اتوار، 19 نومبر، 2023

اسرائیل دہشت گرد درندہ ہے۔

اسرائیل دہشت گرد درندہ ہے۔
اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہےوہاں انسان نہیں درندے بستے ہیں جو کتے اور خنزیر سے بدتر ہے جن میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔
یہ وہی شیطان کی اولاد ہے جن کو ہٹلر نے نشان عبرت کے لیے چھوڑا تھا یہ وہی احسان فراموش قوم ہے جو جرمنی سے نکالے جانے کے بعد در در کی ٹھوکریں کھاتاہوا مارا مارا پھر رہا تھا تو فلسطینیوں نے ان پر ترس کھا کر اپنے وطن میں پناہ دی تھی اور آج وہی اسرائیلی کتوں نے فلسطینیوں سے زمین چھین لی اور ان پر زمین کو تنگ کر دیا ان سے آزادیاں چھین لی اور جب برسوں سے ستائے ہوئے مظلوم فلسطینیوں  نے اپنے وجود کی بقا اپنی زمین کی ازادی اور حقوق کی ازادی کے لیے آواز اٹھائی اقدام کیا تو انسانی دشمنو اور ایوان باطل میں کھلبلی مچ گئی کفر میں کہرام برپاہو گیا شیطانوں میں قیامت آ گئی اور دہشت گردوں نے اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے والوں کو دہشت گرد قرار دیکر غزہ پٹی پر وہ قہر ڈھایاکہ انسانیت شرما گئی زمین پھٹ پڑی آسمان رو پڑا گلی کونچے سے چیخ و پکار، آہو بکا کی آواز آرہی ہے اور حقوق انسانی کی بات کرنے والے مر گئے حقوق نسواں پر زاغ الاپنے والوں کی منہ بند ہے۔


کہاں ہو مغرب میں انسانی حقوق کی بات کرنے والو ،

 کہاں ہو مشرق وسطیٰ میں انسانیت کا دم بھرنے والو ،

 کہاں ہو اسرائیل اور امریکہ کے اشاروں پر کٹ پتلی کی طرح ناچنے والے اقوام متحدہ ،

کہاں ہو اسلام اور مسلمانوں کے دم بھرنے والے 57 اسلامی ممالک کی او ائی سی،

کہاں ہو ایٹمی طاقت کا نمائش کرنے والے پاکستانیو،

کہاں ہو سپر پاور امریکہ اور نیٹو فوج کو دانتوں تلے چنے چبوانے والے طالبانو،

 کہاں ہو ایٹم بم اور میزائلوں کا ذخیرہ رکھنے والے ایرانیو،

 کہاں ہو پاور اور شکتی کا پردشن کرنے والے ترکیو،

 کہاں ہو عرب ممالک کے ضمیر فروشو،

تم مر چکے ہو یا تمہارے ضمیر مر چکے ہیں،

آؤ غزہ پٹی میں دیکھو اسرائیلی دہشت گرد اور امریکی درندوں نے انسانیت کاکتنا ننگا ناچ کیاہے،حماس، حزب اللہ، حوثی سے جنگ لڑنے کے بجائے وہاں کے عام شہری معصوم بے گناہ انسانوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام کررہا ہےجنگی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عام شہری کے عمارتوں اسپتالوں اور اسکولوں اور پناہ گزینوں پر بمباری کر رہا ہے کھانا پانی بجلی اور زندگی کے تمام سہولیات کو بند کر کے انسانوں کو بھوک ،پیاس سے تڑپ تڑپ کر مرنے پر مجبور کردیا ہے۔
اسرائیل اور امریکا درحقیقت آتنگ واد ،دہشتگرد، فسادی،غاصب، درندہ، خونی، قاتل ہے۔
جو انسان اور  مانوتاکے لیے کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے جن کے محض خاتمے سے ہی دنیا کے اندر امن و آشتی آ سکتی ہے
اس لیے اے دنیا والو !
اے مانوتا اور انسانیت کا دم بھرنے والو !
آنکھیں کھولو مظلوم فلسطینیوں کو دیکھو،
ان کے آہ و بکا کو سنو،
ان کو ان کی زمین واپس کراؤ،
ظالم و جابر اسرائیلی درندوں کے پنجوں سے انہیں آزاد کراؤ!
بہت ہو گیا مذہب کو چھوڑ کر مانو تا کے پلیٹ فورم پر آجاؤ غزہ کے معصوم بچے اور بے گناہ عورتیں تمہیں اواز دے رہی ہیں جاؤ انسانیت کو بچا لو۔

حسبنا الله ونعم الوكيل نعم المولى ونعم النصير 

پیر، 17 جولائی، 2023

Speech on independence day

السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين محمد وآله وأصحابه أجمعين ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين. أمابعد
معزز اساتذہ اکرام، نوجوان دوستوں اور ہم وطن ساتھیوں!
جب گلستاں کوخوں کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے یہ اہلِ چمن،
یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں
آج ملک بھر میں 76/واں یومِ آزادی independence day منایاجارہا ہے۔ ہم سب اِس سے واقف ہیں کہ کس طرح ہندوستان انگریزوں کے ظلم و ستم، جابرانہ پالیسیوں اور غلامی کی زنجیروں سے ۱۵/اگست
1947ء کو آزاد ہوا۔ آزادی کے متوالوں نے بلند حوصلوں کے ساتھ کیسی کیسی قربانیاں پیش کیں۔ مجاہدینِ آزادی کی سخت جدوجہد کے بعد ہمیں آزادی جیسی نعمتِ عظمیٰ حاصل ہوئی_
دوستوں! لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان آج بھی صحیح معنوں میں آزادی کا منتظر ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ ملک میں غریب، مزدور، خواتین، دلِت اور مسلمان محفوظ نہیں ہیں آئے دن ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔کہیں تو دلتوں کو اچھوت سمجھ کر پیٹا جا رہا ہے کہیں مسلمانوں کو گائے کے نام پر مارا جا رہا ہے گویاانسان کی جان سے زیادہ اہمیت جانور کی ہوگئی ہے۔
آج ہم آزادی کے بعد 76/سال کا سفر طے کر چکے ہیں لیکن آج اِس ملک کی تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے مسلمانوں کے اثار کو مٹایا جا رہا ہے اور آزادی کے حقیقی ثمرات سے ہندوستانی عوام محروم دکھائی دے رہی ہے_
جدوجہد آزادی کے معماروں نے ہندوستان کو جس راہ پر گامزن کرنے کا خواب دیکھا تھا، اُس راہ سے ہندوستان نے خود کو الگ کر لیا ہے اور اب عالمی طاقتوں کا آلہ کار بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اب بھی تشنہ جواب ہے کہ کیا واقعی آزاد ملک کا خواب پورا ہوا ہے؟ آزاد ہندوستان کا خواب اُسی وقت پورا ہوگا جب پورا ہندوستان ترقی کرے گا۔ پسماندہ افراد کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔دبے کچلے مجروح اور پچھڑے ہوئے لوگوں کو ‘مین اِسٹریم’ میں لایا جائے گا۔ ہم اکثر اپنے ماضی کی حصولیابیوں پر اِنتہائی مسرت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن اُن کامیابیوں پر مطمئن ہوجانا غلط ہوگا۔
دوستوں! آزادی کا مطلب ہر شخص کوکھلی فضا میں سانس لینے کا حق ہے۔ہر ایک کو اپنے اپنے مذہب و ملت پر چلنے کا کلی اختیار، آزادی ایک بیش بہا نعمت، قدرت کا بیحد انمول تحفہ اور زندگی جینے کا اصل احساس ہے۔ اِس کے برعکس غلامی و عبودیت ایک فطری برائی، کربناک اذیت اور خوفناک زنجیر ہے۔ اِس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ جس طرح معاشرے میں شخصی آزادی نہایت اہم ہے اُس سے کہیں زیادہ اجتماعی آزادی کی اہمیت و ضرورت ہے۔ یا یوں کہئے کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اِس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز نہیں اور اِس کی حفاظت ہماری اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔
جشن آزادی کی تقریب میں شریک ہم وطن ساتھیوں!
یومِ آزادی ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب الوطنی کے جذبہ سے بھرپور ایک خاص دن ہے۔ برطانوی تسلط سے آزادی ہندوستان کی عوام نے طویل جدوجہد کے بعد حاصل کی تھی۔ پندرہ اگست ملک کے یومِ آزادی کے طور پر ہی نہیں بلکہ اِسی اجتماعی جذبے کو یاد کرنے کیلئے منایا جاتا ہے۔ ہندوستان کے سَوا سَو کروڑ عوام کو سوچنا چاہئے کہ جشنِ آزادی محض ایک رسم کا نام نہیں ہے بلکہ آزادی کے بعد سے اب تک ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا، اپنی قومی پیش رفت، ترقی و بہبود کی رفتار، آزادی کے ممکنہ ثمرات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ملک کی سالمیت کی بقاء کے سلسلے میں اپنی کاوشوں کے محاسبہ کا نام ہے۔ یومِ آزادی دراصل خود احتسابی کا دِن ہے۔ آج ہم یہ عہد کریں کہ جس طرح ہم سب نے مِل کر ملک کی آزادی حاصل کی ہے اُسی حوصلہ و جذبہ سے