مسلمانوں کی اجتماعی فضول خرچیوں کےچند مظاہر:
١- بڑے بڑے جلسے۔
٢- مشاعرے۔
٣- مسجدوں کی سجاوٹ۔
٤- شادیوں کے بے جا رسوم و رواج اور جھوٹی نمائش۔
٥- قوم اور مدرسوں کے نام پر لوٹنے والوں کو بغیر تحقیق کے دیا جانے
والا چندہ۔
٦- پیشہ ور مانگنے والوں کو دیا جانے والا مال۔
٧- پیشہ ور خطباء و شعراء کو دیا جانے والا مال۔
نوٹ
موجودہ دور میں یہ رواج ہو گیا ہے ہر گاؤں ہر محلے
میں عوامی پیسوں کو جھوٹی شہرت کے لیے اصلاح امت اور دینی بیداری کے نام پر جلسوں
اور مشاعروں میں پانی کی طرح بہادیتے ہیں جو اسمهما اكبر من نفعهما کے مترادف ہے اور اس طرح کثرت سے موسمی جلسوں کا رواج شاید دور نبوی
میں نہیں تھا۔
حفیظ میرٹھی نے کیا خوب کہا ہے۔
تقریر سےممکن ہےنہ تحریر سےحاصل
وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے۔۔۔
یہ ناچتی گاتی ہوئی اس دور کی تہذیب
کیا جانے کس کرب کا اظہار کرے ہے۔
البتہ مدارس اسلامیہ اس سے مستثنی ہیں۔
وہ مقامات جہاں خرچ کرناوقت کی اہم ضرورت ہے:
١- مسجدوں میں لائیبریریوں کا قیام، عورتوں اور بچیوں کی اسلامی رہنمائی
کیلئے کم از کم ہفتہ واری مجلسوں کا قیام۔ ورنہ ارتداد آپ کے گھروں سے شروع ہوگا۔
٢- مکاتب کے نظام کو مضبوط کرنا۔
٣- مکاتب میں باصلاحیت عالم باعمل کو تمام تر سہولیات کے ساتھ بحال کرنا
جو بچوں کو تمام تر بنیادی علوم سے آراستہ ومزین کر سکے۔
٤- بطور خاص لڑکیوں کیلیے عصری و اسلامی تعلیم گاہوں کا قیام۔ ( تاکہ
انہیں حجاب کے نام پر ذلیل نہ ہونا پڑے(
٥- مدرسہ البنات میں نادار بچیوں کی تعلیمی فیس میں تخفیف تاکہ علوم
دینیہ امیر بچیوں پر محدود نہ ہو۔
٦- علاقائی سطح کے مدارس اور دیگر اسلامی اداروں کو با ہدف اور با مقصد
بنانے پر زور اور ان کی کفالت۔
اور کچھ رہ گیا ہو تو آپ اپنی جانب سے اضافہ کر سکتے
ہیں۔
بدھ، 23 مارچ، 2022
مسلمانوں کی اجتماعی فضول خرچیوں کےچند مظاہر:
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔