہے اور ہمارے لئے سب
سے بڑی آسانی ہے کہ آخرت کے امتحان میں آنے والے تمام سوالات کا ہمیں علم ہےہمارا
عقیدہ ہے کہ اسلام وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی نوعِ انسان کی حقیقی
ہدایت و فلاح کے لیے متعین کردیا ہے، جب ہم بنظر غائر جائزہ لیتے ہیں تو
پتاچلتا ہے کہ کائنات ہستی اور اس کا ایک ایک وجود بلا شک و شبہ با مقصد تخلیق کیا
گیاہے ۔
موجودات عالم کاکوئی ذرہ ایسا نہیں جس کی پیدائش عبث اور
بے مقصد ہو۔ خود قرآن حکیم اس حقیقت کی شہادت یوں دیتا ہے :
وہ جو اٹھتے ،بیٹھتے اور لیٹتے (ہر حال میں )اللہ کو یاد
کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں (وہ بے ساختہ پکار
اٹھتے ہیں کہ ) اے ہمارے رب ! تو نے یہ (سب کچھ) بے کار اور (بے مقصد ) پیدا نہیں کیا۔
اتوار، 19 دسمبر، 2021
کامیاب لوگ
کامیاب لوگ....
ایک
کامیاب انسان کیسے سوچتا ہے؟
کیا
آپ نے کبھی سوچا ہے۔ کہ جب آپ صحیح سے کوئی کام نہیں کر پاتے۔
تو
وہاں! آپ بڑے آرام سے بول دیتے ہو کہ میں بیمار تھا، مجھے کہی جانا تھا، اس
لیے میں سکول نہیں آپایا۔
آفس
وقت پر نہیں آپایا کیوں کے بارش بہت تھی۔
تو
آفس میں اور سکول میں ہر کوئی آپ کی بات مان سکتا ہے۔
لیٹ
آنے پر آپ کو معاف کر سکتا،
سکول
میں کام نہ کرنے پر بھی معافی مل سکتی ہے۔
جب
آپ کوئی بھی کام کرتے ہو، اس میں آپ کی غلطی معاف بھی کی جا سکتی ہیں۔
کہ
اگلی بار ٹھیک سے کام کرنا۔
لیکن!
ہفتہ، 18 دسمبر، 2021
مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند
مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند
تقویمِِ روزگار پر نگاہ عمیق ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ
کرّاتِ ارضی اور سیّارگانِ فلک اور شش جہات میں موجود اشیائے عالم امکان ہمیں
ضوابط کے اسیر نظر آتے ہیں۔
جمعہ، 17 دسمبر، 2021
حمد باری تعالیٰ
حمد باری تعالیٰ
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
سورج کے اجالوں سے ، فضاوں سے ، خلاء سے
چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیاء سے
جنگل کی خموشی سے ، پہاڑوں کی انا سے
پُر ہَول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے
بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے
مٹی کے خزانوں سے ، اناجوں سے ، غذا سے
برسات سے ، طوفان سے ، پانی سے ، ہوا سے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
گلشن کی بہاروں سے ، تو کلیوں کی حیاء سے
معصوم سی روتی ہوئی شبنم کی ادا سے
لہراتی ہوئی بادِ سحر ، بادِ صبا سے
ہر رنگ کے ، ہر شان کے ، پھولوں کی قبا
سے
چڑیوں کے چہکنے سے ، تو بلبل کی نوا سے
موتی کی نزاکت سے ، تو ہیرے کی جلا سے
ہر شے کے جھلکتے ہوئے فن اور کلا سے